Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 15 of 24
اس دور میں مولانا محمد علی جوہر لوگوں کے ذہنوں میں اور سیاست پر چھائے ہوئے تھے، ابوالکلام آزادلوگوں کے ذہنوں پر چھایا ہوا تھا، مولانا شوکت علی لوگوں کے ذہنوں پر چھاگئے ۔ مولانا عبد الباری فرنگی محلی لوگوں کے ذہنوں پر چھا گئے ۔ نہرو، گاندھی یہ سب لوگوں کے ذہنوں پر چھا گئے کہ انگریز کو یہاں سے نکالا جائے۔ لیکن اس نعرہ ہند و مسلمان بھائی بھائی کے بہت سے مضر اثرات ہوئے ۔ مسلمان بے روزگار ہونے لگ گئے ۔ مسلمانوں نے نوکریاں چھوڑنی شروع کر دیں ۔ اپنے اعزازات واپس کر دیئے اور سب سے بڑا بھیانک نتیجہ یہ نکلا کہ ہندؤوں اور مسلمانوں میں شادیاں شروع ہو گئیں ۔ اس زمانے میں وہابیہ نے بڑا شاندار کردارادا کیا انہوں نے یہ کہا کہ جب قربانی کا موقع آتا ہے عید الاضحیٰ میں ہم جو گائے ذبح ۔کرتے ہیں ، گائے ذبح کرنے سے ہندوؤں کو تکلیف ہوتی ہے ۔ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ گئو ہماری ماتا ہے وہ اس کو خدا مانتے ہیں۔ ہندوؤں میں ایک طبقہ ایسا ہے جس کے تصور سے ذہن میں گھن آتی ہے وہ گائے کا پیشاب بطور تبرک کے پیتا ہے اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ہندوؤں کا وہ طبقہ جو گائے کو گئو ماتا کہتا ہے اگر گائے کسی ایسے ہندو کے دروازے پر پہنچ جائے تو جناب وہ کیا کرتا ہے؟ کہ وہ ایک برتن پہلے سے تیار رکھتا ہے، پہلے گائے کی ضیافت ۔کرتا ہے فوراً ایک برتن تیار کر کے اس کے سامنے کھڑا ہو جائے گا کہ گئوما تا صاحبہ ہمارے اس برتن سے کچھ کھالے تو ہمیں برکت ملے گی اور اگر گائے نے کھاتے کھاتے پیشاب شروع ۔کر دیا تو ہندو برتن لگا دے گا اور برتن لگانے کے بعد اب یہ گائے کا پیشاب لا کر پھر اس پیشاب کو اپنے مکان میں تبرک کے طور پر چھڑکتا ہے۔ مٹھائی کی دکان والا بھی اس تبرک کو ساری مٹھائی کی پلیٹوں پر چھڑ کتا ہے۔ پر چون والا سارے پر چون پر چھڑکتا ہے۔ مختلف دکاندار ۔گائے کے پیشاب کو بطور تبرک مختلف طریقوں سے اپنی دکانوں میں استعمال کرتے ہیں ۔ غرض کہ وہابیہ نے فتویٰ دیا لوگوں گائے کو ذبح نہ کرو اس سے ہمارے بھائی ہندو کو تکلیف ہوتی ہے اس طرح انہوں نے اپنی ہندوؤں سے محبت اور وابستگی کا ثبوت دیا۔
۱۸۹۷ء میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجددِ دین و ملت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی اپنے شباب کے عالم میں تھے جب دیکھا کہ ہندو مسلمان ایک ہوئے جا رہے ہیں، نکاح ، شادی بیاہ ہوئے جا رہے ہیں آپ نے اپنا مذہبی فریضہ انجام دیتے ہوئے پٹنہ (Patna) میں سنی ۔کانفرنس کرنے کے بعد دو قومی نظریہ (Two Nation Theory) سب سے پہلے امام اہلسنت ﷫نے پیش کیا اور اس میں امام اہلسنت نے واہ شگاف آواز میں اعلان کیا
لباس خضر میں یہاں سینکڑوں رہزن بھی پھرتے ہیںاگر جینے کی خواہش ہے تو کچھ پہچان پیدا کر
’’میرے عزیز مسلمانوں ! ہندو الگ قوم ہے اور مسلمان الگ قوم ہے اور سنو ہمارے سر کار جناب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَّاحِدَةٌ ، كفر ملتِ واحدہ ہے‘‘ ۔ کفر اگر برطانیہ کا ہو کفر ہے، کفر اگر امریکا کا ہے تو کفر ہے، کفر اگر ہندوستان کا ہے تو کفر ہے کیونکہ کفر ایک ملت ہے ۔ یہ مت سمجھنا کہ امریکا کا کفر اور ہے یہاں کا کفر کچھ اور ہے۔ تم نے ہندوستان کے کفر ۔کو اختیار کر لیا ہے یہاں ہندو سے تم نے صلح کر لی اور یہ سمجھے کہ انگریز حکومت دے کر جائے گا نہیں ایسا نہیں‘‘۔
۔گاندھی اور اسکی ذریّت بھی یہی چاہتی تھی کہ مسلمانوں سے مدد لے کر انگریزوں کو بھگا دیا جائے اور اکثریت میںتو ہندو ہیں یہ تمام سیاست پر اور پورے ہندوستان پر چھا جائینگے اور مسلمانوں ۔کو دوبارہ سے کچل دیا جائے گا۔مگر مولانا شوکت علی نہیں بھانپ پائے۔ مولانا عبدالباری اس ۔کو نہیں بھانپ پائے، دیگر علماء وزعماء اس کو نہیں بھانپ پائے مگر اس میں شک نہیں کہ اس معاملے میں یہ سب کے سب مخلص تھے کہ مسلمانوں کو آزادی ملنی چاہیے مگر ان کا سیاسی نقطہ نظر غلط تھا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا محمد علی جوہر بریلی شریف آئے ۔ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان ﷫سے ملاقات کی اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے فرمایا’’ مولانا ! آپ کی سیاست میں اور ہماری سیاست میں بڑا فرق ہے۔ آپ ہندو مسلم اتحاد کے حامی ہیں اور میں مخالف، یعنی ہماری سیاست یہ ہے کہ پورے ہندوستان کے سنی مسلمانوں کو ایک جگہ کیا جائے اور آپ کی سیاست یہ ہے کہ ہندو مسلمان مل کر انگریز کو بھگائیں اس لیے ہماری آپ سے نہیں بنے گی‘‘۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے بھی اپنی کتاب ”علماء ان پالیٹکس‘‘ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ اور اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کا اتحاد ہو تو یہ لیجیے (اس غربت کے دور میں جس زمانہ میں پیسے کی بڑی ویلیو تھی اپنی جیب خاص سے اعلیٰ حضرت ﷫نے ) پچاس روپے مولانا محمد علی جو ہر کو چندہ دیا کہ لیجیے مسلمانوں میں اتحاد قائم کیجیے ۔ اکھنڈ بھارت کو چھوڑیے ۔ پس امام اہلسنت نے ۱۸۹۷ء میں دو قومی نظریہ پٹنہ سنی کانفرنس میں پیش کر دیا ۔ پس اعلیٰ حضرت نے جو یہ دو قومی نظریہ پیش کیا تاریخ گواہ ہے کہ دو قومی نظریہ جو ڈاکٹر اقبال نے۱۹۲۱ء میں الٰہ آباد کے جلسے میں پیش کیا کہ میرے ذہن میں ایک نقشہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک الگ مملکت ہونی چاہیے جو مسلم آبادیاں ہیں وہ مسلمانوں کو مل جائیں جہاں ہندو ہیں وہ علاقے ہندوؤں کے زیر اثر آجائیں۔
Share:
keyboard_arrow_up