غور فرمائیے کہاں ۱۸۹۷ء اور کہاں ۱۹۲۱ء کا اجلاس جہاں یہ نقشہ پیش کیا گیا۔ اس معاملے میں علامہ اقبال ، اعلیٰ حضرت سے پیچھے ہیں اور اعلیٰ حضرت نے تو ۱۸۹۷ء میں ہی یہ نظریہ پیش کر دیا تھا اور اس زمانہ میں پیش کیا جس زمانے میں بانی پاکستان محمد علی جناح بھی ہندو مسلم اتحاد کے قائل تھے مولانا محمد علی جوہر اور دیگر سب اسی اتحاد کے گرویدہ تھے۔ عزیزانِ گرامی! مگر وقت نے بتایا کہ ا مام اہلسنت نے ۱۸۹۷ء میں جو نظریہ پیش کیا تمام مسلم جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور انہوں نے فیصلہ کیا خصوصاً مسلم لیگ نے اور وہ یہ تھا کہ : ”اب ہمیں انگریز سے بھی جان چھڑانی چاہیے اور ہندو سے بھی جان چھڑانی چاہیے اور مسلمان ایک علیحدہ قوم ہے اپنے ملک کے لیے جد و جہد کریں اور جب علیحدہ اپنے ملک کے لیے جد و جہد کریں گے تبھی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں“۔
عزیزان گرامی!یہ سلسلہ چلا لیکن آزادی سے پہلے مولانا محمد علی جوہر چلے گئے ۔ مولانا شوکت علی چلے گئے۔ اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کے خیر خواہ تھے ۔ جب وہ لوگ گول میز کانفرنس (Round Table Conference) لندن میں گئے تو مولانا محمد علی جوہر نے کہا ”میں تو مر کے جاؤں گایا آزادی لے کر جاؤں گا ‘‘۔ آزادی تو نہ ملی مگر ان کا راستے میں انتقال ہو گیا ۔ یہ ان کے اخلاص کا ثمر تھا کہ مولانا محمد علی جوہر بیت المقدس میں دفن کیے گئے لیکن آج ہمیں یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے کہ بیت المقدس میں ایک دو نہیں ہزاروں انبیائے کرام کے مزارات ہیں وہ بیت المقدس جو مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، وہ بیت المقدس جس میں حضور رحمت عالم ﷺ نے شب معراج امامت فرمائی اور تمام انبیائے کرام نے حضور رحمت عالم ﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھی ۔ مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے آج یہودیوں کے قبضہ میں ہے۔ نا پاک یہودیوں کے پیروں تلے وہ زمین ہے۔ دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے اس قبلۂ اول کو آزاد فرما دے۔ وہ قبلۂ اول جس کی دیواریں سر اٹھا اٹھا کر کسی سلطان صلاح الدین ایوبی کو تلاش کر رہی ہیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے سولہ برس لڑکر بیت المقدس کا ایک انچ حصہ کسی کو نہیں دیا اور آج کیل و کانٹے سے لیس مسلمان کتنی بڑی قوت بنے ہوئے ہیں۔ مگر یہودیوں نے اتنا بڑا اور مکرم خطہ مسلمانوں سے لے لیا اور محض مسلمانوں کی غفلت ۔کی وجہ سے وہ چلا گیا ۔ لیکن ضمناً میں یہاں یہ بات عرض کردوں اس کا خلاصہ میں تقریر کے آخر میں کروں گا ۔ آپ جانتے ہیں کہ بیت المقدس مسلمانوں کی غفلت سے گیا ، وہ قبلۂاول مسلمانوں کی بداعمالیوں سے گیا ۔ اگر یہی بد اعمالیاں پاکستان میں رہیں اور اگر یہی بداعمالیوں کا دروازہ اور پھاٹک پاکستان میں کھلا رہا میں آپ سے فیصلہ چاہتا ہوں بتائیے کہ کیا پاکستان بیت المقدس سے زیادہ متبرک ہے؟؟ کیا پاکستان بیت المقدس سے زیادہ مکرم و محترم ہے ؟؟ دیکھو عزیزوں ! بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھوں سے چلا گیا، مسلمانوں! اگر تم نے اپنی روش تبدیل نہیں کی ۔۔ تو خدا نخواستہ کوئی عجب نہیں کہ لاکھوں جانوں کو قربان کر کے جو پاکستان بنا ہے شاید یہ بھی تمہارے ہاتھ سے چلا جائے ۔ اگر تم نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو یہ ممکن ہے۔
تحریک آزادی کا نقشہ بدل گیا ۔ مسلمانوں کی متحدہ مسلم لیگ بنی اور اس کے قائد بغیر کسی اختلاف کے بانی پاکستان محمد علی جناح قرار پائے اور اس کے بعد ایک تحریک چلی اور ایسی زبر دست تحریک چلی کہ جس نے انگریزوں کی چولھیں ہلا دیں اور اس تحریک کو کامیاب بنانے میں سنی مشائخ و علماء کا بہت بڑا کردار تھا جن کی اکثریت ’’آل انڈیا سنی کانفرنس“ کے پلیٹ فارم سے ۱۹۲۵ء سے کام کر رہی تھی، اور ان کی ایک بڑی تعداد مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے بھی کام کر رہی تھی جن میں مجاہد ملت مولانا عبدالحامد بدایونی اور مبلغ اسلام و شارح نظریہ پاکستان علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی وغیر ہم نے سب سے نمایاں کردارادا کیا، بہر حال سنی مشائخ و علماء کی دن رات محنت اور مسلم لیگی قیادت کی رہنمائی اور کارکنان کی سعی نے عوام المسلمین کے دلوں میں آزادی اور حصول پاکستان کی ایسی جستجو پیدا کر دی کہ بڑے تو بڑے بچہ بچہ کہنے لگا کہ ’’لے کے رہیں گے پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان‘‘یہ نعرے لگنے لگے ۔ آپ کے بلوچستان کے حوالے سے تاریخ کا ایک اہم ورق موجود ہے ۔ بلوچستان کے اسکول کے کچھ لڑکوں نے اپنے خون سے رومال پر یہ نعرہ لکھ کر دیا تھا کہ ’’لے کے رہیں گے پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان‘‘ یہ چھوٹےرو مال جو جیب میں رکھے جاتے ہیں یہ بانی پاکستان کو ہندوستان میں وصول ہوئے کہ جس میں اسکول اور کالج کے لڑکوں نے اپنے خون سے یہ نعرہ لکھ کر دیا تھا۔ یعنی تحریک اس نہج پر چلی گئی تھی۔
Page 16 of 24

