Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 17 of 24
تاریخ کا ایک اہم باب یہ بھی ہے کہ ایک لڑکا کہیں دوڑ رہا تھا دوڑتے ہوئے کہیں اس کو ٹھو کر لگی ٹھوکر لگنے کے بعد بچہ رونے لگااور گھٹنے سے خون نکلنے لگا کسی ہندو نے جب اس بچہ کو دیکھا اس ہندو نے بچے پر بھپتی کستے ہوئے کہا ’’اے بچے! کیا تم بناؤ گے پاکستان! کہ اتنے ذرا سے خون سے رونے لگ گئے۔ کیا تم بناؤ گے پاکستان؟؟ بچوں کا جذبہ یہ تھا ۔ کہ بچے نے روتی ہوئی آواز ۔کو روکتے ہوئے کہا”او پنڈت، او ہند و!! او دھوتی پر شاد!!! میں اس لیے رو رہا ہوں کہ یہ خون تو میں نے پاکستان کے لیے رکھا تھا جو اس سے پہلے بہہ گیا‘‘ ۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ
مسلمانوں کے بچوں کے کیا جذبات تھے۔ اور نعرہ یہ تھا:
’’ پاکستان کا مطلب کیا ؟ ؟ لا الہ الا الله محمد رسول الله ﷺ‘‘
اس کی تفصیل کیا تھی؟؟ وہ یہ کہ پاکستان اس لیے بنے گا کہ یہاں شریعت کا نفاذ ہوگا، پاکستان اس لیے بنے گا کہ دینِ مصطفیٰﷺ کا نفاذ ہوگا، پاکستان کا مطالبہ اس لیے کیا گیا کہ پاکستان میں نظام مصطفیٰﷺ کو بر سر اقتدار لایا جائے گا۔ اب کیا ہوا ؟ اب ایک تحریک چلی، پہلے تو تھا اکھنڈ بھارت ، ترک موالات، نام نہاد ریشمی رومال وغیرہ وغیرہ یہ ساری تحریکوں کے بعد آخری دور میں تحریک اس نہج پر پہنچ گئی کہ ہندوالگ قوم ہے، مسلمان الگ قوم ، اب انگریز کو مجبور کیا جائے ۔کہ ہندؤوں کے لیے خطہ زمین الگ ہو، مسلمانوں کے لیے خطہ زمین الگ ہو، مسلم لیڈ رجولڑ رہے تھے ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ بلوچستان، پنجاب، دہلی ، فیروز پور جتنی بھی مسلم آبادیاں ہیں یہ سب کی سب پاکستان بنیں گی مگر انگریزوں نے مکاری سے مسلمانوں کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا۔ دہلی ، فیروز پور اور دیگر کئی علاقے پاکستان کا حصہ نہیں بنے ، جونا گڑھ کو ہڑپ کر لیا اور بعد میں ہندوؤں نے حیدر آباد دکن کو بھی ہڑپ کر لیا ، جو بد دیانتی ہوئی ہے وہ آپ کے سامنے ہے ۔ اسی طرح گور داس پور اور پٹھانکوٹ کے علاقے قادیانیوں کی سازش سے ہندوستان میں شامل ہو گئے ۔ غرض یہ کہ اب تحریک کا رُخ بدل گیا کہ مسلمانوں کے لیے خطہ الگ ہونا چاہیے ۔ انگریز کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ اس بھارتی حصہ کی تقسیم کرے۔
اب کیا ہوا ؟ سارے علمائے اہلسنت ایک طرف سارے بد مذہب ایک طرف۔ یہ بالکل میں ڈٹ کر کہتا ہوں کہ آج دیکھیں پاکستان بنانے کے دعوے دار کون بنتےہیں ؟؟ مولانا مودودی، مفتی محمود کی جماعت، جمعیت علمائے اسلام ، مولوی فضل الرحمٰن، مولوی سمیع الحق ، جمعیت علمائے اسلام دوسرا گروپ، جماعت اسلامی یہ سب دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے پاکستان بنایا ۔
پاکستان کس نے بنایا میں آپ کو بتاتا ہوں ۔ تاریخی حوالہ دیتا ہوں اور آپ سے گزارش کرتا ہوں ۔کہ غور سے ملاحظہ فرمائیے ۔ ہندوستان سے ایک اخبار نکلتا تھا جس کا نام تھا ”دبدبہ سکندری‘‘ یہ اخبار رامپور سے چھپتا تھا اپنی اشاعت 10 جون 1946ءمیں لکھتا ہے :’’ جب بنارس میں’’سنی کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی لاکھوں عوام کے سامنے 5000 علماء و مشائخ اہلسنت (اور پروفیسر اکرم رضا کی تحقیق کے مطابق پانچ سو مشائخ و سات ہزار علماء ) نے فیصلہ کیا ”تمام علمائے اہلسنت پاکستان کے حق میں ہیں اور ہماری یہ آواز جناح صاحب تک پہنچا دی جائے کہ جناح صاحب اور مسلم لیگ اگر حصول پاکستان کے مطالبہ سے دستبردار بھی ہو گئے تو ہم علماء اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔ علماء پاکستان کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہونگے۔ علماء کی ان کوششوں میں کیا ہوا ۔ ایک کانفرنس اپریل1946 میں بنارس میں ہوئی جس کی صدارت حضرت علامہ محدث اعظم ہند سید محمد محدث کچھو چھوی﷫نے کی ۔ حضرت محدث ۔کچھوچھوی کا یہ خطبہ اہلسنت برقی پریس، مراد آباد سے چھپ کر شائع ہوا تھا، مندرجہ بالا
Share:
keyboard_arrow_up