Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 18 of 24
کلمات اس کے آخری صفحہ پر موجود ہیں، اس سے پہلے ایک’’ سنّی کانفرنس‘‘1935ء میں بدایوں میں ہوئی اس کی صدارت کے لیے حضرت علامہ امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری﷫ تشریف لائے ۔ اس کے بعد میں پھپوند ایک مقام ہے ہندوستان میں وہاں ایک کانفرنس ہوئی جو حضرت محدث کچھو چھوی﷫ کی صدارت میں ہوئی ۔ اس کا نام بھی’’سنی کانفرنس“ تھا۔
1946ء میں ایک سنی کانفرنس اجمیر شریف میں ہوئی ۔ جس کی صدارت سید آل رسول دیوان﷫نے فرمائی ۔ جو اس زمانہ میں خواجہ خواجگان خواجہ غریب نواز کی اولادوں میں سے تھے۔ یہاں ان تمام کانفرنسوں میں پاکستان بننے کی قراردار منظور ہوئی۔ اس کے بعد شاہجہان پور، UP میں مئی 1946ءمیں ایک سنی کانفرنس ہوئی ۔ اس کے بعد ایک سنی کانفرنس ۱۲۔۱۳؍ اکتوبر ۱۹۴۶ء کو عیدگاه بندر روڈ، کراچی کے وسیع میدان میں حضرت علامہ مولانا غلام رسول قادری﷫ کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ اُن کے مزار کو رحمت و رضوان کے پھولوں سے بھر دے۔ ان کا مزار سولجر بازار کراچی میں ہے۔ اس کانفرنس میں ہندوستان سے حضرت علامہ عبدالحامد بدایونی﷫بھی شریک ہوئے اور سندھ کے نامور علماء ومشائخ نے اس میں شرکت کی ۔ اس طرح کی کانفرنسیں ہوئیں تو اہلسنت نے ہندوستان میں ایک تہلکہ مچا دیا۔اس کے بعد اب بد مذہبوں کو کیا سو جھی۔ ان کا سرخیل کوئی مولوی غیرت مند ہو تو جواب دے اور یہ کہے کہ ہم جھوٹ بولتے ہیں۔ اگر اس میں ذرّہ برابر جرأت ہے تو ہمارے بیان کو غلط ثابت کر کے بتائے۔
مسلمانوں کا نقطہ نظر یہ تھا مسلمان الگ قوم ہے اور ہندوالگ قوم ہے۔ ہماری قوم مذہب سے ہے، ہم مسلمان ایک ملت ہیں ۔ چاہے کہیں کے بھی ہوں اور دیوبندیوں کے سرخیل نے کیا فتویٰ دیا ؟؟ کہ یہ بات غلط ہے کہ ملت مذہب سے ہے بلکہ ملت وطن سے ہے ۔ ہند و ہمارے وطنی ہیں ایک وطن کے رہنے والے ۔ ہم مسلمان ہندوستانی ہیں، ہندو بھی ہندوستانی ہیں۔ لہٰذا ہم دونوں بھائی بھائی ہیں۔ یہ فتویٰ اتنا مشہور ہوا اگر میں آپ کو علماء کی دستاویز دکھاؤں تو آپ ۔کہیں گے یہ تو مولویوں کا جھگڑا ہے۔ سنیے ڈاکٹر اقبال نے کہا:
عجم ہنوز نداند رموز دیں ورنہز دیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی استسرود برسر منبر کہ ملت از وطن استچہ بے خبر از مقام محمد عربی است
دیوبند کا اتنا بڑا عالم جسے حسین احمد مدنی کہتے ہیں منبر رسول پر بیٹھ کر یہ کہتا ہے ملت وطن سے ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ بد بخت مقامِ مصطفیٰ ﷺ سے بے خبر ہے ۔ میں کہتا ہوں ملّت مذہب سے ہے۔ اس میں ڈاکٹر اقبال نے کلیۃً اہلسنت و جماعت کے علماء کی ترجمانی کی ۔
مولوی حسین احمد مدنی دیوبندی کے اس فتویٰ کے بارے میں تحریک پاکستان کے رکن ممتاز مؤرخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی بھی سنیے جو انہوں نے اپنے ایک یادگار انٹرویو میں کہا، چنانچہ ایڈیٹر لکھتے ہیں: ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے تحریک پاکستان میں علماء، طلباء، تاجروں اور سیاستدانوں کے کردار کا اجمالی تذکرہ کرتے ہوئے کہا علماء کی دو جماعتیں تھیں، ایک پاکستان کے حق میں تھی اور دوسری پاکستان کی مخالفت میں ۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اور مولانا حسین احمد مدنی (دیوبندی) کے درمیان مخالفت کی ابتداء اس وقت ہوئی جب ۱۹۳۸ء میں دہلی کی جنگل والی مسجد میں تقریر کرتے ہوئے مولانا حسین احمد مدنی نے کہا کہ دنیا میں جتنی بھی قو میں بنتی ہیں ان کی بنیا دوطنیت ہے ، مذہب نہیں، چونکہ یہ بات علامہ اقبال اور اسلام کے فلسفے سے متصادم تھی لہٰذا علامہ اقبال نے وہ مشہور شعر کہے۔
Share:
keyboard_arrow_up