Takhleeq e Pakistan Me Ulama e Ahlesunnat Ka Kirdar

Total Pages: 24

Page 19 of 24
اور انجمن طلبہ اسلام کراچی کی جانب سے فاضل بریلوی﷫کی یاد میں منعقد ہونے والے ایک مذاکرے میں انہوں نے کہا کہ جس نازک دور میں جب مسلمان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے ، مولانا حسین احمد مدنی(دیوبندی) نے دہلی کی مسجد میں یہ کہا کہ مسلمان اور ہندو ایک قوم ہیں کیونکہ قو میں اوطان سے بنتی ہیںتو علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں اس نظریہ کا فورًاردّ کیا۔
سر دو بر سر منبر کہ ملت از وطن است چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است
انہوں نے کہا کہ ملک، وطن، ثقافت، زبان، قومیت کی بنیاد نہیں، بلکہ ملت عقیدے اور ایمان سے بنتی ہے اور ایمان مقام یا رنگ ونسل کا پا بند نہیں ہے ۔
پھر کچھ لوگ حسین احمد دیوبندی کے ہم مسلک کہتے ہیں کہ ڈاکٹر اقبال اور حسین احمد دیوبندی کے مابین آخر وقت میں مفاہمت ہوگئی تھی ، یہ بالکل غلط ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ عزیزان گرامی ! جب بھارت میں تہلکہ مچ گیا ۔ سارے بد مذہب سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ انگریز چلا جائے گا لیکن کوشش کرنی چاہیے کہ انگریز متحدہ ہندوستان رکھے ۔ اقتدار کانگریس کو دے کر جائے۔ لیکن ہوا یہ کہ جب یہ تحریک علماء اہلسنت کی بہت عروج پر چلی حتیٰ کہ تمام علماء دیوبند کو یہ یقین ہو چلا تھا کہ پاکستان بن جائے گا۔ انہوں نے یہ کیا کہ اپنے دو تین مولوی مسلم لیگ میں چور دروازے سے بھیج دیے۔ وہ کون تھے؟؟۔ مولوی شبیر احمد عثمانی چور دروازہ سے مسلم لیگ میں آئے ، اس کے علاوہ مولوی ظفر احمد انصاری ۔انہوں نے یہ طے کیا کہ اگر پاکستان بن گیا تو ہماری واہ واہ بھی ہو جائے گی کہ علماء دیوبند بھی تحریک آزادی میں شامل ہیں اور اگر پاکستان نہیں بنا تو ہم تو ہیں ہی ہندوستانی ۔
جب تحریک چلی تو دیوبندی مولوی مفتی محمود احراری احرار کا لیڈر، حبیب الرحمٰن لدھیانوی ۔کیاکہتے ؟ پوچھو آج مولوی فضل الرحمٰن سے جو جمعیت علمائے اسلام کے قائد ہیں پوچھو کیا تمہارے ابا کے قائد نے یہ بیان دیا یا نہیں ، اس نے یہ کہا:
’’دس ہزار جناح شوکت اور ظفر نہرو کی جوتی کی نوک پر قربان کیے جاسکتے ہیں‘‘۔
احراری مفتی محمود کے ٹولے نے یہ کہا "یہ پاکستان نہیں پلیدستان“ ہے ۔ یہ’’ قائد اعظم‘‘ نہیں ”کافر اعظم“ ہے ۔ بتاؤ یہ کس نے کہا
اور یہ بات تو میرے نو جوان ساتھیوں کو شاید معلوم نہ ہو کہ ان کو تاریخ غلط پڑھائی گئی ہے کیونکہ بڑی چالاکی سے بد مذہب لوگوں نے حکومت کی خاطر مدارت کر کے اپنے پیشواؤں کے نام نصاب کی کتابوں میں داخل کر دیے اور علماء و مجاہدین اہلسنت کے کارناموں کا ذکر ہی نہیں کیا اور پاکستان کی تاریخ کو مسخ کر کے نوجوانوں کو پڑھایا گیا ۔ ایک بات یہ بھی تھی جو قومی ۔اسمبلی کے ریکارڈ میں بھی موجود ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے، جمعیت علمائے اسلام ( فضل الرحمٰن گروپ) کے قائد کے والد مفتی محمود نے قومی اسمبلی کے فلور پر یہ بیان دیا: ’’اللہ کا شکر ہے ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں ہیں“ ۔
غور کریں ! جمعیت علمائے اسلام کا قائدیہ کہہ رہا ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں ہیں ۔ پاکستان بننے کے بعد وہ اس ملک سے کس طرح وفادار ہو سکتے تھے کہ پاکستان بننے کے بعد بھی کہتے ہیں کہ ہم اس کے بنانے کے گناہ میں شریک نہیں، دوسری طرف احرار کا مشہور مولوی، وہابیوں کا بہت بڑا سر خیل عطا ءاللہ شاہ بخاری وہ تو ہندوؤں کے اتنا قریب ہو گیا ۔کہ جس کی انتہاء نہیں کہ خودان کے ہم مشرب، ہم مسلک ظفر علی خان نے جب عطاء اللہ شاہ بخاری کو دیکھا کہ اتنا بڑا احرار کا مولوی ہے اور نہرو کی دھوتی سے چمٹ گیا ہے رات دیکھو اس کے پاس ۔ دن دیکھو اس کے پاس ، اسٹیج پر دیکھو اس کے پاس تو اس نے اپنے اخبار ” چمنستان‘‘ (غالباً 1949ء کا چھپا ہوا اس کی نقل ہمارے پاس موجود ہے ) بڑا عمدہ مصرعہ کہا :
Share:
keyboard_arrow_up