لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان بنانا ایک معاشی مسئلہ تھا اسلام کی خاطر پاکستان نہیں بنا جیسا کہ 70ء میں کسی نے اخبار میں یہ بیان دیا کہ جناح صاحب نے پاکستان اس لیے بنایا کہ یہاں سوشلزم Socialism نافذ ہو، کوئی کہتا ہے جناح صاحب سیکولر ازم کے حامی تھے۔یہ ساری باتیں غلط ہیں ۔ حقیقت یہ ہے پاکستان مسلمانوں کے لیے بنا ۔ اسلامی نفاذ کے لیے بنا، اور تاریخ گواہ ہے خود جناح صاحب نے بھی بارہا اس عزم کا اعادہ کیا مگر مجھے کہنے دیجیے کہ اس پاکستان میں اسلام کا جتنا مذاق اڑایا گیا کسی اورمذہب کا نہیں اڑایا گیا ۔ پاکستان جب بن گیا بننے کے بعد اپنے وعدے کے مطابق یہ مسلم لیگ گورکھ دھندا کرنے والوں کا ٹولہ بن گئی۔ مسلم لیگ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا کہ پاکستان میں اسلام کا نفاذ ہواور بڑے بڑے لیڈروں نے کیا ۔کہا ؟ وہ یہ کہ پیر آف مانکی شریف، پیرشائستہ گل، پیرسید جماعت علی شاہ محدث علی پوریجب لیڈران کے پاس آئے کہ پوچھیں پاکستان تو بن گیا اسلام کہاں ہے؟ تم تو یہ کہتے تھے کہ پاکستان اسلام کے لیے بنا ہے ، اسلامی نظام آئے گا لیکن اسلامی نظام کہاں ہے؟ لیڈروں نے جواب دیا:
’’مولانا اسمبلی موجود ہے، اسمبلی جو پاس کرے گی وہی نظام بنے گا‘‘۔
ہمیں بے وقوف بنایا گیا کہ اسلامی نظام ہو گا، لوگوں کو اسلامی نفاذ کی خاطر کٹوا دیا گیا ۔ ایک دو نہیں بلکہ عزیز ان گرامی پاکستان بننے پر 30 لاکھ جانیں ضائع ہوئیں کیا اس کا ثمر یہ ہے کہ یہاں اسلام کا مذاق اڑایا جائے ؟ میں آپ سے پوچھتا ہوں یہ بتائیے کہ یہاں ایک گھنٹے کے لیے بھی اسلامی قانون آیا ؟ نہیں آیا ۔ صدرا یوب رہے، اسلام آیا ؟ نہیں آیا۔سکندر مرزار ہے اسلام آیا؟ نہیں آیا ۔ صدر ایوب صاحب کو جب لوگوں نے کہا ایوب کتا ہائے ہائے ، ایوب کتا ہائے ہائے تو ایوب صاحب نے اپنا اقتدار چھوڑ کر دنیا کے بدترین پاگل کے ہاتھ میں اقتدار دے دیا۔ اس بیوقوف کا نام تھا جنرل یحییٰ ۔ بقول شاعر
نام محمود ہے اور کام ہیں آزر جیسے
اس کی یہ مثال تھی ۔ یوں کہیے کہ ایوب خان نے اپنی قوم سے بدلہ لیا ۔ جب اقتدار یحییٰ خان کے حوالے کیا تو اتنا بڑا مشرقی پاکستان جو اسلام کے نام پر بچ سکتا تھا نہیں بچا، لیڈروں نے اسلام کے نام پر گفتگو نہیں کی۔ عصبیت پھیل گئی۔ قسم خدا کی وہ قتلِ عام ہوا کہ پاکستان بنتے وقت اتنا قتلِ عام نہیں ہوا جتنا قتلِ عام بنگالیوں کا بنگلہ دیش میں ہوا اور یقیناً ان پر بے انتہاء ظلم کیے گئے۔ پیپلز پارٹی کے گورنر پنجاب ٹکہ خان، وہ کہتے تھے کہ بنگال میں ہمیں آدمی نہیں زمین چاہیے ۔ نہ آدمی رہا نہ زمین رہی ۔ آپ نے دیکھا نہ وہاں پاکستانی رہا نہ وہ زمین رہی ۔ اس فوجی ایکشن کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب اسلام سے غداری کی تو جیالے اور جوانمرد 93,000 ترانوے ہزار فوج ہندوؤں کے شکنجے میں آگئی ۔ ہندو جسے خدا کہے یعنی گائے اسے تو ہم کھا جائیں تو ہندو کا کیا حال کریں گے؟ لیکن اسلام کی دوری نے ہمیں یہ دکھا دیا کہ 93,000 فوج ہندوؤں کے نرغے میں آگئی اور انہیں قید کر دیا گیا اور مشرقی پاکستان دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھ سے نکل گیا۔
پاکستان کٹنے کے بعد کیا ہم نے اپنی حالت سدھاری ؟ نہیں نہیں !! بلکہ ہم اپنا قیاس کرتے ہیں ۔کہ جس وقت مشرقی پاکستان گیا اور یحییٰ خان جب قوم سے خطاب کر رہے تھے کیا وہ تقریر آپ نے سنی ؟ وہ شراب کے نشہ میں دھت تھا اور کہتا تھا کہ ایک بارڈر Border سے ہٹنے کا نام یہ نہیں کہ ہم نے جنگ ہار لی ۔ نشے میں اس سے بولا نہیں جا رہا تھا بلکہ بکرے کی طرح چیخ رہا تھا جنگ جاری ہے، جنگ جاری ہے جس طرح بکرے کا گلہ پکڑا جائے تو جیسے وہ ٹیں ٹیں کرتا ہے ہمارا پاکستان کا صدر شراب کے نشے میں دھت پورے بنگال کے سقوط کا اعلان کر رہا تھا اور ۔کوئی شخص اسے شرم اور غیرت دلانے پر آمادہ نہ تھا ۔ مجھے بتاؤ یہ کس کے ثمرات ہیں کہ ہم نے اسلام کو چھوڑ دیا تو یہ ساری چیزیں ہمارے حصے میں آگئیں ۔
Page 22 of 24

