اب کان کھول کر سن لو! تمہارے گھروں میں VCR چلتا رہا، انڈین فلمیں چلتی رہیں ، بلو پرنٹ کی دکانیں اسی طرح مرقع اورمسجع رہیں بے ایمانی کا رواج اسی طرح رہا۔ رشوت کا رواج اسی طرح رہا ۔ دین کو اسی طرح پامال کیا گیا ۔ شریعت کو اسی طرح پس پشت ڈال دیا گیا ۔ حق اور صداقت مفقود ہو کر رہ جائے ۔ ایمان داری، دیانت داری، اپنا سر پکڑ کر رہ جائے ۔ لیڈروں کو سوائے اپنے مفاد کے کوئی اور فکر نہ ہو۔ لیڈروں کو اسلام سے زیادہ اپنی کرسی کی فکر ہو جائے اور اسلام نافذ کرنے کی حکمت عملی ہی کی تلاش رہے ۔ اب انتظار کرو کہ رب کا عذاب کب آتا ہے؟ اب انتظار کرو پاکستان کب ٹوٹتا ہے۔ اب انتظار کرو کہ پاکستان کیسے جائے گا ؟ آپ پولیٹیکل برانچ ، CIA، پولیس افسران سے معلومات کر لیں کہ کیا اس مملکت میں بانی پاکستان کے مزار کے سامنے کیا پاکستان کا جھنڈا نہیں جلایا گیا ؟ سکھر ایئر پورٹ پر کیا پاکستان کے جھنڈے کو آگ نہیں لگائی گئی ؟ کیا پاکستان کے جھنڈے کو پیروں تلے روندا نہیں گیا ؟ کیا اس پاکستان میں پاکستان مردہ آباد کے نعرے نہیں لگے ؟ کیا سندھ کو الگ کرنے کا نعرہ نہیں لگا ؟ ہندوستان کا وہ حصہ جو پاکستان سے ملا ہوا ہے کیا وہاں بھارتی سکہ نہیں چل رہا؟ کیا ہندو جو اپنی جائیداد چھوڑ کر گئے کیا وہ سندھ کے راستے پاکستان داخل نہیں ہور ہے؟
اس ملک میں جو وزیر اعظم یا صدر کے عہدے پر رہے ان سے پوچھو تم نے اسلام کی خدمت ۔کیا کی؟ ایک دور میں جب شریعت بل کا نفاذ ہوا تو کون سی انقلابی تبدیلی کا پاکستان میں آگئی ؟ کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ معلوم ہوا کہ دین اور شریعت کے ساتھ ایک ٹھٹھہ اور تمسخر ہو رہا ہے۔ سنو ! ہم علماء اس بات کے متمنی ہیں کہ ہم اقتدار کی کرسی پر صرف نظام مصطفیٰ کو دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ۔مسلم لیگ کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نے پاکستان بنایا ہے، اگر آپ نے پاکستان بنایا تو یہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو آخری موقع دیا ہے ۔ خدا کے واسطے ! اس مملکت میں اسلام کا نفاذ کرو ۔ خدا کے لیے شریعت محمدی یہاں لے آؤ۔ خدا کے لیے جو وعدہ قوم سے کیا ہے۔ اس کو پورا کرو ورنہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اور کہیں ملک کا حال وہ نہ بن جائے جوا کبرالٰہ آبا دی نے کہا کہ:
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں۔اکبر نام لیتا ہےخدا کا اس زمانہ میں
اگر یہی معاملہ عروج پر پہنچے تو لوگ کہیں گے کہ تھانیدار صاحب! ایف ، آئی ، آردرج کرانی ہے۔ ایف آئی آر یہ ہے کہ یہ ہیں وہ تین محلہ کے آدمی جو مسجد میں جا کر نماز پڑھتے ہیں، اب تو اللہ کو یاد کرنے والے کی رپٹ درج ہوگی۔ میں عرض یہ کر رہا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اسلام کے نفاذ کے لیے بنا لیکن ہم نے ، ہمارے لیڈروں نے اس سے غداری کی ہے۔ اگر اس ۔کو بچانا چاہتے ہو تو اس کا واحد حل یہ ہے کہ یہاں نظام مصطفیٰﷺ کا نفاذ ہو ، حکمرانوں کی نیتیں ۔صحیح ہوں ۔ ارباب حل و عقد خلوص کے ساتھ اس مملکت کی خدمت کریں اور ہمارا ملک ایسے قانون کا گہوارہ بن جائے کہ حضرت عمر فرماتے کہ نہر کے کنارے کوئی کتا پیا سامرگیا تو عمر ۔کو یہ فکر ہے کہ کل اللہ تعالیٰ قیامت میں مجھ سے پوچھے گا کہ عمر تیری حکومت میں کتا پیاسا مر ۔گیا اور حکومت کی گرفت لوگوں پر ایسی مضبوط ہو کہ حضرت عمر فاروق کی حکومت میں ایک ناتواں کمزور عورت سونے کا ڈیلا ہاتھ میں اچھالتی ہوئی حضرت عمر کی حکومت میں حکومت کے ایک سرے سے حکومت کے دوسرے سرے تک چلی جائے تو اس کے ہاتھ کو ۔پکڑنے والا کوئی نہ تھا۔ ایسا قانون کا دبد بہ ہو تو جناب پھر پاکستان چل سکتا ہے اور اس کے بغیر پاکستان نہیں چل سکتا اور آپ کو بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہوں اگر ہم نے اپنی روش تبدیل نہیں کی اور ہماری روش تبدیل کرنے میں حکومت کا کوئی دخل نہیں، مجھے بتائیے کہ ہم حکومت سے تو کہتے ہیں کہ اسلامی نظام لا ؤ لیکن آپ کو جب حکومت کہے گی تب آپ نماز پڑھیں گے؟ جب حکومت بولے گی تب آپ سچ بولیں گے ؟ حکومت کہے گی تب آپ روزہ رکھیں گے؟ جب حکومت کہے گی تب آپ عید کی نماز پڑھیں گے؟ ارے 195 اسلامی دفعات ایسی ہیں جو خود آپ اپنے اوپر نافذ کر سکتے ہیں۔
Page 23 of 24

