اب کہیے جماعت اسلامی کے جو لوگ کہتے ہیں ہم نے پاکستان بنایا وہ سُنیں:مودودی صاحب کی اپنی کتاب ”تحریکِ آزادئ ہند‘‘ میں تحریک پاکستان کے متعلق کیا لکھا ہے۔ مودودی صاحب سے پوچھا گیا آپ اس تحریک میں شریک کیوں نہیں ہوتے ۔ جواب سنیے:’’ آپ حضرات یہ ہرگز گمان نہ کریں کہ میں اس کام میں کسی قسم کے اختلاف کی وجہ سے حصہ نہیں لیتا دراصل میری مجبوری یہ ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ حصہ لوں تو کس طرح لوں ادھوری تدبیر میرے ذہن کو بالکل اپیل نہیں کرتی، نہ داغدوزی ہی سے کبھی مجھ کودلچسپی رہی ، اگر کوئی تعمیر پیش نظر ہوئی تو میں دل و جان سے ہر خدمت انجام دینے میں عملاً کوئی خدمت انجام دینے کے بجائے خود طالب علم کی طرح دیکھتا ہوں سوچنے والے اس جزوی اصلاح اور تعمیر کی کیا صورتیں نکالتے ہیں‘‘ کیا مطلب ہوا کہ یہ جو تحریک چل رہی ہے میں صرف ایک طالب علم کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے‘‘؟؟
پاکستان کے مشہور مؤرّخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی جو وزیر تعلیم بھی رہے اور کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی۔ وہ اور ان کے علاوہ دیگر مؤرّخین نے کہا کہ جماعت اسلامی اور مودودی صاحب نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی، میں آپ سے کہتا ہوں کہ یہ سارے دیوبندی وہابی جنہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر پاکستان کی مخالفت کی، اس سے بڑی بے شرمی ۔کیا ہوگی کہ جب پاکستان بنا تو سب یہاں آگئے ۔پاکستان کو ’’پلیدستان‘‘ کہنے والے یہاں آگئے۔’’نہرو کی جوتی پر دس ہزار جناح قربان کرنے والے یہاں رہ رہے ہیں اور باوجود مخالفت ، اب پاکستان کے ٹھیکیدار بن گئے کہ پاکستان ہم نے بنایا ہے تحریک پاکستان کو ہم نے چلایا ہے ۔ اور اب تو جناب جھوٹ اور ڈھٹائی کا عالم یہ ہے اب تو اخبارات میں ان کے مضامین تک بھی آجاتے ہیں کہ تحریکِ پاکستان میں علمائے دیوبند کا کردار ۔ مؤرّخ پاکستان علماء دیو بند مثلاً شبیر احمد عثمانی ، ظفر احمد عثمانی اور دیگر کے متعلق کہتا ہے :’’ان کی اکثریت پاکستان کے مخالف تھی ۔ وہ تو سرے سے دوقومی نظریہ کو مانتی ہی نہیں تھی‘‘۔
اب مجھے بتائیے کہ پاکستان کا بنانے والا کون؟ حقائق سے معلوم ہوا کہ پاکستان کو اہلسنت نے بنایا۔
علماء اہلسنت کی کوششوں سے پاکستان بنا۔ ریفرینڈم Refferendum کے وقت علماء اہلسنت کی کاوشوں سے نتیجہ یہ نکلا کانگریس اپنے علاقوں میں صرف %2 ووٹ حاصل کر پائی۔ دوسری طرف سرحد میں حضرت پیر آف مانکی شریف ،حضرت علامہ پیرشائستہ ۔گل ، پیر صاحب زکوڑی شریف نے بھر پور کام کیا اور یہ تحریک اپنے منطقی نتیجے پر پہنچی اور ۱۳؍اگست رات 12:00 بجے اعلان ہوا کہ یہ ریڈیو پاکستان(Radio Pakistan) ہے اور یوں پاکستان بن گیا ۔ چودہ اگست انگریزی تاریخ تھی اور کیا آپ جانتے ہیں کہ چاند کی کیا تاریخ تھی ؟ اللہ اللہ ! جس رات پاکستان بننے کا اعلان ہوا برصغیر میں اس وقت شب قدر منائی جارہی تھی۔ رمضان کی۲۷؍ ویں شب تھی اور برصغیر ہندوستان کی تقسیم اس شب میں ہوئی ۔ اصل میں شب قدر پاکستان ملنے کی رات ہے، لیکن کیا کیا جائے ۔ ہمارے یہاں اچھے بھلے پڑھے لکھے آدمی کو چاند کے بارہ مہینے یا د نہیں ۔ کیونکہ سارا نظام انگریزی معاملات کے تحت چل رہا ہے۔ ہمیں صرف 14 اگست ہی یا درہی ۔
اب یہ سوال کہ پاکستان بننے کے بعد بانی پاکستان نے سب سے پہلی نماز عید کہاں ادا کی؟ مسجد قصابان ایم اے جناح روڈ جامع کلاتھ مارکیٹ کے سامنے عید گاہ میں بانی پاکستان نے عید کی نماز پڑھی ۔نماز کس نے پڑھائی ؟ کسی دیوبندی نے؟ شبیر احمد عثمانی نے؟ مولانا مودودی نے ؟ مفتی محمود نے ؟ یا مولوی فضل الرحمٰن نے؟ نماز عید علامہ عبد العلیم صدیقینے پڑھائی اس کے دستاویز اور فوٹو ہمارے ریکارڈ میں موجود ہیں ۔ جناح صاحب ، لیاقت علی خان بڑے بڑے قومی لیڈ ر بیٹھے ہوئے ہیں اور خلیفہ اعلیٰ حضرت علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی خطبہ فرما رہے ہیں۔ عزیزان گرامی! غور کریں پاکستان بننے کے تین دن کے بعد بھی بانی پاکستان نے نماز عید اہلسنت کے امام کے پیچھے پڑھی۔
Page 21 of 24

