Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 99 of 107
حضرت ابی ابن کعب ص سے مروی ہے، رسول اﷲ ا وتر کی نماز میں سبح اسم ربک الاعلی اور قل یا ایہا الکفرون اور قل ہو اﷲ احد پڑھتے تھے ۔ ()
یقینی بات ہے کہ صحابہ کرام ثنے ان حدیثوں میں آقا ومولیٰ اکے وتر کی تین رکعتوں میں مذکورہ تین سورتیں پڑھنے کا ذکر فرمایاہے۔اس سے بھی ثابت ہوا کہ آپ وتر تین رکعت ہی ادا فرماتے تھے ۔
242 ۔عن علی قال کان رسول اللہ ﷺ یوتر بثلاث ...... قال ابوعیسیٰ وقد ذہب قوم من اہل العلم من اصحاب النبی ﷺ وغیرہم الیٰ ہذا۔
حضرت علیص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ا تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا، اہل علم صحابہ و تابعین کرامث کا یہی مذہب ہے۔()
243 ۔عن الحسن عن سعد بن ہشام عن عائشۃ ان رسول اﷲ ﷺ کان اذا صلی العشاء دخل المنزل ثم صلی رکعتین ثم صلی بعدہما رکعتین اطول منہما ثم الوتر بثلاث لایفصل بینہن ۔
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں، بے شک رسول اﷲ ا جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو گھر تشریف لے آتے پھر آپ دو رکعت پڑھتے ، ان کے بعد اور دورکعت پڑھتے جو پہلی دو رکعت سے زیادہ طویل ہوتیں ۔ پھر آپ تین رکعت وتر ادا فرماتے ، ان میں کوئی ( سلام سے ) فاصلہ نہیں ہوتا تھا ۔ ()
یعنی تین رکعت ایک سلام سے پڑھتے تھے ۔ ایسا نہیں تھا کہ دورکعت علیحدہ پڑھ کرپھر ایک رکعت علیحدہ سے پڑھیں۔
244 ۔امام حاکم رحمہ اللہ نے یہ حدیث روایت کر کے کہا ، یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ ()
غیرمقلدین کا غلط معنیٰ:
غیر مقلدین اپنے موقف پر یہ حدیث پیش کرتے ہیں،
245۔حضرت ابی ایوب صروایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اﷲ انے فرمایا : الوتر حق علی کل مسلم فمن احب ان یوتر بخمس فلیفعل ومن احب ان یوتر بثلاث فلیفعل ومن احب ان یوتر بواحدۃ فلیفعل۔
وتر حق (ثابت )ہیں، ہر مسلمان پر ۔ پس جو شخص وتر پانچ رکعت پڑھنا چاہے۔ پس چاہیے کہ پڑھے ( پانچ رکعت ) اور جوکوئی وتر تین رکعت پڑھنا چاہے۔ پس چاہئے کہ پڑھے ( تین رکعت ) اور جو کوئی وتر ایک رکعت پڑھنا چاہے ۔ پس چاہئے کہ پڑھے (ایک رکعت ) ۔ ()
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وتر پانچ بھی ہیں تین بھی ہیں اور ایک بھی ہے ۔ اور یہ بھی ثابت ہوا ، کہ ہر شخص کو اختیار ہے ، کہ وہ اپنے احوال اور اوقات کے پیش نظر چاہے پانچ وتر پڑھے ، چاہے تین پڑھے اور چاہے ایک ہی پڑھ لے ۔ ()
یہاں تک عبارت مکمل طور پر غیر مقلدین کے علامہ صادق صاحب کی کتاب صلوۃ الرسول سے نقل کی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس حدیث سے وہی کچھ ثابت ہو رہا ہے جو علامہ صاحب نے پیش کیا ہے یا کچھ اور مطلب ہے ۔
’’ اوتر ، یوتر‘‘ کے مختلف معانی آتے ہیں ،یہاں جو معنی معتبر ہے وہ معنی نہیں لیا گیا اور دوسرا معنی لے کر غلطی کا ارتکاب کیا گیا ہے ۔
آئیے ذرا مختلف معانی کی طرف غور کریں ۔
( اوتر) فلاں: صلی الوتر ، العدد : افردہ ، القوم ، جعل شفعہم وترا، والصلوۃ : وترہا ()
ایک معنی ہے’’ فلاں نے وتر ادا کئے۔ دوسرا معنی ہے ’’ علیحدہ ذکر کیا‘‘۔ تیسرا معنی ہے ’’جفت کو طاق بنایا ۔ چوتھا معنی ہے ’’ نماز کی رکعات کو طاق بنایا‘‘۔
اور بھی کئی معانی ہیں مقصد کے مطابق چند کو ذکر کر دیا ہے ۔ اب توجہ فرمائیں کہ حدیث کا صحیح معنی یہ ہے ،جو شخص پسند کرتا ہے کہ جفت رکعات کو پانچ سے طاق بنائے وہ ایسا کرے۔ اور جو شخص تین سے طاق بنانا چاہے وہ ایسا کرے اور جو شخص ایک سے طاق بنانا چاہے وہ ایسا کرے ۔
اب واضح ہوا کہ حدیث پاک کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ دو رکعت کے ساتھ ہی ایک اور ملا کر تین رکعتیں وتر پڑھنا چاہو ۔ یعنی صرف وتر پڑھنا چاہو تو وتر ہی پڑھ لواور تہجد کی نماز نہ ادا کرو ۔
Share:
keyboard_arrow_up