علامہ نیموی رحمہ اللہنے کہا، آمین بلند آواز سے کہنا نہ تو نبی کریم اسے ثابت ہے اور نہ ہی خلفاء راشدین سے ۔اور جو حدیثیں ثابت ہیں وہ ضعف سے خالی نہیں۔ ()
6 ۔وتر تین رکعت ہیں:
238 ۔عن ابی سلمہ بن عبد الرحمن انہ سأل عائشۃ کیف کانت صلوۃ رسول اﷲ ﷺ فی رمضان فقالت ما کان رسول اﷲ ﷺ یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرۃ رکعۃ یصلی اربعا فلا تسأ ل عن حسنھن وطولھن ثم یصلی اربعا فلا تسأ ل عن حسنھن وطولھن ثم یصلی ثلاثا قالت عائشۃ فقلت یا رسول اﷲ اتنام قبل ان توتر فقال یا عائشۃ ان عینی تنا مان ولا ینا م قلبی .
حضر ت ابو سلمہ ابن عبدالرحمن صسے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے سوال کیا کہ نبی کریم ا رمضان میں کیسے نما زادا کیا کرتے تھے ۔ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، رسول کریم ا رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زائد ادا نہیں فرماتے تھے۔ آپ چار رکعت (تہجد) ادا کرتے، ان کا حسن اور طوالت نہ پوچھو پھر آپ چار رکعت(تہجد) ادا کرتے پھر آپ تین رکعت (وتر) ادا فرماتے۔
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا:میں نے عرض کیا:یا رسول ا ﷲ ا! آپ وتر کے ادا کرنے سے پہلے سو جاتے ہیں تو آپ نے فرمایا: اے عائشہ! بیشک میری آنکھیں سوتی ہیں اور میر ادل نہیں سوتا ۔()
اس حدیث پاک سے تین باتیں معلوم ہوئیں۔اولاًیہ واضح دلیل ہے کہ آقا ومولیٰ ا ہمیشہ آٹھ رکعت نماز تہجد اور تین رکعت نماز وتر ادا فرماتے رہے۔ثانیاً وتر کی نماز حضور ا ایک رکعت نہیں پڑھتے تھے لہٰذا ایک وتر کا قول باطل ہے ۔
نبی کریم ا اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل جاگتا ہے۔ وہ نیند کی حالت میں بھی اپنے آپ سے بے خبر نہیں ہوتے۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام کی نیند سے ان کا وضو نہیں ٹوٹتا ۔اس سے ثابت ہوا کہ انبیاء کرام بے مثل بشر ہیں۔
239 ۔وعن علی بن عبداﷲ بن عباس عن عبداﷲ بن عباس انہ رقد عند رسول اﷲ ﷺ فاستیقظ فتسوک وتوضأ وہو یقول ان فی خلق السموات والارض واختلاف اللیل والنہار لآیت لاولی الالباب ، فقرأ ہؤلاء الآیت حتی ختم السورۃ ثم قام فصلی رکعیتن فاطال فیہما القیام والرکوع والسجود ثم انصرف فنام حتی نفخ ثم فعل ذلک ثلاث مرات ست رکعات کل ذلک یستاک ویتوضأ ویقرأ ہؤلاء الآیت ثم اوتر بثلاث ۔
علی بن عبداللہ، حضرت عبداﷲ بن عباس ثسے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں رسول اﷲ اکے پاس سو گیا ، آپ بیدار ہوئے تو آپ نے مسواک کی اور وضو کیا پھر آپ نے مذکورہ آیات سورۃ کے آخرتک تلاوت کیں ۔پھر آپ کھڑے ہوئے آپ نے دو رکعت ادا کیں ،ان دونوں میں لمبا قیام کیا اور لمبا رکوع وسجود کیا ، پھر آپ واپس اپنی جگہ پر آکر سو گئے ، پھر آپ اٹھے،مسواک کی، وضو کیا،آیات پڑھیں اورپہلے کی طرح دو رکعت ادا کیں۔ اس طرح آپ نے تین مرتبہ عمل کیا ،چھ رکعت اداکیں ۔اس کے بعد آپ نے تین رکعت وتر ادا کئے ۔()
اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ آپ ہمیشہ وتر تین رکعت ہی اد اکرتے تھے ، ایک رکعت وتر ادا نہیں کرتے تھے۔
240 ۔عن سعید بن جبیر عن ابن عباس ان رسول اﷲﷺ کان یوتر بسبح اسم ربک الاعلی وقل یاایہا الکافرون وقل ھواﷲ احد۔
سعید بن جبیر حضرت ابن عباسثسے روایت کرتے ہیں بیشک رسو ل اﷲ ا وتر کی نماز میں (پہلی رکعت میں) سبح اسم ربک الاعلی تلاوت کرتے (دوسری رکعت میں ) سورۃ قل یاایہا الکفرون پڑھتے اور (تیسری رکعت میں ) قل ہو اﷲ سورۃ پڑھتے ۔()
241 ۔عن ابی بن کعب قال کان رسو ل اﷲ ﷺ یوتربسبح اسم ربک الا علی وقل یاایہا الکفرون وقل ہواﷲ احد۔
Page 98 of 107

