جواب میں عرض ہے کہ اس حدیث کا ترجمہ ہی تم نے غلط کیا ہے ۔ایک غلطی تو یہ کی کہ حسد کا معنی چڑنا کر دیا ۔حالانکہ حسد کا مطلب ہوتا ہے کسی کی نعمت کا زوال طلب کرنا کہ اس سے وہ نعمت زائل ہو جائے اور مجھے مل جائے۔
ایک اور لفظ ہے ’’غبطۃ‘‘ جس کا مطلب ہے کسی کی نعمت جیسی نعمت کی طلب ہو لیکن اس کی نعمت کے زوال کی تمنا نہ ہو ۔اورایک ہے کسی کی نعمت پر جلنا ، غصہ میں آنا ، دانت پیسنا۔ یہ ہے ہماری زبان میں چِڑنا ۔
واضح ہوا کہ حدیث پاک کا ترجمہ اپنا مطلب نکالنے کیلئے غلط کر دیا گیا۔ غلط تراجم سے صرف جہلاء کو بہکا یا جا سکتا ہے ۔پھر ترجمہ میں بریکٹ میں (اونچی) کا اضافہ بھی غلط ہے ۔وہ کون سا قرینہ پایا گیا ہے جس کی وجہ سے بریکٹ میں (اونچی ) کے لفظ کا اضافہ کیا گیا ہے ؟…خود بدلتے نہیں ’’حدیث‘‘ بدل دیتے ہیں!
آئیے دیکھیں صحیح ترجمہ کیا ہے ؟صحیح ترجمہ یہ ہے ،’’حضرت ابن عباس ص روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اﷲ ا نے فرمایا، یہود تم پر کسی چیز میں اتنا حسد نہیں کرتے جتنا آمین پر حسد کرتے ہیں ، پس آمین زیادہ کہا کرو‘‘ ۔
اس حدیث پاک سے پہلے ابن ماجہ کے اسی باب ص۶۱ پر ہی ایک اور حدیث شریف ذکر ہے ،ذرا اسے دیکھیں ۔
237 ۔عن عائشۃ عن النبی ﷺ قال ما حسد تکم الیہود علی شئی ما حسد تکم علی السلام والتامین۔ ()
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں ،رسول اﷲ انے فرمایا: ”تم پر یہود کسی چیزمیں اتنا حسد نہیں کرتے جتنا سلام اور آمین کہنے پر حسد کرتے ہیں‘‘۔
آئیے ان احادیث کو سمجھنے کی کوشش کریں پھر خود بخود واضح ہو جائے گا کہ ان کا مطلب کیا ہے ۔
لعل سبب حسد ھم ان ھذین الامرین مطبو عان لھم ولا یعملون بھما لئلا یلزمھم التاسی والاقتداء باھل الاسلام۔()
یہود کے حسد کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کو بھی یہ دونوں چیزیں یعنی سلام اور آمین عطاء ہوئی تھیں،لیکن وہ عمل نہیں کرتے تھے تا کہ مسلمانوں کی اقتداء لازم نہ آجائے۔ مسلمانوں کی اقتداء ا ن کیلئے پریشانی کا سبب تھی ۔
حدیث پاک میں نماز کا ذکر نہیں کہ جس سے پتا چلے کہ یہ نماز میں آمین کہنا مراد ہے ۔ اور بلندآواز کہنے کا بھی کوئی ذکر نہیں کہ جس سے پتا چلے کہ آمین بلند آواز سے کہی جائے۔ یہود کو مسلمانوں پر حسد تھا کہ ان کو سلام اور آمین جیسی نعمتیں ملیں تو یہ ان پر عمل بھی کر رہے ہیں ۔ہم عمل تو نہیں کر سکے، اﷲ کرے کہ یہ نعمتیں مسلمانوں سے بھی چھن جائیں تاکہ یہ بھی ان سے محروم ہو جائیں ۔
اب آپ خود ہی انصاف سے بتائیں کہ اس حدیث میں نماز میں بلند آواز سے آمین کہنے کا ذکر کہاں ہے؟ حدیث پاک میں تو صرف آمین کہنے کا ذکر ہے ۔
اب غیر مقلدین کی گندی ذہنیت اور بیہودگی دیکھیں ۔
٭اونچی آمین سے یہودیوں کو چڑ تھی اور وہ نفرت کرتے تھے اور ہمیں یہود کی مخالفت کرنی چاہیے۔ ()
٭اے منکرین آمین بالجہر (بلند آوازآمین سے روکنے والو) ! سوچو کہ تم کس قدر بے نصیب اور نامراد ہو بلکہ اوروں کو بھی اس نعمت سے نامراد اور بے نصیب کرتے ہو۔ ()
٭اسی رسالہ میں اور بیہودہ انداز انہوں نے یو ں اختیار کیا، ’’یہودی آمین بالجہر سے جلتے تھے ، حنفی بھی آمین بالجہر سے جلتے ہیں ‘‘۔(اثبات آمین بالجہر ) ()
یہ زہر افشانی ، کلام نجس ،انسانیت سے دور غیر مقلد مولویوں کے ہیں۔ جب مولوی یہ ہیں تو جاہلوں کا کیا کہنا !!!
حقیقت یہ ہے :
قال النیموی لم یثبت الجھر بالتا مین عن النبی ﷺ ولا عن الخلفاء الاربعۃ وما جاء فی الباب فھو لا یخلو من شئی۔
Page 97 of 107

