Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 96 of 107

متن کے لحاظ پر حدیث کا اضطراب دیکھیں …

231 ۔ اس حدیث کا ابن ماجہ والی حدیث سے دو طرح فرق ہے ۔ ایک تو یہ کہ اس میں ’فیر تج بھا المسجد ‘(مسجد گونجتی ۔غیر مقلد کا ترجمہ ) کے الفاظ نہیں۔

دوسرا فرق یہ ہے کہ: حدیث ابن ماجہ میں ہے ’حتی یسمع اھل الصف الاول‘یہاں تک کہ پہلی صف والے سارے لوگ سنتے۔
(سنن ابن ماجہ، ج3، ص89، حدیث نمبر:843)

 

 

 

 

 

 

 

232 ۔اور حدیث ابو داؤد میں ہے ’حتی یسمع من یلیہ من الصف الاول‘ یہاں تک کہ پہلی صف میں سے وہ لوگ سنتے جو آپ کے متصل ہوتے ۔ اس حدیث سے پہلی صف کے تمام لوگوں کا سننا نہیں سمجھ آ رہا، بلکہ صرف چندمتصل لوگوں کا سننا سمجھ آتا ہے ۔ 233 ۔اور یہی حدیث مسند ابی یعلی میں بشر بن رافع کے واسطہ سے ہے۔ اس میں صف اول کا سننا تو ذکر ہے لیکن ’’فیر تج بھا المسجد ‘‘ذکر نہیں ۔ جب ایک ہی سند سے ایک ہی حدیث کے الفاظ مختلف ہو جائیں بعض کا مطلب اورہو اور بعض کا اور، تو یہ متن میں اضطراب ہے ۔اس حدیث کو اپنے مطلب کے بعض الفاظ کے ذریعے دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔ جب دو کتب میں یہ حدیث ’’فیر تج بھا المسجد ‘‘کے الفاظ سے خالی ہے تو دو کو چھوڑ کر صرف ایک کو دلیل بنانا کیسے درست ہے ؟جبکہ سند میں بھی ضعف ہے ا ور متن میں بھی اضطراب تو اسے دلیل بنانا ضعیف ہے ۔ اگر بالفرض ان کو نماز سے متعلق کیا جائے تو پھر بھی ان کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ پہلی حدیث کی صحت کا یقین نہیں اور دوسری کا ضعیف ہونا یقینی ہے۔ ضعیف حدیث سے احکام ثابت نہیں ہوتے ۔ اگر ہم آپ کی بات کو تسلیم کر ہی لیں توہم اس کا جواب یہ دیں گے کہ نبی کریم ابعض اوقات تعلیم امت کے لئے آہستہ پڑھنے والے الفاظ کو بلند پڑھ لیا کرتے تھے ’’یہ صرف آمین کی بات نہیں ‘‘بلکہ ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کے کچھ الفاظ بلند آوازسے پڑھنے بھی ثابت ہیں ۔ 234 ۔غیرمقلدین کی دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت علی ص فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ا کا ’’غیر المغضوب علیھم ولا الضالین ‘‘پڑھ کر آمین کہنا میں نے سنا ۔ () () اس دلیل سے یہ معلوم ہو گیا کہ ہم سے صحاح ستہ کے حوالے مانگنے والے ضرورت پڑنے پر مستدرک اور اعلام جیسی کتب کے حوالے بھی پیش کیا کرتے ہیں!!! اس حدیث پاک میں کہاں ذکر ہے کہ آپ نے نماز میں آمین کہنا سنا؟جب یہ ذکر نہیں تو ایک احتمال یہ ہے کہ یہ نماز کے بغیر دعاء کا مسئلہ ہو گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت علی ص نبی کریم ا کے پیچھے قریب کھڑے ہوں ۔ حضور ا نے آہستہ آواز سے پڑھا ہو اور حضرت علی ص نے سن لیا ہو۔ ہم کئی مرتبہ بعض اماموں کے آہستہ پڑھنے کے باوجود ان کے کئی الفاظ سن رہے ہوتے ہیں ۔ تیسرااحتمال یہاں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضور انے تعلیم امت کیلئے کبھی کچھ آواز سے پڑھ لیا ہو اور حضرت علیص نے سن لیا ہو ۔ 235۔حضرت وائل صکی ایک حدیث میں یہی وضاحت موجود ہے ۔ وقرأغیر المغضوب علیھم ولا الضالین فقال آمین یمد بھا صوتہ ما اراہ الا یعلمنا۔نبی کریم انے جب غیر المغضوب علیہم ولا الضالین پڑھاتو آمین کہی اور اس میں آواز کو کچھ کھینچا ،(راوی نے کہا )،یہ میرا یقین ہے کہ صرف ہماری تعلیم کیلئے آپ نے ایسے کیا ۔ () غیرمقلدوں کا ایک اور دھوکا: غیرمقلد حکیم صاحب نے ایک عنوان مقرر کیاہے ’’یہودیوں کا آمین سے چڑنا ‘‘، اس کے تحت یہ حدیث نقل کی گئی ہے ۔ 236 ۔عن ابن عباس قال قال النبی ﷺ ما حسد تکم الیہود علی شئی ماحسدتکم علی آمین فاکثروا من قول آمین ۔ حضرت ابن عباس (ص ) کہتے ہیں کہ رسول اﷲ انے فرمایا،جس قدر یہود (اونچی ) آمین سے چڑتے ہیں اتنا کسی اور چیز سے نہیں ۔پس تم بہت آمین کہنا ۔() (صلوٰۃ الرسول ص۱۶۴)ا

Share:
keyboard_arrow_up