Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 95 of 107

3:۔ دونوں حدیثوں میں نماز پڑھنے کا ذکر نہیں، اس لئے یہ کہنا کہ یہ نماز میں آمین کہنے کا ذکر ہے، یہ صرف عقلی احتمال ہے۔ اسے ہم ماننے کیلئے تیار نہیں۔ جب صلٰوۃ (نماز ) کا ذکر نہیں تو ان احادیث کو اپنے حال پر رہنے دیا جائے کہ ’’ ابن زبیر  رضی اللّٰہ عنہ نے دعاء میں آمین کہی اور دوسرے لوگوں  نے بھی دعاء میں آمین کہی ‘‘۔

ایک احتمال یہ بھی ہے کہ آپ نے دورانِ خطبہ آمین کہی ہو اور دوسرے لوگوں نے بھی۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ نے دورانِ جنگ آمین کہی ہو اور دوسرے لوگوں نے بھی کیونکہ آپ دورانِ جنگ قنوت نازلہ پڑھتے تھے۔

اسی طرح دوسری حدیث میں بھی زیادہ واضح احتمال یہ ہی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورۃ فاتحہ کا آخری حصہ بطور دعاء پڑھا ہو، اس کے آخر میں خود بھی آمین کہا ہو اور دوسرے لوگوں نے بھی آمین کہا ہو۔ جب دونوں حدیثوں میں نماز کا ذکر نہیں ،تو زبردستی نماز مراد لینی کیونکر صحیح ہو سکتا ہے ۔

 

اعتراض : پہلی حدیث میں وراء ہٗ کا ذکر ہے ۔جس کا معنی ہے’’ ان کے پیچھے‘ ‘ ، یعنی حضرت ابن زبیر رضی اللّٰہ عنہ  نے جب آمین کہی تو آپ کے پیچھے دوسرے لوگوں نے آمین کہی ۔ کسی کے پیچھے لوگ صف بنا کر اسی وقت کھڑے ہوتے ہیں جب نماز ادا کر رہے ہوں ۔ اور دوسری حدیث میں’’صف ‘‘ کا واضح طور پر ذکر ہے ۔ جس سے سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ معاملہ نماز کا ہی ہے۔ نماز کے بغیر صف کا کیا مطلب ہو سکتا ہے ؟

جواب : ’’وراء‘‘ کا لفظ بمعنی سواء ، علاوہ کے آتا ہے ‘خواہ کوئی آگے ہو یا پیچھے۔ اب معنیٰ یہ ہو گا کہ حضرت ابن زبیر رضی اللّٰہ عنہ  نے آمین کہی اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی آمین کہی اور ان کی آواز آپس میں مختلط ہو گئی (مل جل گئی ) ۔

دوسری حدیث میں جو صف کا ذکر ہے اس سے بھی نماز مراد لینا کوئی ضروری نہیں۔ اس لئے کہ نماز کے بعد دعاء کی جائے تو لوگ صف میں بیٹھے ہوتے ہیں ۔

4:۔ پہلی حدیث بخاری سے لی گئی ہے جو علامہ بخاری رحمہ ﷲ نے تعلیقًا ذکر کی ہے۔ تعلیقًا کا یہ مطلب ہے کہ ان کی سند حذف کر دی جائے ، بخاری جو حدیثیں تعلیقًا ذکر کرتے ہیں ان کی سندیں جب نہیں ذکر کرتے تو ان حدیثوں کو صحیح کہنا ضروری نہیں اور نہ ہی بخاری نے ان کے صحیح ہونے کو اپنے آپ پر لازم کیا ہے۔

لہٰذا ان حدیثوں کو دلیل بنا کر صرف جاہل عوام کو دھوکا دیا جاسکتا ہے، کسی صاحب علم کو دھوکہ دینا ممکن نہیں۔

 

آئیے اسی مذکورہ حدیث کی سند کو دیکھ لیں۔ بخاری نے صرف یہ ذکر کیا ہے،

وقال عطاء آمین دعاء امن ابن الزبیر ومن ورائہ حتی ان للمسجد للجۃ ۔
(بخاری، ج1، ص240)

اسی حدیث کے بین السطور میں دیکھیں یہ تحریر ہے، ابتداء کلام من اخبار عطاء۔ کلام کی ابتداء عطاء کی خبر سے ہے ۔ یعنی مفہوم یہ ہے کہ عطاء نے خبر دی ہے کہ آمین دعاء ہے۔ ابن زبیر رضی اللّٰہ عنہ نے آمین کہی تو آپ کے علاوہ اور لوگوں نے بھی آمین کہی تو مسجد میں کلام کا اختلاط ہوا۔

یہاں دیکھ لیں کہ علامہ بخاری رحمہ اللّٰہ نے سندات کو چھوڑ دیا ، جس کی وجہ سے حدیث کا صحیح ہونا لازم نہ رہا ۔ مقام توجہ یہ ہے کہ یہاں دعاء میں آمین کہنا زیادہ واضح ہے، نماز میں آمین کہنا اتنا واضح نہیں ۔

 

5:۔ دوسری حدیث قابل حجت ہی نہیں کیونکہ وہ ضعیف ہے اس کا ضعف سند کے لحاظ پر بھی ہے اور متن کے لحاظ پر بھی ۔حدیث کا سند کے لحاظ سے ضعف دیکھیں ۔ اس روایت میں ایک راوی بشر بن رافع ہے جس کے متعلق بخاری نے کہا،’’لایتبع فی حدیثہ ‘‘اس کی حدیث میں کسی اور نے اس کی تابعداری نہیں کی۔

امام احمدبن حنبل نے کہا،

’’ضعیف ‘‘وہ ضعیف راوی ہے۔ ابن معین نے کہا، ’’حدث بمناکیر  ‘‘اس  نے منکر حدیثیں بیان کی ہیں۔ نسائی نے کہا، ’’لیس بالقوی ‘‘ وہ راوی قوی نہیں ۔’’ وقال ابن حبان یروی اشیاء موضوعۃ ‘‘ ابن حبان نے کہا، وہ موضوع روایا ت بیان کرتا ہے ۔
(شرح آثار السنن ص،189)

Share:
keyboard_arrow_up