226 ۔ عن ابی وائل قال کان عمر وعلی رضی اﷲ عنہما لایجہران بسم اﷲ الرحمن الرحیم ولا با لتعوذ ولاآمین۔
حضرت ابو وائل رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ بسم اللّٰہ (تسمیہ)، تعوذ(اعوذ باللہ) اور آمین بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔
(شرح معانی الآثار، کتاب الصلاۃ، باب قراءۃ بسم اللہ ۔۔الخ،1/347)
227۔ عن ابراھیم قال اربع یخفیھن الامام بسم اﷲ الرحمن الرحیم والاستعاذۃ وآمین واذا قال سمع ا ﷲ لمن حمدہ قال ربنا لک الحمد۔
حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، امام چار چیزیں آہستہ کہے، تعوذ، تسمیہ، آمین اور جب سمع اللّٰہ لمن حمدہ کہے تو ربنا لک الحمد آہستہ کہے۔ (شرح مسند ابی حنفیہ،ج1، ص38)
228۔ اخبرنا ابو حنیفۃ عن حماد عن ابراھیم قال اربع یخافت بھن الامام سبحانک اللھم وبحمدک والتعوذ من الشیطن الرجیم وبسم اﷲ الرحمن الرحیم وآمین قال محمد وبہ ناخذ وھو قول ابی حنیفۃ۔
حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، امام چار چیزیں آہستہ کہے، ثناء، تعوذ، تسمیہ اور آمین۔امام محمد رحمہ اللّٰہ نے فرمایا، یہی امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کا قول ہے۔ (کتاب الاٰثار ص۱۶)
(مصنف عبدالرزاق،کتاب الصلوۃ،2/87، حدیث: 2596، مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الصلوات، باب ما یستحب۔۔الخ،2/267،حدیث: 8848بالفاظٍ مختلفۃٍ)
غیر مقلدین کی دلیلوں کا جواب:
’’آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھی ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھاہے،
229۔ صحیح بخاری میں ہے
’’ امَّن ابن زبیر ومن وراء ہ حتی ان للمسجد للجۃ ‘‘ یعنی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اللّٰہ عنہ اور ان کے مقتدی اتنی بلند آواز سے آمین کہتے تھے کہ مسجد گونج اٹھتی تھی ۔
(صلوۃ الرسول،ص63)
230۔ عن ابی ہریرۃ قال ترک الناس التامین وکان رسول اﷲ ﷺ اذا قال غیر المغضوب علیہم ولاالضالین قال آمین حتی یسمع اہل الصف الاول فیرتج بہا المسجد ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کہتے ہیں لوگوں نے آمین کہنا چھوڑ دیا ۔ رسول اﷲ ﷺ جب غیر المغضوب علیہم والاالضالین کہتے تو آمین کہتے یہاں تک کہ پہلی صف والے سن لیتے اور مسجد اس سے گونجنے لگتی ۔ (سنن ابن ماجہ، ج3، ص89، حدیث نمبر:843)
ان دلیلوں کے جواب میں مفتی عبدالرزاق بھترالوی مدظلہٗ لکھتے ہیں، غیر مقلدین کی ان دونوں دلیلوں سے’’ آمین کا آواز بلند کر کے نماز میں پڑھنا یہاں تک کہ مسجد میں گونج پیدا ہو جائے ‘‘ ثابت نہیں ہو سکتا ۔
1:۔ پہلی حدیث میں لجۃ اور دوسری میں یرتج کے معانی گونج اٹھنا کئے گئے جو درست نہیں۔ ان دونوں لفظوں کا معنی لغت کے مطابق ’گونجنا ‘غلط ہے ۔
ارتج: تحرک واھتز، والبحر اضطرب والکلام والظلام اختلط والتبس۔
(المعجم الوسیط، ج1، ص329) (المعجم الوسیط )
یعنی ارتج :کا تعلق جب کلام سے ہو تو اس کا معنی ہو گا ’’کلام میں اختلاط پیدا ہونا ‘‘ (ملی جلی آواز خواہ آہستہ ہی کیوں نہ ہو) الرجۃ: آوازوں کا اختلاط، ارتج الکلام : گفتگو کا ملتبس ہونا۔ ارتجت الاصوات : اختلطت (المعجم الوسیط ) (المعجم الوسیط، ج2، ص816)
یعنی لجۃ کا معنی بھی آواز کا مختلط ہونا ہی ہے ۔التجت الاصوات: آوازوں کا مخلوط ہونا ، اللجۃ: مخلوط آوازیں ۔
(المنجد عربی اردو ،ص777)
لغات کو دیکھنے سے پتا چلا کہ ان دونوں لفظوں کا معنی صرف آوازوں کا مل جل جانا ہے۔ آہستہ آہستہ آوازیں بولنا بھی اختلاط پیدا کر دیتاہے۔ گونجنا ، چلانا، شور کرنا معانی ضروری نہیں ، مجازی طور پر قرائن کے پائے جانے پر یہ معانی کسی حد تک مراد لئے جاسکتے ہیں ۔
2:۔ گونجنا، معنی کرنا اس لئے بھی درست نہیں کہ گونج پختہ اور چھوٹی عمارت میں پائی جاتی ہے۔ کچی عمارت میں کبھی گونج نہیں ہوتی، اور وسیع عمارات میں بھی گونج نہیں ہوتی۔
نبی کریم ﷺکے زمانہ میں مسجد کچی اور چھت کھجوروں کے پتوں اور چھڑیوں کی تھی ، پانی ٹپکتا تھا۔ اُس وقت کی مسجد کا گونجنا تصور میں بھی نہیں آسکتا ۔ آج کی مسجد نبوی وسیع، طویل و عریض ہونے کی وجہ سے نہیں گونجتی، اس لئے گونجنے کا معنی غلط ہے۔ واضح ہوا کہ غیر مقلدین کا یہ کہنا کہ ’’مسجد نبوی نبی کریم ﷺ کے زمانہ سے لے کر آج تک آمین سے گونج رہی ہے‘‘، لغو اور باطل قول ہے ۔جس کا کوئی اعتبار نہیں ۔

