Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 93 of 107

مذکورہ حدیث روایت کر کے امام محمد رحمہ اللّٰہ نے فرمایا،

وبہذا ناخذ ینبغی اذا فرغ الامام من ام الکتاب ان یؤمن الامام ویؤمن الامام ویؤمن من خلفہ ولا یجہرون بذالک۔

’’ہم اسی پر عمل کرتے ہیں کہ جب امام سورۃ فاتحہ پڑھنے سے فارغ ہو تو وہ بھی آمین کہے اور جو اس کے پیچھے ہیں وہ بھی آمین کہیں اور آواز بلند نہ کریں‘‘۔
(مؤطا امام محمد، ج1، ص216، حدیث  نمبر:136)

 

220۔ عن سمرۃ قال سکتتان حفظتہما عن رسول اﷲﷺ فانکر ذلک عمران بن حصین قال حفظنا سکتۃ فکتبنا الی ابی بن کعب بالمدینۃ فکتب ابی ان احفظ سمرۃ قال سعید فقلنا لقتادۃ ماہاتان السکتتان قال اذا دخل فی صلوتہ واذا فرغ من القرأۃ ثم قال بعد ذلک واذا قرأ ولاالضالین ۔

حضرت سمرہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا، دو سکتے (یعنی دل میں پڑھنے کے وقفے) ہیں کیونکہ میں نے ان دو سکتوں کو رسول اﷲ ﷺ سے یاد کیا ہے ۔ عمران بن حصین رضی اللّٰہ عنہ  نے اس کا انکار کیا اور کہا، ہمیں صرف ایک سکتہ یاد ہے ۔( راوی نے کہا) ہم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللّٰہ عنہ کی طرف مدینہ میں لکھا (کہ کیا حضرت سمرہ رضی اللّٰہ عنہ نے ٹھیک کہا ہے ؟ ) تو انہوں نے جواب میں لکھا،سمرہ رضی اللّٰہ عنہ زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔ سعید کہتے ہیں، ہم نے حضرت قتادہ رحمہما اللّٰہ سے پوچھا، وہ دو سکتے (خاموش رہنا ) کیا ہیں؟ تو انہوں نے کہا، جب نماز میں داخل ہو ، اور جب قرأت سے فارغ ہو ۔ پھر فرمایا، قرأت سے فارغ ہونے سے مراد ’’ ولاالضالین ‘‘ پڑھنے کے بعد ہے۔ (ترمذی،کتاب ابواب الصلاۃ،باب ما جاء فی السکتتین،2/30،حدیث:251)

 

یعنی تکبیر افتتاح کے بعد ثناء ، تعوذ ، تسمیہ آہستہ آواز میں پڑھے، پھر سورۃ فاتحہ سے فارغ ہو کر آمین آہستہ آواز میں کہے ۔ یہ دو سکتے یعنی قیام کی حالت میں آواز بلند نہ کرنے کے وقفے ہیں۔

اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد امام ابو عیسٰی ترمذی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

حدیث سمرۃ حدیث حسن۔

’’ سمرہ رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث حسن ہے‘‘۔

 

221۔ عن علقمۃ بن وائل عن ابیہ ان النبی ﷺ قرأ غیر المغضوب علیہم ولاالضالین فقال آمین وخفض بہا صوتہ۔

حضرت علقمہ بن وائل رضی اللّٰہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ دوعالم ﷺ نے جب غیر المغضوب علیہم ولاالضالین  پڑھا تو آپ نے آہستہ آواز میں آمین کہی۔
(ترمذی،کتاب ابواب الصلاۃ،باب ما جاء فی التامین،2/27،حدیث:248)

 

222۔  اسے امام احمدبن حنبل، امام حاکم، ابو داؤد الطیالسی، ابویعلیٰ، طبرانی اور دارقطنی نے بھی روایت کیا ہے۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ
(مسند ابی داؤد الطیالسی، ص138، حدیث نمبر:1024، مستدرک، ج2، ص253، حدیث نمبر:2913،  و معجم کبیر، ج22، ص9، حدیث نمبر:17854،  مسند احمد، ج38، ص304، حدیث نمبر:18088)

 

223 ۔ امام حاکم  نے کہا،

یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط کے موافق صحیح ہے۔
(مستدرک، ج2، ص253، حدیث نمبر:2913)

 

224۔ حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ ہی سے مروی دوسری حدیث میں مدبہا صوتہ کے الفاظ آئے ہیں۔ مد کا حقیقی معنی لمبا کرنا ہے، بلند کرنا نہیں۔ جب صحیح احادیث سے آہستہ آواز میں آمین کہنا ثابت ہے تو مدبہا صوتہو کا ترجمہ یہ ہوگا کہ آپ نے اپنی آواز کو کھینچ کر لمبا کیا یعنی آمین کہتے ہوئے مَدْ کیا۔ غیر مقلد مصنف نے بھی اس کا ترجمہ یوں کیا، ’’پھر کہا آمین اور دراز کی اس کے ساتھ آواز اپنی‘‘۔ (صلوۃ الرسول،ص62)

 

225۔ عن ابی ھریرۃ قال کان رسول اﷲ ﷺ یعلمنا یقول لاتبادروا الامام اذکبر فکبروا و اذاقال ولاالضالین فقولوا امین واذارکع فارکعوا واذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ فقولوا اللھم ربنا لک الحمد ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اﷲ ﷺ  ہمیں (نماز کا طریقہ) سکھاتے ہوئے فرماتے تھے، امام سے پہلے کوئی کام نہ کرو ، امام جب تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب امام ولاالضالین کہے تو تم آمین کہو اور جب امام رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب امام سمع اﷲ  لمن حمدہ  کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو ۔
(مسلم،کتاب الصلاۃ، باب النھی عن مبادرۃ الامام۔۔الخ،ص175، حدیث: 932)

 

اس حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ آمین آہستہ آواز میں کہی جائے۔ اولاً اس لیے کہ نبی کریم ﷺ  نے نماز کا طریقہ سکھایا تو آمین بلند آواز سے کہنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ ثانیاً کیونکہ اللّٰہ اکبر اور ربنا لک الحمد ،آہستہ کہنا ہے تو آمین بھی آہستہ کہی جائے گی کیونکہ ان سب کا حکم ایک جیسا ہے ۔

Share:
keyboard_arrow_up