Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 92 of 107

219 ۔ عن ابی ہریرۃ ان رسول اﷲ ﷺ قال اذا قال الامام غیر المغضوب علیہم ولاالضالین فقولوا آمین فانہ من وافق قولہ قول الملائکۃ غفرلہ ما تقدم من ذنبہ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، جب امام غیر المغضوب علیہم ولاالضالین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی اس کے پچھلے تمام (صغیرہ) گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
(بخاری،کتاب الاذان،باب جہر المامون بالتامین، 1/156، حدیث: 782مختصراً، مسلم، کتاب الصلاۃ،باب التمسیع و التحمید۔۔الخ،1/306،حدیث:410)

اس حدیث میں فرشتوں کے موافق آمین کہنا مذکور ہے۔ سوال یہ ہے کہ فرشتوں کا آمین کہنا بلند آواز سے ہے یا آہستہ؟ یقیناً فرشتوں کا آمین کہنا آہستہ ہے کیونکہ فرشتوں کا آمین کہنا کسی کو سنائی نہیں دیتا، اس لئے موافقت کی یہی صورت ہے کہ آمین آہستہ کہی جائے۔ یہی نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کا طریقہ ہے۔ اگر اس تشریح سے کسی کو اتفاق نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کسی بھی حدیث کی کتاب سے کوئی ایک حدیث پیش کرے جس سے یہ ثابت ہو کہ فرشتے آمین بلند آواز سے کہتے ہیں۔ اگر کوئی ایسا نہ کر سکے تو پھر اسے مان لینا چاہیے کہ اس حدیث میں اونچی آواز سے آمین کہنے پر کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی اکابر فقہاء میں سے کسی نے اس حدیث کو بلند آواز میں آمین کہنے کی دلیل بنایا ہے۔

 

امام بخاری نے اس حدیث کا عنوان مقرر کیا ہے،

’’ باب جہر الماموم بالتامین ‘‘ مقتدی کے بلند آواز سے آمین کہنے کا باب۔ غیر مقلد یہ عنوان دکھا کر عوام کو دھوکا دیتے ہیں۔

 

مفتی عبدالرزاق چشتی اس کے متعلق لکھتے ہیں،

اس حدیث کو دیکھنا چاہیے کہ کیا اس میں کوئی لفظ ایسا ہے جو بلند آواز سے آمین کہنے پر دلالت کر رہا ہو؟ جب ہم نے حدیث پاک پر غور کیا تو ہمیں کوئی ایسا لفظ نظر نہ آیا جس سے بلند آواز سے آمین کا ثبوت ملے ۔

امام بخاری رحمہ ﷲ نے بلند آواز سے آمین کہنے پر استدلال صرف اس وجہ سے کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا،

امام جب ’’ غیر المغضوب علیہم ولاالضالین ‘‘ پڑھے تو تم آمین کہو ۔’’ قولوا آمین ‘‘ کے الفاظ سے یہ سمجھ آرہا ہے کہ آمین بلند آواز سے کہنی چاہئے ۔ لیکن ہم اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ ’’ قولوا ‘‘ کا معنی ہے’’ تم کہو ‘‘،اس سے بلند آواز سے کہنا کیسے ثابت ہے؟ اگر تم کہو کہ ’’ قولوا ‘‘ سے بلند آواز سے آمین کہنا ثابت ہے تو ہم تم سے یہ پوچھیں گے کہ حدیث شریف میں یہ بھی ثابت ہے ’’ اذا قال الامام سمع اﷲ لمن حمدہ فقولوا اللہم ربنا لک الحمد ‘‘۔ جب امام سمع اﷲ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد کہو ۔ کیا یہاں بھی بلند آواز سے ’’ ربنا لک الحمد‘‘ کہنا ثابت ہے ؟جب تمہارے نزدیک بھی یہاں جہر نہیں تو صرف ’’ قولوا ‘‘ سے آمین میں جہر ثابت کرنا کس طرح درست ہے؟

لہٰذا امام بخاری رحمہ ﷲ سے عنوان مقرر کرنے میں بھول واقع ہوئی اور یہ بھی واضح ہے کہ بخاری علیہ الرحمۃ امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ  کے ہم مرتبہ نہیں تو امام بخاری کے قائم کردہ عنوانات کو ماننا ضروری نہیں ، بلکہ ان کی بھول کو واضح کرنا ضروری ہے ۔

 

یہ بھی خیال رہے کہ ﷲتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا،

’’فنسی ولم نجدلہ عزما

‘‘ تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا قصد نہ پایا ۔

جب حضرت آدم علیہ السلام کی طرف نسیان کی نسبت ہوسکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ امام بخاری علیہ الرحمۃ کی طرف نسیان کی نسبت منع ہو، یا نسیان کی نسبت کرنے والے کے خلاف طعن و تشنیع کا بازار گرم کر دیا جائے ؟
(نمازِ حبیبِ کبریاء،ص248)

Share:
keyboard_arrow_up