Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 91 of 107

مزید رقمطراز ہیں،

’’غیر مقلدین کے عقائد کا دارومدار ابن تیمیہ کے نظریات ہی ہیں ۔ ابن تیمیہ کے فتاویٰ میں امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کی طویل بحث ہے ۔طوالت سے بچتے ہوئے اس کی فیصلہ کن بات کو نقل کر رہا ہوں، توجہ فرمائیں ۔

218 ۔ ولہذا روی فی الحدیث مثل الذی یتکلم والامام یخطب کمثل الحمار یحمل اسفارا فہکذا اذا کان یقرأ والامام یقرأ علیہ ۔

حدیث پاک میں اس شخص کی مثال بیان کی گئی جو امام کے خطبہ دینے کے دوران کلام کرے اس کی مثال گدھے جیسی ہے جو بوجھ اٹھائے پھرتا ہو۔ ایسے ہی جو شخص قرأت کر رہا ہو جب امام پڑھ رہا ہو ۔
(فتاوی ابن تیمیہ، ج23، ص279)

 

اتنے سخت الفاظ کوئی اور لکھتا تو یقیناً غیر مقلدین کو غصہ آتا ، لیکن جب ان کے عقائد کے امام نے یہ کہہ دیا کہ جو امام کے قرأت کرنے کے دوران قرأت کرے وہ گدھے کی طرح ہے ، تو امید ہے کہ وہ اسے برداشت کریں گے کیونکہ یہ بات ان کے اپنے بزرگ کی ہے۔
(نمازِ حبیب کبریاء، ص241)

 

حاصلِ کلام یہ کہ جب رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے واضح ارشادات موجود ہیں جن میں امام کی قرأت کو مقتدی کی قرأت فرمایا گیا ہے اور مقتدیوں کی طرف سے امام کی قرأت کو کافی قرار دے دیا گیا تو ثابت ہو گیا کہ امام کا سورۃ فاتحہ پڑھنا تمام مقتدیوں کی طرف سے کافی ہوجاتا ہے اس لیے مقتدیوں کو نماز میں قرأت نہ کرنا واجب ہے۔

 

امام عینی عمدۃ القاری شرح بخاری میں فرماتے ہیں،

’’امام کے پیچھے قرأت سے اَسّی (80) صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہ  نے منع کیا ہے جن میں خلفاء راشدین بھی ہیں اور جلیل القدر صحابہ کرام  رضی اللّٰہ عنہ بھی ‘‘۔ جیسا کہ سابقہ صفحات میں مذکور ہوا۔

 

خلاصہ یہ ہے کہ:

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ ﷲ علیہ کا مذہب عین احادیث کے مطابق ہے اور یہی مذہب امام مالک رحمہ ﷲ کا بھی ہے۔

 

امام محمد رحمۃ ﷲ علیہ نے امام ابو حنیفہ رحمۃ ﷲ علیہ کا مذہب ان الفاظ سے ذکر فرمایا :

لا قرأۃ خلف الامام فیما جہر فیہ ولا فیما لم یجہر بذلک جاء ت عامۃ الاثار وہو قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ ۔

امام کے پیچھے مقتدی کی کوئی قرأت نہیں خواہ امام بلند آواز سے پڑھ رہا ہو ، یا بلند آواز سے نہ پڑھ رہا ہو۔ عام احادیث میں یہی مذکور ہے اور یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ ﷲ کا ہے ۔
(مؤطا امام محمد، ج 1، ص191، حدیث نمبر:114)

 

5۔ مسئلہ آمین بالجہر:

جب جہری نماز میں امام سورۃ فاتحہ کی تلاوت ختم کرلے، اُس وقت امام اور مقتدیوں کو آہستہ آواز سے آمین کہنا سنت ہے۔ فرمانِ الہٰی ہے،

اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّخُفْیَۃً۔ ’’

اپنے رب سے دعا کرو، عاجزی سے اور آہستہ آواز میں‘‘ ۔
(پ8،الاعراف:55)

اس سے معلوم ہوا کہ دعا آہستہ آواز میں مستحب ہے۔ آمین کے معنی ہیں’’اے اللّٰہ ! اسے قبول فرما‘‘۔ پس آمین دعا ہے اور اسے آہستہ ہی کہنا چاہیے۔

 

امام رازی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

واحتج ابوحنیفۃ علی صحتہ قولہ قال فی قولہ ”آمین“ وجھان احدھما انہ دعاء والثانی انہ من اسماء اﷲ فان کان دعاء وجب اخفاؤہ لقولہ تعالی (ادعو ربکم تضرعا وخفیۃ )وان کان اسما من اسماء ا ﷲ تعالی وجب اخفاء ہ لقولہ تعالی ’’(واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ) فان لم یثبت الوجوب فلا اقل من الندبیۃ ونحن بھذا القول ۔

’’امام ابو حنیفہ رحمہ ﷲ نے اپنے قول کی صحت پر (احادیث کے علاوہ ایک ) دلیل یہ بیان کی ہے کہ لفظ ’’آمین ‘‘میں دو وجہ ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دعاء ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ ﷲ تعالیٰ کے اسماء گرامی میں سے رب تعالیٰ کا نام ہے۔ اگر دعاء ہو تو مخفی رکھنا ضروری ہے کیونکہ ﷲ تعالیٰ ٰ نے فرمایا،

اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃ ۔’’ اپنے رب سے عاجزی سے اور آہستہ دعا کرو ‘‘۔ اور اگر ﷲ تعالیٰ کے اسماء گرامی میں سے ہو تو پھر بھی مخفی رکھنا واجب ہے۔

کیونکہ ﷲ تعالیٰ نے فرمایا،

واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ ۔

’اپنے رب کو عاجزی سے اور مخفی طور پر اپنے نفس میں یاد کرو‘۔

اگر آمین کا آہستہ کہنا واجب نہ بھی ثابت ہو تو مستحب تو ضرور ثابت ہو گا۔ ہم بھی اسی کے قائل ہیں کہ آمین آہستہ کہنا مستحب ہے‘‘ ۔ (تفسیر کبیر،پ8،الاعراف:55، 5/281)

Share:
keyboard_arrow_up