مذہبِ حنفی اور احادیث:
غیر مقلدین عام لوگوں کو بخاری کا ترجمہ دکھا کر بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
امام بخاری رحمہ ﷲ نے عنوان قائم کیا ہے،
باب وجوب القرأۃ للامام والماموم فی الصلوات کلہا فی الحضر والسفر وما یجہر فیہا وما یخافت ۔
باب اس بیان میں کہ’’ قرأت واجب ہے امام اور مقتدی پر تمام نمازوں میں خواہ وہ حضر میں ادا کرے یا سفر میں، ان میں جہر کیا جاتا ہو یا وہ سری نماز ہو‘‘ ۔ (بخاری، ج1، ص262)
یاد رہے کہ امام بخاری رحمہ ﷲ نے جو ابواب بنائے یا عنوان منتخب کئے، وہ احادیث نہیں بلکہ امام بخاری کی ذاتی آراء ہیں، اور امام بخاری رحمہ ﷲ کی رائے کو امام اعظم رحمہ ﷲ کی رائے پر ترجیح نہیں دی جاسکتی ۔ کیونکہ امام بخاری رحمہ ﷲ جامع الاحادیث ( احادیث کو جمع کرنے والے) تو ہیں لیکن امام اعظم رحمہ ﷲ کی طرح مجتہد و فقیہ نہیں ۔
بخاری و مسلم کے معروف راوی امام اعمش رحمہ اللّٰہ نے اپنی روایت کردہ احادیث سے اخذ کردہ مسائل امام اعظم سے سن کر یہ فرمایا، اے فقہاء!ہم محدثین عطار(کیمسٹ) ہیں اور تم طبیب (ڈاکٹر)۔ یعنی جس طرح ادویات کا صحیح استعمال ڈاکٹر جانتا ہے اسی طرح احادیث سے مسائل اخذ کرنا فقیہ کا ہی کام ہے۔
امام بخاری کے قائم کردہ عنوان سے لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بخاری میں یہ ہے ، لوگ سمجھتے ہیں یہ بھی حدیث ہے ۔
عوام کو کیا معلوم کہ امام بخاری نے خود یہ عنوان قائم کیا ہے؟ کہاں امام بخاری اور کہاں امام اعظم رحمہماﷲ، ہر ایک کے مقام کو پہچانا جائے ۔ (نمازِ حبیب کبریاء، 203، ، 202 بتصرف)
امام بخاری رحمہ ﷲ اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے ہزاروں احادیث جمع کر کے ان سے لاکھوں مسائل اخذ کیے۔ آپ رضی اللّٰہ عنہ تابعی ہیں ۔ 26 صحابہ رضی اللّٰہ عنہم اجمعین کا زمانہ آپ نے پایا ہے اور7 صحابہ کرام سے آپ نے براہ راست احادیث سنی ہیں۔
اکثر احادیث آپ نے تابعین کرام رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہیں۔ امام بخاری رحمہ ﷲ کی پیدائش سے 44 سال پہلے ۱۵۰ھ میں جب امام اعظم کا وصال ہوا، اس وقت تمام عالمِ اسلام فقہ حنفی کے نور سے جگمگا رہا تھا۔
خیرالقرون کے لوگ بخاری و مسلم کے محتاج نہیں تھے ۔ ہاں بخاری و مسلم احادیث اخذ کرنے میں ان محدثین کے محتاج تھے جنہوں نے یا جن کے اساتذہ نے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ سے اور آپ کے شاگردوں سے علمِ دین حاصل کیا تھا۔ ذٰلک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشاء۔
مفتی عبدالرزاق بھترالوی فرماتے ہیں،
’’بعض ان پڑھ اور فسادی قسم کے غیر مقلدین کی اشتہار بازی سے اس قسم کے لایعنی جملے دیکھنے میں آتے ہیں کہ حنفی حدیثِ رسول ﷺ کو نہیں مانتے، امام کی بات مانتے ہیں، تو بڑا افسوس ہوتا ہے ۔
اس قسم کے الفاظ سے جہلا کو ورغلایا جاسکتا ہے ۔ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہم جھوٹ بول کر اپنی عاقبت کیوں خراب کر رہے ہیں ۔ کیا جھوٹ بول کر خدا کو ناراض کرنا توحید ہے ؟ اگر یہی توحید ہے تو شیطانی راہ کیا ہے ؟ کیا امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ ﷲکا مذہب حدیث کے مخالف ہے ’’ العیاذ باﷲ ‘‘؟؟ یہ لوگ سوچنے ، سمجھنے کی صلاحیت سے دور ہیں ۔بہتان تراشی ایسے لوگوں کا شیوہ ہے‘‘۔
(نمازِ حبیب کبریاء،203، بتصرف)

