Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 89 of 107

اس پر یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ احادیث میں تو لفظ ’’رکعۃ‘‘ استعمال ہوا جس کا معنی رکعت ہوتا ہے۔ تم نے اس کا معنی رکوع کیوں کیا ہے ؟

جواب یہ ہے کہ جب رکعت کا لفظ سجود کے مقابل استعمال ہو تو اس کا معنی رکوع ہی ہوتا ہے۔ تمام شارحین نے یہی معنی مراد لیا ہے اور اس حدیث سے بھی واضح ہے، کہ جس نے رکوع کو پالیا اس نے سجدہ کو پالیا، جس کا رکوع فوت ہوگیا اس کا سجدہ فوت ہوگیا۔ یہاں رکعت معنی کرنے سے کوئی مقصد ہی حاصل نہیں ہوسکتا، کیونکہ رکعت تو بمع سجدہ کے ہوتی ہے۔

 

بخاری کی حدیث سے انحراف کیوں ؟

عن ابی بکرۃ انہ انتہی الی النبی ﷺ وہو راکع فرکع قبل ان یصلی الی الصف فذکر ذلک للنبی ﷺ فقال زادک اﷲ حرصا ولاتعد۔

 

215 ۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللّٰہ عنہ  پہنچے تو نبی کریم ﷺ رکوع میں جا چکے تھے، یہ صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع میں چلے گئے ( پھر آہستہ آہستہ صف میں پہنچ گئے ) جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو بتایا تو آپ نے فرمایا، ﷲتعالیٰ تمہاری (نماز ، نیکی پر ) حرص کو اور زیادہ کرے اور آئندہ ایسا نہ کرنا۔
(بخاری، ج1، ص271، حدیث نمبر:750)

 

اس حدیث پاک سے واضح ہوا کہ صحابی نے رکوع میں مل کر رکعت کو پالینے کی غرض سے صف کے پیچھے ہی رکوع کرلیا۔  نبی کریم ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ تمہاری نماز نہیں ہوئی ، بلکہ یہ فرمایا کہ آئندہ ایسا نہ کرنا کہ صف کے پیچھے ہی رکوع کر لو بلکہ صف میں شامل ہوکر رکوع کیا کرو ۔

اگر رکوع میں ملنے کی وجہ سے رکعت نہ ملتی تو نبی کریم ﷺ ضرور بیان کرتے۔آپ کا خاموش رہنا ہی دلیل ہے کہ صحابی کو وہ رکعت مل گئی تھی ، کیونکہ جہاں آپ نقص دیکھتے تھے آپ فرما تے تھے، نماز دوبارہ پڑھو ۔

 

216 ۔ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اﷲ ﷺ اذا جئتم الی الصلوۃ ونحن سجود فاسجدوا ولا تعتدوہا شیأ ومن ادرک الرکعۃ فقد ادرک الصلوۃ ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ  نے فرمایا، جب تم نماز کی طرف آؤ اور ہم سجدہ میں ہوں تو سجدہ کر لو ، لیکن اسے رکعت نہ شمار کرو ۔ اور جس نے رکوع کو حاصل کر لیا اسے نماز مل گئی یعنی اسے وہ رکعت مل گئی ۔
(سنن ابی دؤود، ج3، ص63، حدیث نمبر:459)

 

اس حدیث میں ’’ الرکعۃ ‘‘ کا معنی رکوع کرنا بہت واضح ہے۔ اس حدیث پاک کو غور سے پڑھیں، سمجھیں اور اندازہ کریں کہ احناف کا مذہب حدیث کے مطابق ہے یا غیر مقلدین کا ؟نام کا دُم چھلا لگانے کے بغیر ہی بفضلہٖ تعالیٰ حقیقت میں اہل حدیث (حدیث پر عمل کرنے والے ) ہم ہیں ، غیر مقلدین اپنے نام کے ساتھ اہل حدیث کا دُم چھلا لگانے کے باوجود حقیقت میں اہلحدیث نہیں ، اس لئے میں ان کے لئے اہل حدیث کا لفظ استعمال نہیں کرتا بلکہ غیر مقلدین کا لفظ استعمال کرتا ہوں ۔

 

217 ۔ عن ابی ہریرۃ ان رسول اﷲ ﷺ قال من ادرک رکعۃ من الصلوۃ فقد ادرکہا قبل ان یقیم الامام صلبہ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا، بیشک رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا،’’ جس نے نماز کے رکوع کو پالیا اس نے اس رکعت کو پالیا ، جب تک کہ امام سیدھا کھڑا نہیں ہوا ‘‘۔
(صحیح ابن حبان، ج4، ص348، حدیث :1483،  وصحیح ابن خزیمہ، ج3، ص 45،  حدیث:1595)

 

اس حدیث پاک میں اور زیادہ وضاحت موجود ہے کہ امام کے رکوع سے کھڑے ہونے سے پہلے جو رکوع میں مل گیا، اسے وہ رکعت مل گئی ۔ (نمازِ حبیبِ کبریاء، ص288، 232،ملخصاً)

 

اگر غیرمقلدین کہیں کہ امام اعظم اور علمائے احناف حدیث کے خلاف عمل کرتے ہیں تو یہ بات تعجب کے لائق نہیں کیونکہ ان کے نزدیک تو صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہ بھی حدیث کے خلاف کیا کرتے تھے۔ معاذ اللّٰہ۔

صلوٰۃ الرسول پر حاشیہ میں غیر مقلد محقق لکھتا ہے،

’’جن بعض صحابہ نے مدرکِ رکوع کی رکعت کو صحیح قرار دیا ہے، ان کی بات صحیح احادیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابلِ عمل نہیں ہے‘‘۔ (صلوٰۃ الرسول، ص178)

ع پڑھوں لاحول نہ کیوں دیکھ کے صورت تیری !

Share:
keyboard_arrow_up