209۔ عن ابن عباس عن النبی ﷺ قال تکفیک قرأۃ الامام خافت اوجہر ۔
حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما نے فرمایا، نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ تمہیں امام کی قرأت کافی ہے، خواہ امام آہستہ آواز سے یعنی دل میں پڑھے یا بلند آواز سے ۔
(دارقطنی، ج1، ص331، حدیث نمبر:19)
مذکورہ آیتِ قرآنی اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہوگیا کہ امام کے پیچھے قرأت کرنا جائز نہیں ۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ امام کی قرأت ہی مقتدیوں کی قرأت ہے۔ بعض لوگ ایک حدیث پیش کرتے ہیں کہ امام جب تلاوت کے دوران وقفہ کرے ان وقفوں میں سورۃ فاتحہ پڑھ لینی چاہیے۔
جواباً عرض ہے کہ اس حدیث کے راویوں میں محمد بن عبدﷲ بن عبید بن عمیر لیثی ہے، ابن معین اور دارقطنی نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا۔ بخاری نے منکرالحدیث (منکر حدیث بیان کرنے والا ) قرار دیا اور نسائی نے متروک کہا۔ اس لئے واضح ہوا کہ امام کی قرأت کے وقفہ کے دوران پڑھنے کا حکم جس حدیث سے ثابت ہے وہ ضعیف ہے ۔ (شرح آثار السنن، ص174)
حدیث پر عمل یا مخالفت:
غیر مقلدین کے نزدیک’’ اگر کوئی نمازی، امام کو رکوع میں پالے تو بھی اسے وہ رکعت نہیں ملی، کیونکہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے‘‘۔ (فتاویٰ نذیریہ، ج499، نزل الابرار، ج1، 133)
احناف کے نزدیک اگر کوئی شخص امام کے ساتھ رکوع کو پالے تو اسے وہ رکعت مل گئی ۔ ہم بفضلہٖ تعالیٰ اپنے موقف پر چند احادیث پیش کرتے ہیں جن سے واضح ہو جائے گا کہ احناف کا مسلک ہی حق ہے ۔ جب کہ غیر مقلدین کوئی ایک حدیث بھی نہیں پیش کر سکتے کہ رکوع میں امام کے ساتھ ملنے والا رکعت کو نہیں پاسکتا ۔
210 ۔ مالک عن ابن شہاب عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن عن ابی ہریرۃ ان رسول اﷲ ﷺ قال من ادرک رکعۃ من الصلوۃ فقد ادرک الصلوۃ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا، جس نے رکوع کو پالیا اس نے نماز کو پالیا ۔
(موطا امام مالک، ج1، ص10، حدیث نمبر:15)
211۔ مالک عن نافع ان عبداﷲ ابن عمر کان یقول اذا فاتتک الرکعۃ فقد فاتتک السجدۃ ۔
حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما فرماتے تھے جس شخص کا رکوع فوت ہوگیا اس کا سجدہ بھی فوت ہوگیا ، یعنی اسے وہ رکعت نہیں ملے گی ۔
(موطا امام مالک، ج1، ص10، حدیث نمبر:16)
212 ۔ مالک انہ بلغہ ان عبداﷲ بن عمر وزید بن ثابت کانا یقولان من ادرک الرکعۃ فقعد ادرک السجدۃ ۔
حضرت امام مالک رحمہ ﷲ نے فرمایا کہ بے شک مجھے خبر ملی ہے کہ حضرت عبدﷲ بن عمر اور حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جس کو رکوع مل گیا اسے سجدہ مل گیا،یعنی اسے رکعت مل گئی ۔ (موطا امام مالک، ج1، ص10، حدیث نمبر:17)
213 ۔ مالک انہ بلغہ ان اباہریرۃ کان یقول من ادرک الرکعۃ فقد ادرک السجدۃ ومن فاتہ ام القرآن فقد فاتہ خیر کثیر ۔
حضرت امام مالک رحمہ ﷲ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ بے شک حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے تھے کہ بے شک جس شخص کو رکوع مل گیا اسے سجدہ مل گیا ، جس کی فاتحہ فوت ہوگئی اس سے خیر کثیر فوت ہوگئی ۔
(موطا امام مالک، ج1، ص10، حدیث نمبر:18)
اس حدیث پاک سے احناف کا مکمل مسلک واضح ہوگیا کہ جس نے رکوع کو پالیا اس نے رکعت کو پالیا ، لیکن بعد میں آنے والے نے امام سے فاتحہ کو نہیں سنا اس لئے اسے وہ ثواب حاصل نہیں ہوگا جو شروع سے ملنے والے کو حاصل ہوتا ہے لہٰذا سورۃ فاتحہ میں نہ ملنے والا خیر کثیر سے محروم ہوگیا ۔
214 ۔ عن ابی ہریرۃ ان رسول اﷲ ﷺ قال من ادرک من الصلوۃ رکعۃ فقد ادرک الصلوۃ۔قال محمد وبہذا ناخذ وہو قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ جس شخص نے رکوع کو پالیا اس نے نماز کی وہ رکعت پالی ۔ امام محمد رحمہ ﷲ فرماتے ہیں ہم اسی پر عمل کرتے ہیں ، اور امام ابوحنیفہ رحمہ ﷲ کا بھی یہی مذہب ہے ۔
(موطأ امام محمد ،ج1، ص210، حدیث نمبر:132)

