سورۃ فاتحہ پڑھنا فرض نہیں:
ﷲتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے،
فاقرءوا ما تیسر من القرآن ۔
’’ پڑھو جو آسان ہو قرآن سے ‘‘۔
یہ حکم نماز کے ساتھ متعلق ہے۔ نماز میں قرآن پاک کی کسی معین سورۃ کو پڑھنا لازم نہیں کیونکہ رب تعالیٰ نے فرمایا، جو بھی تمہیں آسان ہو وہاں سے قرآن کا کچھ حصہ پڑھو ۔ جب واضح ہوگیا کہ رب تعالیٰ کا حکم مطلق ہے، تو وہ اپنے اطلاق پر قائم رہے گا۔ لہٰذا خبر واحد سے سورۃ فاتحہ کو فرض قرار دے کر قرآن پاک کے حکم کو مقید نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا وہی بات صحیح ہو گی جو احناف نے بیان کی ہے کہ مطلقاً کہیں سے قرآن پاک پڑھنا فرض ہے اور سورۃ ملانا واجب ہے ۔
یہی بات سورۃ فاتحہ کے متعلق بھی ہے کہ وہ واجب ہے۔ تاکہ حکم قرآن پاک بھی قائم رہے ،اور حکم حدیث بھی ثابت ہو سکے ۔ کئی احادیث اوپر مذکور ہوئیں جن سے معلوم ہوا کہ نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب ہے، فرض نہیں۔
ایک حدیث پاک اور ملاحظہ فرمائیں۔
200۔ مالک عن ابی نعیم وہب ابن کیسان انہ سمع جابر بن عبداﷲ یقول من صلی رکعۃ لم یقرأ فیہا بام القرآن فلم یصل الاوراء الامام ۔
حضرت جابر بن عبدﷲ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں جس شخص نے نماز کی رکعت میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی، اس نے نماز کو مکمل نہیں کیا، سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۔
(موطأ امام مالک، ج1، ص84، حدیث نمبر:187)
اس حدیث پاک میں وضاحت موجود ہے کہ جو شخص نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز ناقص ہے مکمل نہیں، بشرطیکہ وہ شخص امام کے پیچھے نماز نہ پڑھ رہا ہو۔
اگر کوئی امام کے پیچھے پڑھ رہا ہو تو وہ خاموش رہے کیونکہ امام کی قرأت مقتدی کی طرف سے قرأت ہے اس لیے امام کے پڑھنے سے جب اس کی طرف سے قرأت ادا ہو گئی تو اس کی نماز مکمل ہوگئی ۔
201۔ اخبرنا مالک حدثنا وہب بن کیسان انہ سمع جابر بن عبداﷲ یقول من صلی رکعۃ لم یقرأ فیہا بام القرآن فلم یصل الاوراء الامام ۔
ترجمہ اوپر مذکور ہے۔ (موطأ امام محمد، ج1، ص190، حدیث نمبر:113)
202 ۔ اس حدیث کو روایت کر کے امام ترمذی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
’’ ہذا حدیث حسن صحیح ‘‘ ۔
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی، ج2، ص26، حدیث نمبر:288)
قرأت خلف الامام کی ممانعت:
مشہور کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
203 ۔ لا تقرأ خلف الامام ان جہر ، ولا ان خافت۔
امام کے پیچھے کسی بھی نماز میں قرأت نہ کی جائے ، خواہ وہ نماز جہری ہو یا سِرّی۔
(مسلم، ج2 ، ص452، حدیث نمبر:678، ومصنف ابن ابی شیبۃ، ج1، ص376، حدیث نمبر:3808)
204 ۔ عن نافع عن ابن عمر قال اذا صلی احدکم خلف الامام فحسبہ قرأۃ الامام واذا صلی وحدہ فلیقرأ قال وکان عبداﷲ لا یقرء خلف الامام۔
حضرت نافع رحمہ اللّٰہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا، جب تم امام کے پیچھے نماز پڑھو تو تمہیں امام کی قرأت کافی ہے اور جب اکیلے نماز پڑھو تو قرأت کرو۔ راوی نے کہا، حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ امام کے پیچھے قرأت نہیں کرتے تھے۔
(موطا امام مالک ، ج1، 70، حدیث نمبر:153،وموطا امام محمد، ج1، ص212، حدیث نمبر:134)
205۔ عن جابر بن عبداﷲ عن النبی ﷺ انہ قال من صلی خلف الامام فان قرأۃ الامام قرأۃ لہ ۔
حضرت جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، جو امام کے پیچھے نماز پڑھے تو بیشک امام کی قرأت ہی اس کی قرأت ہے۔
(سنن دارقطنی، ج1، ص324، حدیث:2،موطا امام محمد، ج1، ص195، حدیث: 118)
206۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی بخاری و مسلم کی شرط کے موافق ہیں۔
(سنن الکبریٰ للبیہقی ج22، ص159، حدیث:3011، نصب الرایہ، ج2، ص10)
207 ۔ عن عبداللّٰہ بن مسعود قال انصت للقرأۃ فان فی الصلوۃ شغلا وسیکفیک الامام۔
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ ( امام کی) قرأت کے وقت خاموش رہو، بیشک نماز اللّٰہ تعالیٰ سے مناجات ہے، تمہیں امام (کی قرأت) کافی ہے۔
(مؤطا امام محمد، ج1، ص197، حدیث نمبر:120)
208 ۔ عن عطاء بن یسار انہ سأل زید بن ثابت عن القرأۃ مع الامام فقال لاقرأۃ مع الامام فی شیء ۔
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللّٰہ نے زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ سے امام کے ساتھ قرأت کرنے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا، امام کے ساتھ قرأت کی کوئی حیثیت نہیں ۔
(مسلم، ج3، ص220، حدیث نمبر:903)

