اس حدیث پاک کی شرح میں حاشیہ مشکوۃ میں ہے :
لا یزنی الزانی الخ ہذا واشباہہ لنفی الکمال ای لا یکون کاملا فی الایمان حال کونہ زانیا ۔
یہاں کمال کی نفی ہے یعنی جب کوئی زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان کامل نہیں ہوتا ، اسی طرح دوسرے گناہوں میں بھی یہی وجہ ذکر کی جائے گی ۔ (مرقاۃ ، ج1، ص294)
اس حدیث کا یہی مفہوم صحیح بخاری میں مذکور ہے۔
وقال ابو عبید اﷲ لایکون ہذا مومنا تاما ولا یکون لہ نور الایمان۔ ہذا اللفظ للبخاری ۔
ابو عبیدﷲ نے کہا یہ لوگ کامل مومن نہیں رہتے، اور نہ ہی ان کو نورِ ایمان حاصل ہوتا ہے ۔
(مشکوٰۃ ، ج 1، ص12، حدیث نمبر:54)
پس حدیث پاک کا مفہوم یہ ہوا کہ زانی کے زنا کرتے وقت اس کا ایمان کامل نہیں ہوتا۔ اور چور کے چوری کرتے وقت اس کا ایمان کامل نہیں ۔ شرابی کے شراب پیتے وقت اس کا ایمان کامل نہیں ۔ زبر دستی کسی کامال لیتے وقت اس شخص کا ایمان کامل نہیں۔ مومن کو قتل کرنے والے کا بوقت قتل ایمان کامل نہیں ۔ اس قسم کے جرائم کے مرتکب لوگوں کو صرف فاسق کہا جاسکتا ہے کافر نہیں کہا جاسکتا ۔
خود بخود واضح ہوگیا کہ یہاں نفی ایمان کے کامل ہونے کی ہے، ایمان کے وجود کی نفی نہیں ۔ اسی طرح حدیث لا صلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتاب میں بھی نماز کے کامل ہونے کی نفی ہے۔
نماز کا نقصان:
غیرمقلدین سورۃ فاتحہ پڑھنے کے فرض ہونے پر یہ دلیل بھی دیتے ہیں،
196 ۔ عن ابی ھریرۃ عن النبی ﷺ قال من صلی صلوۃ لم یقرأ فیھا بام القرآن فھی خداج ثلاثا غیر تمام ۔ (مسلم، ج2، ص352، حدیث نمبر:598)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے نماز ادا کی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی، اس کی نماز ناقص ہے۔ یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا ۔
حالانکہ اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہو رہا ہے کہ سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب ہے، فرض نہیں۔ کیونکہ واجب ترک ہونے سے نقص پیدا ہوتا ہے اور فرض ترک کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔ اگر لاصلوٰۃ کا مذکورہ معنی نہ کیا جائے تو ان دو احادیث کا کیا معنی ہو گا؟؟
197۔ ان علیا قال من قرأ خلف الامام فلا صلوۃ لہ۔
حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے ارشاد فرمایا، جس نے امام کے پیچھے قرأت کی، اس کی نماز (کامل) نہیں۔
(مصنف امام عبدالرزا ق، ج2، ص139، حدیث نمبر:2810)
198 ۔ عن موسی بن سعد ابن زید بن ثابت یحدثہ عن جدہ انہ قال من قرأ خلف الامام فلا صلوۃ لہ۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،جس شخص نے امام کے پیچھےقرأت کی، اس کی نماز (کامل) نہیں ۔
(مؤطا امام محمد، ج1، ص205، حدیث نمبر:128)
ہم نے قوسین میں کامل کا لفظ لکھ کر حقیقی مفہوم واضح کیا ہے۔ مذکورہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ ان احادیث سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ امام کے پیچھے قرأت کرنے والے کی نماز نہیں ہوتی ، مطلب یہ ہے کہ کامل نہیں ہوتی۔ پس جیسے اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے سورۃ فاتحہ کا نہ پڑھنا نماز کا نقصان ہے اسی طرح امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے کے لیے سورۃ فاتحہ کا پڑھنا نماز کا نقصان ہے۔
199۔ عن عبادۃ بن الصامت یبلغ بہ النبی ﷺ قال لا صلوۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب فصاعدا قال سفیان لمن یصلی وحدہ۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں رسولﷲ ﷺ اس کی تبلیغ فرماتے تھے کہ جو شخص سورۃ فاتحہ یا اس سے زائد کچھ نہیں پڑھے گا اس کی نماز مکمل نہیں ۔ حضرت سفیان رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا ( کہ رسول ﷲ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے ) جو شخص اکیلے نماز پڑھ رہا ہو ۔ (سنن ابی داؤد، ج2، ص483، حدیث نمبر:700)
اگر اس حدیث میں ’’ لا صلوۃ ‘‘ کا معنی یہ کیا جائے اس کی نماز سرے سے ہوتی ہی نہیں تو یہ لازم آئے گا کہ سورۃ فاتحہ بھی رکن ہے، اسی طرح اور سورۃ کا ملانا بھی رکن ہے لہٰذا دونوں کے بغیر نماز سرے سے ہوتی ہی نہیں۔ اگر ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ امام کے پیچھے پڑھنا بھی اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے تو لازم یہ آئے گا کہ امام کے پیچھے فاتحہ کا پڑھنا بھی فرض ہے اور اسی طرح اور سورۃ کا ملانا بھی فرض ہے۔ حالانکہ یہ مذھب غیر مقلدین کا بھی نہیں ، ان کا سارا زور صرف سورۃ فاتحہ کے پڑھنے پر ہے، کوئی دوسری سورۃ پڑھنا ان کے نزدیک بھی فرض نہیں۔

