Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 85 of 107

امام بخاری کے استاذ الاستاذ امام عبدالرزاق رحمہما اللّٰہ(م۲۲۱ھ) روایت کرتے ہیں کہ:

188 ۔ اخبرنی موسی بن عقبۃ ان رسول اﷲ ﷺ وابوبکر و عمر و عثمان کانوا ینہون عن القرأۃ خلف الامام ۔

مجھے موسیٰ بن عقبہ رضی اللّٰہ عنہ نے خبر دی ہےکہ رسول کریم ﷺ ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللّٰہ عنہم  امام کے پیچھے قرأت کرنے سے منع فرماتے تھے۔
(مصنف امام عبدالرزا ق ،ج2، ص139، حدیث نمبر:2810)

 

189۔ ان عمر بن الخطاب قال لیت فی فم الذی یقرأ خلف الامام حجرا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، کاش کہ اس آدمی کے منہ میں پتھر ہو جو امام کے پیچھے قرأت کرتا ہے ۔
(مؤطا امام محمد، ج1، ص204، حدیث نمبر:127)

 

190 ۔ عن علی قال من قرأ خلف الامام فقد اخطأ الفطرۃ ۔

حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، جس شخص نے امام کے پیچھے قرأت کی، اس نے دینِ فطرت یعنی سنتِ نبوی کے خلاف کیا۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، ج1 ص376، حدیث نمبر3802)

 

191 ۔ امام دارقطنی رحمہ اللّٰہ نے اسی حدیث کو بغیر کسی جرح کے روایت کر کے اس کے قوی ہونے کی تائید کی ہے۔
(سنن دارقطنی ،ج1، ص331، حدیث نمبر:22)

 

 

سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز:

192۔ غیرمقلدین کہتے ہیں: لا صلوۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب۔ (بخاری ، ج1، ص236، حدیث نمبر:723، و مسلم، ج1، ص394، حدیث نمبر:34)(متفق علیہ)

 

(ترجمہ) الحمد شریف پڑھنے کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔(فرض ہو ، نفل ہو،نمازی امام ہویا مقتدی ہو یا اکیلا)۔ (صلوٰۃ الرسول، ص165)

 

قوسین والی عبارت غیر مقلد مصنف کی حدیث کے مفہوم میں تحریف کرنے کی نا پاک سعی ہے۔حدیث پاک کا صحیح ترجمہ ہے، اس کی نماز کامل نہیں جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔

’’لا‘‘کا استعمال جیسے کسی چیز کی نفی کے لیے ہوتا ہے ایسے ہی کسی وصف کے کمال کی نفی کے لیے بھی ہوتا ہے۔

متعدد احادیث ایسی ہیں جن کی رو سے کوئی شخص گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو تو وہ ایمان سے خارج نظر آئے گا ، لیکن اگر یہ معنی تسلیم کر لیا جائے تو اس کے ایمان کے کامل ہونے یا مکمل ہونے کی نفی ہوگی کہ وہ شخص کامل مومن نہیں ، لیکن اس شخص سے ایمان کا وجود ختم نہیں ہوگا، ورنہ تو کسی مومن کو تلاش کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

 

آقا ومولیٰ ﷺکی مشہور حدیث پاک ہے،

193 ۔ لا ایمان لمن لا امانۃ لہ ولا دین لمن لا عہد لہ ۔

’’جو امانت دار نہیں اس کا ایمان نہیں اور جو وعدہ پورا نہ کرے، اس کا کوئی دین نہیں ‘‘۔
(مشکوٰۃ، ج1، ص8، حدیث نمبر:35)

 

کانہ قال لا ایمان ولا دین کاملا لمن لا یطیع اﷲ فیما امر بہ وینہی عنہ ۔

گویا کہ جو شخص ﷲ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی کا لحاظ نہیں کرتا ،اس کا ایمان اور دین کامل نہیں ۔
(مرقاۃ  شرح مشکوٰۃ، ج1، ص260)

 

واضح ہوا کہ یہاں بھی کمالِ ایمان اور کمالِ دین کی نفی ہے، مطلقاً ایمان اور دین کی نفی نہیں، ورنہ یہ لازم آئے گا کہ ہر خیانت کرنے والے کو اور ہر وعدہ خلاف کو کافر کہا جائے۔

حالانکہ ایسا نہیں کہا جاسکتا ، ایسے لوگوں کو صرف گناہ کبیرہ کا مرتکب قرار دیا جاسکتا ہے۔

 

ایک اور حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے۔

194 ۔ لا صلوۃ لجار المسجد الا فی المسجد ۔

’’مسجد کے پڑوسی کی نماز کامل نہیں سوائے مسجد کے‘‘ ۔
(دارقطنی، ج1، ص419، حدیث نمبر:1)

 

اس حدیث پاک میں بھی اگر کمال کی نفی کی جائے تو معنی صحیح ہوگا ۔ یہ معنی درست نہیں ہوگا کہ’’ مسجد کے پڑوسی کی نماز سوائے مسجد کے ہوتی ہی نہیں ‘‘ کیونکہ مسجد کے پڑوسی کی اپنے گھر یا مسجد کے باہر کہیں اور نماز ہو جائے گی ، لیکن مسجد میں کامل ہوگی۔ پس ثابت ہوا کہ یہاں بھی کمال کی نفی ہے ۔

 

195 ۔ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اﷲ ﷺ لا یزنی الزانی حین یزنی وہو مومن ولایسرق السارق حین یسرق وہو مؤمن ولایشرب الخمر حین یشربہا وہو مؤمن والخ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا، ’’ زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا ، چور جب چوری کرتا ہے تو اس کا ایمان نہیں ہوتا ، شرابی جب شراب پیتا ہے اس کا ایمان نہیں ہوتا ، الی آخرہ۔ (مشکوٰۃ، ج1، ص11، حدیث نمبر:53)

Share:
keyboard_arrow_up