یہ حدیث صحیح ہے ۔ اس کو امام مسلم رحمہ اللّٰہ نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے ۔ اگرچہ انہوں نے اپنی صحیح میں ذکر نہیں کیا ۔
رجالہ کلہم ثقات وقد صحح حدیث ابی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ عند مسلم صاحب الصحیح حین سألہ صاحبہ ابوبکر بن اخت ابی النصر بعد ما سألہ عن حدیث ابی موسی الاشعری بقولہ فحدیث ابی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ فقال ہو صحیح یعنی واذا قرأ فانصتوا فقال ہو عندی صحیح فقال لم لم تضعہ ہہنا قال لیس کل شئی عندی صحیح وضعتہ ہہنا ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث جو ذکر کی گئی، اس کے راوی تمام ثقہ ہیں اور اس حدیث کو مسلم نے بھی صحیح قرار دیا ہے جب ان سے ان کے دوست ابوبکر رحمہ اللّٰہ نے حدیث ابو موسیٰ رضی اللّٰہ عنہ کے متعلق اس طرح سوال کیا کہ حدیث ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ میں ’’ واذا قرأ الامام فانصتوا‘‘ کے الفاظ صحیح ہیں تو آپ نے کہا میرے نزدیک صحیح ہیں ۔ تو آپ کے دوست نے کہا کہ آپ نے اپنی صحیح ( صحیح مسلم ) میں اس حدیث کو کیوں نہیں ذکر کیا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ کوئی ضروری نہیں کہ ہر صحیح حدیث کو میں اپنی کتاب میں ضرور ہی ذکر کروں ۔
(نمازِ حبیبِ کبریاء، ص183)
قرأت خلف الامام پر تنبیہہ:
182۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
ان رسول اﷲ ﷺ صلی الظہر فجعل رجل یقرأ خلفہ ’’سبح اسم ربک الاعلی‘‘ فلما انصرف قال ایکم قرأ اوایکم القارئ قال رجل انا فقال قد ظننت ان بعضکم خالجنیہا ۔
بے شک رسول ﷲ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی۔ ایک شخص آپ کے پیچھے سورۃ ’’ سبح اسم ربک الاعلی ‘‘ کی تلاوت کر رہا تھا ۔جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا، تم میں سے کون پڑھ رہا تھا ؟ تو ایک صحابی نے عرض کیا، میں پڑھ رہا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا، اسی لئے میں نے جانا کہ تم میں سے کوئی شخص میری قرأت میں خلل ڈال رہا ہے ۔ (مسلم ، ج1،ص298، حدیث نمبر:398)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حضور کے پیچھے قرأت نہیں کرتے تھے کیونکہ جب حضور ﷺ نے دریافت فرمایا، کون قرأت کر رہا تھا ؟ تو صرف ایک شخص نے جواب دیا اور اس کو بھی آقا ومولیٰ ﷺ نے منع فرما دیا۔
دوم یہ کہ جب سری نماز میں مقتدی کا قرأت کرنا منع ہے تو جہری نمازوں میں بدرجۂ اولیٰ منع ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ تلاوت قرآن کے وقت خاموش رہنا اور توجہ سے سننا نصِ قرآن سے فرض ہے۔
183 ۔ عن عبداﷲ بن شداد بن الہاد قال امّ رسول اﷲ ﷺ فی العصر قال فقرأ رجل خلفہ فغمزہ الذی یلیہ فلما ان صلی قال لم غمزتنی قال کان رسول اﷲ ﷺ قدامک فکرہت ان تقرأ خلفہ فسمعہ النبی ﷺ قال من کان لہ امام فان قرأتہ لہ قرأۃ ۔
عبد ﷲ بن شداد بن ھاد رضی اللّٰہ عنہ کہتے ہیں ،رسول ﷲ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی۔ ایک شخص آپ کے پیچھےقرأت کرنے لگا تو اس کے ساتھ والے ایک شخص نے اسے ٹھوکر لگائی۔ جب نماز پڑھ چکے تو اس شخص نے پوچھا، تم نے مجھے ٹھوکر کیوں لگائی؟ اس نے کہا، رسول ﷲ ﷺ تمہیں نماز پڑھا رہے تھے ، میں نے نا پسندکیا کہ تم حضور ﷺ کے پیچھے قرأت کرو ۔ نبی کریم ﷺ نے جب ان کی بات سنی تو ارشاد فرمایا ، ’’جس شخص کا امام ہو، امام کی قرأت ہی اس کی قرأت ہے ‘‘۔
(موطا امام محمد، ج1، ص202، حدیث نمبر:125)
184۔ اخبرنی بعض ولد سعد بن ابی وقاص انہ ذکر لہ ان سعدا قال وددت ان الذی یقرأ خلف الامام فی فیہ جمرۃ ۔
حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، مجھے یہ پسند ہے کہ جو شخص امام کے پیچھے قرأت کرے ، اس کے منہ میں چنگاری ہو ۔ (موطا امام محمد، ج1، ص203، حدیث نمبر:126)
185 ۔ حدثنا ابراہیم النخعی عن علقمہ بن قیس قال لان اعض علی جمرۃ احب الیّ من ان اقرأ خلف الامام ۔
حضرت علقمہ بن قیس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، آگ کی چنگاری کا دانتوں سے کاٹنا مجھے پسند ہے بجائے اس کے کہ میں امام کے پیچھے قرآن پڑھوں ۔ (موطا امام محمد، ج1، ص200، حدیث نمبر:123)
186۔ عن الاسود بن یزید انہ قال وددت ان الذی یقرأ خلف الامام ملئی فوہ ترابا۔
اسود بن یزید رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، مجھے یہ پسند ہے کہ جو شخص امام کے پیچھے قرآن پڑھے، اس کا منہ مٹی سے بھر جائے ۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، ج1،ص376، حدیث نمبر:3810)
187۔ حدثنا وکیع عن حسن بن صالح عن عبدالملک بن ابی سلیمان عن اکیل عن ابراہیم قال الذی یقرأ خلف الامام شاق۔
حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،جس شخص نے امام کے پیچھے قرأت کی اس نے دین کی مخالفت کی ۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، ج1،ص377، حدیث نمبر:3821)

