Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 83 of 107

4۔ قرأت خلف الامام:

نماز میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ یا کوئی اور سورۃ قرأت کرنا منع اور نا جائز ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ    O

’’اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم ہو‘‘۔ ) (پارہ :9، سورۃالاعراف، آیت نمبر:204

 

176۔ عن ابن عباس فی الایۃ قولہ واذا قریٔ القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا یعنی فی الصلوٰۃ المفروضۃ ۔

حضرت عبداللّٰہ ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں، مذکورہ آیت فرض نمازوں کے بارے میں ہے۔
(تفسیر طبری، ج13، ص348،تفسیر کبیر،ج15،ص107،تفسیر ابن کثیر، ج3، ص486)

 

اس آیت کریمہ سے واضح ہے کہ جب نماز میں قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ جہری نمازوں میں امام آواز سے قرأت کرتا ہے اس لیے فاستمعوا لہ وانصتوا دونوں پر عمل کیا جائے یعنی توجہ سے سنو اور خاموش رہو۔

اور جن نمازوں میں امام دل میں قرأ ت کرتا ہے، ان میں اس حکم پر عمل کیا جائے، انصتوا ۔ خاموش رہو۔

’’جمہور صحابہ و تابعین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں جو حکم مذکور ہے وہ نماز سے متعلق ہے یعنی مقتدی نماز میں امام کے پیچھے قرأت نہ کرے‘‘۔
(تفسیر طبری، ج13، ص348،مدارک التنزیل،ج1،ص628)

 

177۔ علامہ بغوی نے فرمایا،

وہذا قول الحسن والزہری والنخعی ان الآیۃ فی القرأۃ فی الصلوۃ خلف الامام۔

یہی قول حسن ( بصری )، زہری اور ( ابراہیم ) نخعی رحمہم ﷲ کا ہے کیونکہ آیۃ کا تعلق امام کے پیچھے نماز میں قرأت سے ہے یعنی امام کے پیچھے قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ۔ (تفسیر البغوی،ج 3،ص319)

 

178۔ حضرت یسیر بن جابر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

صلی ابن مسعود فسمع ناسا یقرؤن مع الامام فلما انصرف قال اما آن لکم ان تفقہوا اما آن لکم ان تعقلوا واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا کما امرکم اﷲ ۔

حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے نماز پڑھی، لوگ امام کے ساتھ قرآن پڑھ رہے تھے۔ آپ نے نماز سے فارغ ہوکر فرمایا، کیا ابھی تک تمہارے لئے وقت نہیں آیا کہ تم ( قرآن کو) سمجھو؟ کیا ابھی تک تمہیں عقل نہیں آئی ؟ جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش ہو جاؤ جیسا کہ ﷲتعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔
(تفسیر طبری، ج13، ص346)

 

اس حدیث کو امام ابن جریر طبری نے اپنی مایہ ناز تفسیر میں روایت کیا ہے۔ علامہ محمود آلوسی بغدادی رحمہما اللّٰہ نے بھی اس حدیث کو اپنی تفسیر روح المعانی میں بیان کیا ہے۔
(تفسیر طبری، ج13، ص346،تفسیر روح المعانی،ج5،ص140)

 

179۔ عن ابی موسی قال علّمنا رسول اﷲ ﷺ قال اذا قمتم الی الصلوۃ فلیؤمکم احدکم واذا قرأ الامام فانصتوا ۔ 

حضرت ابو موسیٰ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم ﷺ نے نماز سکھائی اور فرمایا،جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تم میں سے ایک شخص تمہاری امامت کرے اور جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔
(مسند احمد، ج4، ص415، حدیث:19738، مسلم،ص214، حدیث: 404)

 

علامہ نیموی رحمہ اللّٰہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔
(آثار سنن، ص174)

 

180۔ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اﷲ ﷺ انما جعل الامام لیؤتم بہ فاذا کبر فکبروا واذا قرأ فانصتوا ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ  سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا، امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، تو جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔
(سنن ابی داؤد، ج2، ص22 4، حدیث نمبر:511)

 

علامہ نیموی رحمہ اللّٰہ نے کہا ہے کہ:یہ حدیث صحیح ہے۔(آثار سنن،ص175)

 

محدثین کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ (البدر المنیر، ج4، ص481)

 

181۔ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اﷲ ﷺ انما جعل الامام لیؤتم بہ فاذا کبر فکبروا واذا قرأ فانصتوا ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا کریم ﷺ نے فرمایا، امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، تو جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اورجب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔
(سنن النسائی، ج3، ص340، حدیث نمبر:823)

Share:
keyboard_arrow_up