Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 82 of 107

3۔ ہاتھ باندھنے کا طریقہ:

سنت یہ ہے کہ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر ناف کے نیچے باندھیں۔

171۔ عن علی قال من سنۃ الصلوۃ وضع الایدی علی الایدی تحت السرۃ ۔

حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، سنت یہ ہے کہ (نمازی ) اپنے ہاتھوں کو ہاتھوں پر ناف کے نیچے رکھیں ۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، ج1،  ص390حدیث نمبر:3961)

 

172۔ عن ابی جحیفۃ ان علیا قال من السنۃ وضع الکف علی الکف فی الصلوۃ تحت السرۃ ۔

حضرت ابو جحیفہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں بیشک حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، سنت یہ ہے کہ نماز میں ایک ہتھیلی کو دوسری ہتھیلی پر ناف کے نیچے رکھا جائے۔ (سنن ابی داؤد، ج2، ص412، حدیث نمبر:645)

 

173۔ حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ  فرماتے ہیں،

رأیت النبی ﷺ یضع یمینہ علی شمالہ فی الصلوۃ تحت السرۃ ۔

میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھے ہوئے ہیں۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، ج14، ص204)

واسنادہ صحیح ۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (آثار السنن، ص 148)

 

حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ عنہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کا طریقہ بیان کرتے ہیں،

174۔ قلت لانظرن الی صلوۃ رسول اﷲ ﷺ کیف یصلی فنظرت الیہ فقام فکبر ورفع یدیہ حتی حاذتا باذنیہ ثم وضع یدہ الیمنی علی کفہ الیسری والرسغ والساعد ۔

میں نے ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ میں آقا و مولیٰ ﷺ کو ضرور دیکھوں گا کہ وہ کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ حضور اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہہ کر اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اٹھایا پھر آپ نے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر اس طرح رکھا کہ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی سے بائیں ہاتھ کے جوڑ کو پکڑ لیا اور دائیں ہاتھ کی باقی تین انگلیاں کلائی پر تھیں۔ (سنن النسائی،ج 3، ص433، حدیث نمبر:879)

 

175۔ حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

قال ابو ہریرۃ رضی اﷲ عنہ اخذ الاکف علی الاکف فی الصلوۃ تحت السرۃ ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں، نماز میں ایک ہتھیلی کو دوسری ہتھیلی پر ناف کے نیچے رکھا جائے۔
(سنن ابی داود، ج2، ص412، حدیث نمبر:647)

 

بعض احادیث میں ناف کے اوپر یا سینے پر ہاتھ باندھنے کا ذکر آیا ہے۔ محدث و امام علامہ نیموی رحمہ اللّٰہ ان روایات کی اسناد کا تحقیقی جائزہ لے کر فرماتے ہیں،

قال النیموی وفی الباب احادیث اخر کلہا ضعیفۃ ۔

علامہ نیموی نے کہا اس باب میں یعنی سینے پر نماز کی حالت میں ہاتھ رکھنے کے مسئلہ میں تمام احادیث ضعیف ہیں ۔
(آثار سنن، ص 145)

 

واضح ہوا کہ جب سینہ پر ہاتھ رکھنے والی تمام احادیث ضعیف ہیں تو ان کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا صرف وہی احادیث صحیح یا حسن ہیں جن سے یہ ثابت ہے کہ ہاتھ ناف کے نیچے رکھے جائیں ۔

 

آثار السنن میں مصنف ابن ابی شیبہ سے منقول تمام احادیث کو صحیح یا حسن کہا گیا ہے۔

عن عقلمہ بن وائل بن حجر عن ابیہ الخ  اس پر اسنادہٗ صحیح مذکور ہے ، کہ اس کی سندات صحیح ہیں۔ اس طرح عن الحجاج بن حسان الخ اس حدیث پر بھی اسنادہٗ صحیح مذکورہ ہے۔ عن ابراہیم الخ  اس پر اسنادہٗ حسن مذکورہ ہے۔ یعنی یہ حدیث سند کے لحاظ پر حسن ہے ۔ اب واضح ہوا کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے جن احادیث سے ثابت ہیں وہ صحیح یا حسن ہیں ، جن سے اعمال واجبہ بھی ثابت ہوتے ہیں تو مستحب یا سنت کا ثبوت کیوں نہیں ہو سکتا ؟

یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں تینوں قسموں کی احادیث میں تطبیق دینا ممکن نہیں یقینا ً یہاں دوسرا ضابطہ استعمال ہوگا کہ کون سی احادیث سند کے لحاظ پر صحیح ہیں اور کون سی ضعیف ہیں۔ جو صحیح ہوں گی ان پر عمل ہو گا، ضعیف کو چھوڑ دیا جائے گا ۔ (نمازِ حبیبِ کبریاء،ص،97،102، ملخصاً)

Share:
keyboard_arrow_up