Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 81 of 107

161۔ حضرت مالک بن حویرث رضی اللّٰہ عنہ  فرماتے ہیں ،

ان رسول اللّٰہ ﷺ کان اذا کبر رفع یدیہ حتیٰ یحاذی بہما اذنیہ۔  

رسول کریم ﷺ   جب تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے یہاں تک کہ وہ کانوں کے برابر ہو جاتے۔
(مسلم، ج2، ص341، حدیث نمبر:589،سنن نسائی،حدیث:1085)

 

162۔ حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا،

انہ رای النبی ﷺ رفع یدیہ حین دخل فی الصلوٰۃ کبر وصف ہمام حیال اذنیہ ۔

انہوں نے دیکھا کہ رسول اللّٰہ ﷺ  نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو بلند فرماتے۔ ہمام راوی نے کہا، آپ کانوں تک ہاتھ اُٹھاتے تھے۔ (مسلم، ج2، ص366، حدیث نمبر:608)

 

163۔ اس حدیث کو نسائی، طبرانی، دارقطنی اور بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔رحمہم اللّٰہ
(سنن النسائی، ج3، ص417، حدیث نمبر:870،  والسنن الکبری، ج2،ص28، حدیث نمبر:2416، )

 

164۔ حضرت عبدالجبار بن وائل رضی اللّٰہ عنہ  فرماتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا،

صلیت خلف رسول اﷲ فلما افتتح الصلوۃ کبر ورفع یدیہ حتی حاذتا اذنیہ۔

میں نے سرکارِ دوعالم ﷺ  کے پیچھے نماز ادا کی۔ جب آپ نے نماز شروع فرمائی تو تکبیر کہی اور اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کیے کہ آپ کے ہاتھوں کے انگوٹھے دونوں کانوں کے مقابل ہو گئے۔
(سنن ابی داود، ج2، ص387، حدیث نمبر:624،  وسنن نسائی، ج3، ص416، حدیث نمبر:869، سنن کبری، ج5، ص19، حدیث نمبر:1248)

 

165۔ حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ  فرماتے ہیں ،

کان رسول اﷲ ﷺ اذا افتتح الصلوۃ کبر ثم رفع یدیہ حتی یحاذی ابھامیہ اذنیہ ۔

حضور ﷺ  جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ ہاتھوں کے انگوٹھے کانوں کے برابر کرتے ۔
(سنن دار قطنی، ج1، ص300، حدیث نمبر:12)

 

166۔ امام حاکم نے حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے اسی طرح روایت کی اور فرمایا،

اس حدیث کی سند صحیح ہے، یہ بخاری و مسلم کی شرط کے مطابق ہے اور اس میں کوئی ضعف نہیں ہے۔
(مستدرک، ج1، ص349، حدیث نمبر:822)

 

167۔ حضرت مالک بن حویرث رضی اللّٰہ عنہ  فرماتے ہیں،

وکان من اصحاب النبی ﷺ ان رسول اﷲ ﷺ کان اذا صلی رفع یدیہ حین یکبر حیال اذنیہ ۔

نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام اس طرف تھے کہ حضور ﷺ جب نماز ادا فرماتے تو تکبیر کہتے وقت اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھاتے ۔ (نسائی، ج3، ص417، حدیث نمبر:870)

 

168۔ عن البراء بن عازب قال کان النبی ﷺ اذا کبر لافتتاح الصلوۃ رفع یدیہ حتی یکون ابھماماہ قریبا من شحمتی اذنیہ۔

براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ جب نماز کے شروع کرتے وقت تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں کے انگوٹھوں کو کانوں کی لوکے قریب کرتے۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص334)

امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ نے صرف دو واسطوں سے یہ حدیث روایت کی ہے ۔

 

169۔ عن عاصم عن وائل بن حجر ان النبی ﷺ کان یرفع یدہ یحاذی ویوازی بہا شحمۃ اذنیہ ۔

حضرت عاصم، حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے ہاتھ کو اٹھاتے تھے اور کان کی لو کے برابر کرتے تھے ۔ (شرح مسند ابی حنیفہ، ج1، ص492)

 

امام ابو الفرج رحمۃ ﷲ علیہ  نے فرمایا،

اس حدیث کی سند میں تمام راوی ثقہ ہیں ۔

 

170۔ حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں ،

قال رسول اﷲ ﷺ یا وائل بن حجر اذا صلیت فاجعل ید یک حذاء اذنیک والمرأۃ تجعل یدیہا حذاء ثدیہا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا،اے وائل بن حجر! جب تم نماز ادا کرو تو اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برابر کرو اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو سینے کے برابر کریں۔ (معجم کبیر، ج22، ص19، حدیث نمبر:17879)

 

ہمارا موقف یہ ہے کہ تمام صحیح احادیث پر عمل کرنا یعنی ان میں تطبیق دے کر عمل کرنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ ایک حدیث کو چھوڑ دیا جائے اور دوسری پر عمل کیا جائے جیسا کہ نام نہاد اہلِ حدیث کا طریقہ ہے۔ پس اصل اہلِ حدیث تو اہلسنت ہی ہیں۔

وما صفۃ الرفع فالمشہور من مذہبنا ومذہب الجماہیر انہ یرفع یدیہ حذو منکبیہ بحیث یحاذی اطراف اصابعہ فروع اذنیہ وابہاماہ شحمتی اذنیہ وراحتاہ منکبیہ فھذا معنی قولہم حذو منکبیہ وبھذا جمع الشافعی رحمۃ اﷲ بین روایات الاحادیث۔

نبیِ کریم ﷺ کے ہاتھوں کے اٹھانے میں ہمارا اور جمہور اہلِ علم کا مشہور مذہب یہ ہے کہ ہاتھوں کو کندھوں تک اس طرح اٹھائے کہ اپنی انگلیوں کوکانوں کے اوپر حصہ کے برابر کرے اور انگوٹھوں کو کانوں کی لو تک اور ہتھیلیوں کو کندھوں کے برابر کرے۔ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھانے کا یہی مطلب ہے ۔ امام شافعی رحمہم ﷲ نے بھی روایات میں اسی طرح تطبیق دی ہے ۔
(شرح صحیح مسلم للنووی،ج4، ص95)

Share:
keyboard_arrow_up