Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 80 of 107

غیر مقلدین کو چاہیے کہ فتنہ و فساد چھوڑ دیں اور اپنے امام مولوی اسماعیل دہلوی ہی کی یہ بات مان لیں کہ : -

’’اگر کوئی شخص ساری عمر رفع یدین نہ کرے تو اسے ملامت نہ کرنی چاہیے‘‘۔ (تنویر العینین، ص5)

 

امام المحدثین فی الہند شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ کی تحریر پر ہم اس گفتگو کا اختتام کرتے ہیں،وہ اپنی تحقیق کا خلاصہ یوں ارشاد فرماتے ہیں،

’’نماز میں تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ رفع یدین احناف اور شافعیہ کے درمیان مختلف فیہ ہے۔ احادیث و آثار دونوں جانب وارد ہیں۔ اس بارے میں جو چیز پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ یا تو نبی کریم ﷺ نے دونوں طریقوں سے نماز پڑھی ہے یعنی کبھی رفع یدین کیا ہے اور کبھی نہیں کیا۔ پھر صحابہ کرام میں سے جس نے جو کیفیت دیکھی وہ بیان کر دی۔

دوسری صورت یہ ہے کہ ابتدا میں رفع یدین تھا بعد میں منسوخ ہو گیا۔ اکابر صحابہ جیسے حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ جو شریعت اور دینی احکام کے عالم اور رسول کریم ﷺ کے حالات جاننے کا بڑا خیال رکھنے والے تھے اور سفر و حضر میں آپ کے ساتھ رہتے تھے، انہوں نے رفع یدین نہیں کیا۔ ان کے اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتمالِ ثانی (یعنی رفع یدین منسوخ ہونا) ظاہر ہے۔

امیر المومنین حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے بھی رفع یدین نہ کرنا مروی ہے۔ اگر فرضاً و تقدیراً دونوں صورتیں ہوں تو پھر بھی رفع یدین نہ کرنے کو ترجیح ہو گی کہ اس میں سکون ہے جو نماز کے خشوع و خضوع کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے‘‘۔
(اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ، ج2،ص170)

وما توفیقی الا باللّٰہ علیہ توکلت والیہ انیب

 

حضور ﷺ  کی نماز:

اللّٰہ تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے،

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔

’’بیشک تمہیں رسول اللّٰہ ﷺ  کی پیروی بہتر ہے، یہ اس کے لیے ہے جو اللّٰہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہو‘‘۔ (پارہ:21، سورۃ الاحزاب، آیت نمبر:21)

 

رسولُ اللّٰہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے،

صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ۔

’’تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتا ہوا دیکھو‘‘۔ (بخاری، ص1، ص226، حدیث نمبر:605)

 

آقا ومولیٰ ﷺ کی احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ و تابعین سے شریعت اخذ کر کے ہم تک پہنچانے کا فریضہ ائمہ اربعہ نے انجام دیا جن میں امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ سب سے اول ہیں کیونکہ آپ تابعی ہیں۔ یہ ذہن نشین رہے کہ احناف اور مذاہبِ ثلاثہ کے مقلدین کے درمیان اختلاف فروعی مسائل میں ہے۔ عقائد میں یہ سب اہلسنت ہیں جبکہ غیر مقلدین سے ہمارا اختلاف عقائد میں ہے جیسا کہ پہلے مذکور ہوا۔

فقیر کا ارادہ پہلے یہ تھا کہ صرف رفع یدین کے حوالے سے مذہبِ حنفی کے دلائل اور غیر مقلدین کے اعتراضات کے جوابات پر کتاب تحریر کی جائے لیکن اسی دوران بعض احباب و متعلقین نے اصرار کیا کہ فاتحہ خلف ُ الامام اور آمین بالجہر وغیرہ پر بھی دلائل اس کتاب میں شامل کیے جائیں۔ ان کے اصرار کے پیشِ نظر مگر کتاب کی ضخامت کا خیال رکھتے ہوئے مختصردلائل تحریر کیے جا رہے ہیں۔

تفصیلی دلائل کے لیے مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمہ اللّٰہ کی کتاب”جاءَ الحق“اور مفتی عبدالرزاق بھترالوی کی ”نمازِ حبیبِ کبریاء“ کا مطالعہ فرمائیں۔

2۔کانوں تک ہاتھ اٹھانا:

نماز کے شروع میں تکبیر تحریمہ کے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھانا رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔ اس حوالے سے کئی حدیثیں اس کتاب میں پہلے مذکور ہو چکیں۔ مزید چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔

Share:
keyboard_arrow_up