یہ بھی ذہن میں رہے کہ حماد، ابراہیم نخعی، علقمہ اور اسود رضی اللّٰہ عنہ سب ہی تابعین میں سے ہیں، اس وجہ سےبھی واسطوں کی زیادتی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
پس ثابت ہوا کہ اگر دو متعارض باتیں دو فریق سے مروی ہوں۔ دونوں ثقہ ہوں مگر ایک فریق کے راوی زیادہ عالم، زیادہ ذہین اور دین کی زیادہ سمجھ رکھنے والے ہوں تو ہر عاقل و دانشمند اسی بات کو ترجیح دے گا جو ایسے فقیہ راویوں سے مروی ہو۔
اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اختلافی رفع یدین کے ثبوت پر سب سے اہم دلیل سیدنا امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے پاس امام بخاری و امام مسلم کی پیدائش سے درجنوں سال پہلے پیش ہوئی مگر اس سے زیادہ قوی روایت کے معارض ہونے کی وجہ سے امام اعظم نے اسے قبول نہ فرمایا۔ اس واقعہ کو غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن بھوپالی نے بھی اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔
(الروضۃ الندیہ، ج1، ص141)
آخری بات:
الحمد للّٰہ! ہم نے دلائل و براہین سے ثابت کر دیا ہے کہ تکبیرِ تحریمہ کے سوا نماز میں کسی جگہ بھی رفع یدین جائز نہیں۔ جبکہ غیر مقلدین کا دعویٰ ہے کہ’’ نماز کے شروع میں، رکوع سے قبل اور رکوع کے بعد نیز دو رکعت سے کھڑے ہو کر تیسری رکعت کی ابتداء میں رفع یدین کرنا لازم ہے اور اس رفع یدین کے بغیر نماز ناقص ہے۔
اسی طرح دوسری اور چوتھی رکعت کے شروع میں نیز سجدوں سے پہلے، ان کے درمیان اور سجدوں کے بعد رفع یدین نہیں ہے ‘‘۔
ہم انصاف پسند اہلِ تحقیق غیر مقلدین سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ کوئی ایک ایسی صحیح صریح مرفوع متصل غیر معلل غیر شاذ غیر معارض حدیث پیش کریں جو ان کے اِس دعوی پر واضح دلیل ہو۔
کوئی غیر مقلد قیامت تک اپنے مذکورہ دعویٰ کی دلیل پیش نہیں کر سکتا، لہٰذا ہم امام بخاری کا قول سناتے ہیں،
فلیحذر امرؤ أن یتأول أو یقول علی رسول اللّٰہ ﷺ مالم یقل، قال اللہ عزوجل:
{فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ أوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} [النور:63]
(جزء رفع الیدین،ص63)
’’ان لوگوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ وہ نبی اپر وہ بات کہہ رہے ہیں جو آپ نے نہیں کہی۔ کیونکہ اللّٰہ فرماتا ہے، ’’پس ان لوگوں کو جو نبی ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں، اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ انہیں (دنیا میں)کوئی فتنہ یا (آخرت میں) درد ناک عذاب پہنچے‘‘۔ (نمازِ نبوی، ص167)
غیر مقلد مولوی ثناء اللّٰہ امرتسری کے بقول، ۸۰ سال قبل یہاں سب مسلمان حنفی بریلوی خیال کے تھے۔ (شمع توحید، ص40)
انگریز دور میں غیر مقلد فرقہ پیدا ہوا۔ انہوں نے رفع یدین کے مسئلہ پر فتنہ و فساد شروع کیا اور کئی جگہ نوبت مقدمہ بازی تک پہنچائی۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مجددِ دین و ملت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ اسی حوالے سے فرماتے ہیں،
ہمارے ائمہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین نے احادیثِ ترک پر عمل فرمایا، حنفیہ کو ان کی تقلید چاہیے۔ شافعیہ وغیرہم اپنے ائمہ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کی پیروی کریں، کوئی محلِ نزاع نہیں۔
ہاں وہ حضرات جو تقلیدِ ائمہ دین کو شرک و حرام جانتے ہیں اور بآنکہ علمائے مقلدین کا کلام سمجھنے کی لیاقت نصیبِ اعداء، اپنے لیے منصبِ اجتہاد مانتے اور خواہی نخواہی تفریق کلمہ مسلمین واثارتِ فتنہ بین المؤمنین کرنا چاہتے ہیں بلکہ اسی کو اپنا ذریعۂ شہرت و ناموری سمجھتے ہیں، ان کے راستے سے مسلمانوں کو دور رہنا چاہیے۔
مانا کہ احادیثِ رفع ہی مرجح ہوں تاہم آخر رفع یدین کسی کے نزدیک واجب نہیں ۔ غایت درجہ اگر ٹھہرے گا تو ایک امر مستحب ٹھہرے گا کہ کیا تو اچھا، نہ کیا تو کچھ برائی نہیں۔ مگر مسلمانوں میں فتنہ اٹھانا، دو گروہ کر دینا، نماز کے مقدمے انگریزی گورنمنٹ تک پہنچانا، شاید اہم واجبات سے ہو گا؟
اللّٰہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۔
’’ فتنہ قتل سے بھی سخت تر ہے‘‘۔
خود ان صاحبوں میں بہت لوگ صدہا گناہِ کبیرہ کرتے ہوں گے، انہیں نہ چھوڑنا، اور رفع یدین نہ کرنے پر ایسی شورشیں کرنا کچھ بھلا معلوم ہوتا ہوگا؟ اللّٰہ سبحانہٗ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے۔ آمین۔
(فتاویٰ رضویہ ج6، ص155)

