ائمہ ثلاثہ اور صحاح ستہ کے محدثین:
ائمہ ثلاثہ اور صحاح ستہ کے تمام محدثین براہِ راست یا بالواسطہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ ہی کے شاگرد ہیں۔مثلاً
امام مالک نے امام اعظم سے استفادہ کیا ہے جبکہ امام شافعی ، امام محمد بن حسن کے اور امام احمد بن حنبل، امام ابویوسف کے شاگرد ہیں جو کہ دونوں امام اعظم کے نامور شاگرد ہیں۔ اس طرح ائمہ ثلاثہ براہ راست یا بالواسطہ سیدنا امام اعظم ہی کے شاگرد ہوئے۔ رحمہم ﷲ تعالیٰ
یہ مذکور ہوا کہ امام احمد بن حنبل آپ کے شاگرد امام ابو یوسف کے شاگرد ہیں اور امام احمد کے شاگردوں میں امام بخاری، امام مسلم اور امام ابو داؤد شامل ہیں۔
امام ترمذی نے بخاری و مسلم سے اور امام نسائی نے امام ابو داؤد سے استفادہ کیا ہے جبکہ امام ابن ماجہ بھی اسی سلسلے کے شاگرد ہیں رحمہم ﷲ تعالیٰ۔
تو گویا صحاح ستہ کے تمام محدثین بالواسطہ امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ ہی کے شاگرد ہوئے۔ذلک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء۔
امام اعظم کی مضبوط دلیل:
حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللّٰہ، فرماتے ہیں،
160۔ اجتمع الامام ابوحنیفۃ والاوزاعی فی دار الحناطین بمکۃ فقال الاوزاعی لابی حنیفۃ مابالکم لا ترفعون ایدیکم فی الصلوٰۃ عند الرکوع و عند الرفع منہ فقال ابوحنیفۃ لاجل انہ لم یصح عن رسول اﷲ ﷺ فیہ شئ قال کیف لایصح وقد حدثنی الزہری عن سالم عن ابیہ عن رسول اﷲ ﷺ انہ کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلوۃ وعند الرکوع وعند الرفع منہ فقال لہ ابوحنیفۃ وحدثنا حماد عن ابراہیم عن عقلمۃ والاسود عن ابن مسعود ان رسول اللّٰہ ﷺ کان لا یرفع یدیہ الاعند افتتاح الصلوٰۃ ولایعود لشیٔ من ذلک۔
فقال الاوزاعی احدثک عن الزہری عن سالم عن ابیہ وتقول حدثنی حماد عن ابراہیم فقال لہ ابوحنیفۃ کان حماد افقہ من الزہری وکان ابراھیم افقہ من سالم وعلقمۃ لیس بدون ابن عمر فی الفقہ وان کانت لابن عمر صحبۃ ولہ فضل صحبۃ فالاسود لہ فضل کثیر وعبد اﷲ ہو عبد اﷲ فسکت الاوزاعی۔
فرجح بفقہ الرواۃ کما رجح الاوزاعی بعلو الاسناد وہو ای الترجیح بالفقہ۔
امام اوزاعی اور حضرت امام اعظم رضی ﷲ عنہما کی مکّہ معظّمہ میں دارُالحنَاطین میں ملاقات ہوئی۔ امام اوزاعی نے امام اعظم سے کہا، کیا بات ہے کہ آپ لوگ رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع یدین نہیں کرتے؟ امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ اس بارے میں رسول ﷲ ﷺ سے کوئی صحیح روایت نہیں ۔ امام اوزاعی نے کہا ، کیسے نہیں حالانکہ مجھ سے زہری نے حدیث بیان کی وہ سالم سے، سالم اپنے والد ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ جب نماز شروع کرتے ، جب رکوع میں جاتے اور جب رکوع سے اٹھتے تو رفع یدین کیا کرتے تھے ۔
اس کے جواب میں حضرت امام اعظم نے فرمایا، ہم سے حماد نے حدیث بیان کی ، وہ ابراہیم نخعی سے وہ علقمہ سے اور وہ عبدﷲ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ صرف افتتاحِ نماز کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ اس کے بعد پھر نہیں کرتے تھے ۔ اس پر امام اوزاعی نے کہا، میں حدیث بیان کرتا ہوں، عن الزھری عن سالم عن ابیہ۔ اور آپ کہتے ہیں، حدثنی حماد عن ابراھیم عن علقمۃ۔
امام اعظم نے فرمایا، حماد ، زہری سے افقہ ہیں اور ابراھیم ، سالم سے افقہ ہیں اور علقمہ فقہ میں ابن عمر سے کم نہیں اگر چہ صحابی ہونے کی وجہ سے وہ علقمہ سے افضل ہیں۔ اور حضرت عبدﷲ ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی فقہ میں برتری سب کو معلوم ہے۔ اس پر امام اوزاعی خاموش ہو گئے۔
(شرح مسند ابی حنفیہ، ج1، ص35، ومرقاۃ المفاتیح، ج3، ص302)
محدث علی قاری فرماتے ہیں، امام اوزاعی نے حدیث کو علوِ سند سے ترجیح دی ۔ اور امام اعظم نے راویوں کے افقہ ہونے کی بنیاد پر۔
یعنی امام اوزاعی نے یہ سمجھا کہ میری روایت دو واسطوں سے ہے اور ان کی تین واسطوں سے لہٰذا میری روایت قوی ہے۔
لیکن امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ، حدیث کی قوت کا دار و مدار واسطوں کے کم ہونے پر نہیں بلکہ راوی کے زیادہ فقیہ ہونے پر ہے۔ جب راوی فقہ میں بلند مرتبہ رکھتے ہوں تو بیشک ایک واسطہ بڑھ بھی جائے تو وہ حدیث قوی ہوگی۔

