Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 77 of 107

[ان جملوں کا بہترین مصداق سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ ہیں، تفصیل کے لیے کتاب ”سیدنا امام اعظم“ ملاحظہ کیجئے]

 

ابن عبدالوہاب نجدی اور تقلید:

’’اہلحدیث‘‘ یا سلفی حضرات تقلید کو شرک کہتے ہیں اور غیر مقلد ہونے کے دعویدار ہیں حالانکہ امام الوہابیہ شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی اور ان کے ہمنوا خود کو حنبلی کہلاتے تھے۔

غیر مقلدین کے ہم مسلک سلیمان بن سحمان نجدی نے اپنی کتاب الھدیۃ السنیۃ میں سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیزآل سعود کے حکم سے اپنے امام ابن عبدالوہاب نجدی کے عقائد بیان کیے ہیں جس کا ترجمہ اہلحدیث حضرات کے مولانا اسماعیل غزنوی اور مولانا محمد داؤد غزنوی نے کیا اور اس کا اردو نام ’’تحفۂ وہابیہ‘‘ رکھا اور اسے یکم جنوری ۱۹۲۷ ء کو امرتسر سے شائع کیا۔

اس پر تحریر ہے،

’’ہم (وہابی و سلفی علماء) فروعی مسائل میں حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللّٰہ علیہ کے طریقہ پر ہیں۔ چونکہ ائمہ اربعہ ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللّٰہ کا طریقہ منضبط ہے اس لئے ہم ان کے کسی مقلد پر انکار نہیں کرتے (الیٰ ان قال) ہم لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ چاروں ائمہ میں سے کسی ایک امام کی تقلید کریں‘‘۔ (تحفۂ وہابیہ، ص61)

اس سے معلوم ہوا کہ ۱۹۲۷ء تک عرب و عجم میں سب لوگ کسی نہ کسی امام کے مقلد ہوتے تھے۔ نیز عرب و عجم میں غیر مقلد یا اہلحدیث قسم کے لوگ نہیں ہوتے تھے۔

 

اہلحدیث کے مزعومہ پیشوا شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ تقلید کی اہمیت یوں بیان کرتے ہیں،

اعلم ان فی الاخذ بھذہ المذاہب الاربعۃ مصلحۃ عظیمۃ وفی الاعراض عنہا کلہا مفسدۃ کبیرۃ (الیٰ ان قال) ولیس مذہب فی ہذہ الازمنۃ المتأخرۃ بہذہ الصفۃ الا ہذہ المذاہب الاربعۃ۔

جان لو کہ ان چاروں مذاہب(حنفی مالکی شافعی حنبلی) کے اختیار کرنے میں زبردست مصلحت ہے اور ان سے انحراف کرنے میں زبردست فساد ہے۔ ان آخری زمانوں میں ان چاروں مذاہب کے سوا کوئی مذہب قابلِ اعتماد نہیں ہے‘‘۔ (عقد الجید، ج1، ص13)

 

ثابت ہوا کہ شاہ ولی اللّٰہ صاحب کے نزدیک بھی ائمہ اربعہ کی تقلید سے انحراف کرنے میں زبردست فساد ہے۔ نیز ان کے سوا کوئی نیا مذہب گھڑنا گمراہی ہے۔

امام اعظم کے تابعی ہونے کی وجہ سے مذہبِ حنفی کو دیگر مذاہب پر خاص ترجیح حاصل ہے۔ اس حوالے سے غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن بھوپالی لکھتے ہیں،

’’وہ مشہور مذاہب جن کو تمام امت نے قبول کر لیا ہے اور تمام مسلمانوں کا ان کے صحیح ہونے پر اتفاق ہے، چار مذاہب ہیں جو چاروں اماموں کی طرف منسوب ہیں۔ وہ چار امام یہ ہیں۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل۔ ان مذاہب میں سب سے زیادہ حق اور صحیح امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے کیونکہ یہ باقی مذاہب سے کتاب و سنت کی کثیر معرفت، علم الاحکام میں رائے کی صحت، استنباطِ مسائل میں رائے کی قوت اور پختگی کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے۔ جو شخص کسی معین مذہب کی تقلید کرے، اس پر لازم ہے کہ یہ گمان رکھے کہ اس کا مذہب صحیح ہے لیکن خطاء کا احتمال رکھتا ہے اور دوسروں کا مذہب غلط ہے اور صحت کا احتما ل رکھتا ہے۔
(ابجد العلوم ، ج2، ص402)

Share:
keyboard_arrow_up