صدرُ الافاضل رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
’’کیونکہ نا واقف کو اس سے چارہ ہی نہیں کہ واقف سے دریافت کرے اور مرضِ جہل کا علاج یہی ہے کہ عالم سے سوال کرے اور اس کے حکم پر عامل ہو۔ اس آیت سے تقلید کا وجوب ثابت ہوتا ہے‘‘۔ (تفسیرخزائن العرفان ،پارہ :17، سورۃالانبیاء آیت نمبر:7)
غیر مقلدین چاروں اماموں کی تقلید سے انکار کرتے ہیں اور اسے گمراہی اور شرک قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ تمام غیر مقلد اپنے مولویوں کی تقلید ضرور کرتے ہیں۔ اگر وہ کہیں کہ ہم تو کسی کے مقلد نہیں، تو یہ غلط ہے۔
وہ خدا خوفی سے سچ بتائیں کہ کیا ہر پیش آنے والے مسئلہ کے حل کے لیے وہ قرآن و حدیث کا تمام ذخیرہ کھنگالتے ہیں یا اپنے مولویوں سے پوچھتے ہیں یا ان کی کتب دیکھتے ہیں؟
ظاہر ہے کہ ہر کوئی اس قدر عالم نہیں کہ خود سے قرآن وحدیث کا سارا ذخیرہ دیکھ سکے۔ پس وہ فتاویٰ نذیریہ یا فتاویٰ ثنائیہ دیکھتے ہیں یا اپنے مولویوں سے پوچھ کر ان کی بات مانتے ہیں اور اس طرح کسی کی بات ماننے ہی کو تقلید کہتے ہیں۔
رہے ان کے مولوی! تو وہ بھی بلاحجت و دلیلِ شرعی اپنے بڑوں کی باتیں مانتے ہیں اور ابن تیمیہ، ابن قیم اور قاضی شوکانی کی تقلید کرتے ہیں۔
مشہور غیر مقلدعالم نواب وحیدالزماں اسی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
ہمارے اہل حدیث بھائیوں نے ابن تیمیہ اور ابن قیم اور شوکانی اور شاہ ولی اللّٰہ اور مولوی اسماعیل صاحب کو دین کا ٹھیکیدار بنا رکھا ہے۔ جہاں کسی مسلمان نے ان بزرگوں کے خلاف کسی قول کو اختیار کیا، بس اس کے پیچھے پڑ گئے، برا بھلا کہنے لگے۔
بھائیو! ذرا غور تو کرو اور انصاف کرو کہ جب تم نے ابوحنیفہ اور شافعی کی تقلید چھوڑ دی تو ابن تیمیہ اور ابن قیم اور شوکانی جو اُن سے بہت متاخر (بعد میں پیدا ہوئے) ہیں، ان کی تقلید کی کیا ضرورت ہے؟؟؟
(حیات وحید الزماں،ص102)
نواب وحید الزماں کی اس تحریر سے واضح طور پر معلوم ہو گیا کہ غیر مقلدین امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کی تقلید سے تو انکار کرتے ہیں مگر ابن تیمیہ، ابن قیم، قاضی شوکانی اور اپنے مولویوں کی تقلید ضرور کرتے ہیں۔ (غیرمقلدوں کے فریب،ص20،22،ملخصاً)
کن امور میں تقلید نہیں:
دین کے بنیادی عقائد میں نیز قرآن کریم اور احادیثِ صحیحہ کے صریح احکام میں جو قطعی الدلالۃ ہیں اور جن کا کوئی معارض نہیں، کسی کی تقلید نہیں ہے۔ یونہی جو شرعی احکام تواتر اور بداہت سے ثابت ہوں ان میں کسی کی تقلید نہیں ہے۔
دراصل تقلید عموماً وہاں ضروری ہے، جب بالفرض آیاتِ قرآنی یا احادیثِ مبارکہ میں کوئی تعارض ہو تو کسی ایک آیت یا ایک حدیث کو عمل کے لیے ترجیح دینے میں اپنی عقل کی بجائے مجتہد کے فہم پر اعتبار کیا جائے۔ ایسے ہی جب کسی نئے مسئلے کا حل قرآن و حدیث میں واضح نہ ہو تو بجائے خود اس کا حل متعین کرنے کے مجتہد کے استنباط کردہ حل کو قبول کر لیا جائے۔
غیر مقلدین کی اصلاح کی غرض سے ان کے امام ابن تیمیہ کی ایک عبارت ملاحظہ ہو۔
’’چونکہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے بہت سے احکام ایسے ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اس لیے لوگ ان مسائل میں ایسے عالم کی طرف رجوع کرتے ہیں جو انہیں اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام بتا سکے، کیونکہ وہ عالم رسول اللّٰہ ﷺ کی احادیث اور آپ کے کلام کی منشاء و مراد کو زیادہ بہتر جانتا ہے۔
لہٰذا مسلمان جن ائمہ کی پیروی کرتے ہیں وہ دراصل لوگوں اور رسول کریم ﷺ کے درمیان وسیلے اور راہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں تک رسول اللّٰہ ﷺ کی احادیث پہنچاتے ہیں اور اپنے اجتہاد سے ان احادیث کے معانی اور احکام بیان کرتے ہیں۔بعض اوقات رب تعالیٰ کسی خاص عالم کو ایسے علم و فہم سے نوازتا ہے جو دوسروں کے پاس نہیں ہوتا‘‘۔
(مجموع الفتاویٰ، ج20، ص224)

