Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 75 of 107

نیز اس قدر کثیر مسائل اور نت نئی جزئیات صحابہ کے دور میں وقوع پذیر نہیں ہوئی تھیں اس لیے شریعت کو مدون کرنے کا مسئلہ ان کے دور میں پیدا نہیں ہوا تھا۔

بعد ازاں جب اسلامی سلطنت پھیل گئی، ہر روز نئے نئے مسائل پیش آنے لگے۔ تو اربابِ علم و دانش شریعت کی تدوین کی طرف متوجہ ہوئے۔

 

تدوینِ فقہ:

فقیر نے اپنی کتاب ’’امام اعظم‘‘ میں لکھاہے، فقہ اپنی وسعت و جامعیت کے اعتبار سے زندگی کے تمام مسائل پر حاوی ہے۔

امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ  کے زمانے تک اگرچہ فقہ کے بعض مسائل مدون ہوچکے تھے لیکن اسے باقاعدہ ایک کامل دستور اور جامع قانون کی حیثیت حاصل نہ تھی۔

اس وقت تک نہ تو استدلال و استنباطِ مسائل کے قواعد مقرر ہوئے تھے نہ ہی ایسے اصول و ضوابط طے ہوئے تھے جن کی روشنی میں احکام کی تفریع کی جاتی۔ بارہا امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے سرکاری قاضیوں اور حکام کو فیصلوں میں غلطیاں کرتے دیکھا، یہ بھی تدوینِ فقہ کا ایک سبب تھا۔

نیز تمدن میں وسعت کی وجہ سے روز بروز نئے مسائل پیدا ہوتے جارہے تھے۔ اطراف و بلاد سے آنے والے سینکڑوں استفتاء امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی خدمت میں آنے لگے تو آپ نے یہ ارادہ کیا کہ احکام و مسائل کے وسیع و کثیر جزئیات کو اصولوں کے ساتھ ترتیب دے کر ایک جامع فن کی شکل دے دی جائے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے اسلامی دستور مشعلِ راہ بن جائے۔

چنانچہ آپ نے تدوینِ فقہ کے عظیم کام کے لیے اپنے شاگردوں میں سے چالیس نامور افراد جو اپنے اپنے فن کے ماہر تھے، ان کا انتخاب کرکے ایک دستوری کمیٹی تشکیل دی۔

یہ سب حضرات درجۂ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ اس دستور ساز مجلس میں امام ابو یوسف، امام داؤد طائی، حضرت یحییٰ بن ابی زائدہ، حضرت حفص بن غیاث اور حضرت عبدﷲ بن مبارک کو روایت اور حدیث و آثار میں خاص کمال حاصل تھا۔

حضرت قاسم بن معن اورامام محمد عربیت اور ادب میں مہارت رکھتے تھے جبکہ امام زفرقوتِ استنباط میں مشہورتھے۔ رضی اللّٰہ عنہ

 

شبلی نعمانی جو کہ ایک آزاد خیال عالم ہیں، وہ بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ،

’’ امام ابو حنیفہ نے جس قدر مسائل مدوّن کیے ان کی تعداد بارہ لاکھ نوے ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔ شمس الائمہ کردری نے لکھا ہے کہ یہ مسائل چھ لاکھ تھے۔ یہ خاص تعداد شاید صحیح نہ ہو لیکن کچھ شبہ نہیں کہ ان کی تعداد لاکھوں سے کم نہ تھی۔ امام محمد کی جو کتابیں آج موجود ہیں، ان سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے‘‘۔ (سیرۃ النعمان، ص109)

 

حقیقت یہ ہے کہ اس دستور ساز مجلس نے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی فقہی بصیرت اور مجتہدانہ راہنمائی میں فقہ حنفی کی تدوین کرکے اسے مذاہبِ ثلاثہ ( مالکی، شافعی اور حنبلی مذاہب) کے لیے نشانِ راہ اور سنگِ میل بنا دیا۔

اس موضوع پر تفصیل جاننے کے لیے فقیر کی تصنیف ”سیدنا امام اعظم“ کا مطالعہ فرمائیں۔

 

تقلید کیوں ضروری ہے؟

قرآن حکیم میں تقلید کے وجوب کی ایک اور دلیل یہ ہے،

وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَاِلٰی اُولِی الْاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْہُمْ۔

’’جو معاملہ پیش آتا اگر اس کے لئے رسول اور اپنے عالموں کی طرف رجوع کرتے تو ضرور خدا کا حکم جان لیتے وہ جو اپنی فکر سے باریک حکم نکالتے ہیں۔ ‘‘ (پارہ :5، سورۃالنساء، آیت نمبر:83)

 

اس آیت مبارکہ سے واضح ہے کہ استنباط یعنی قرآن و حدیث سے قیاس کر کے مسائل نکالنے پر عالم و فقیہ ہی قدرت رکھتے ہیں اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان کی طرف رجوع کریں۔

 

ایک اور ارشادِ باری تعالیٰ ملاحظہ فرمائیے،

فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الْذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔

’’اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو‘‘۔
(پارہ :17، سورۃالانبیاء آیت نمبر:7)

Share:
keyboard_arrow_up