Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 74 of 107

پس ثابت ہوا کہ تقلید بہت ضروری ہے۔ کسی فقیہ کے قول پر شرعی دلیل کے تحت عمل کرنا تقلیدِ شرعی ہے جس کا فرض ہونا اس آیت کریمہ سے ثابت ہے۔

ارشاد ہوا،

وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃٍ فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَائِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوْنَ O

’’اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں‘‘۔ (پارہ نمبر11، سورۃ التوبہ، آیت نمبر:122)

 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر شخص پر عالم و فقیہ بننا ضروری نہیں لہٰذا غیر مجتہد یا غیر عالم کو مجتہد یا عالم کی تقلید کرنی چاہیے۔

 

دوسری جگہ فرمایا،

یٰایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوْااللّٰہ واَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاُوْلیِ الْاَمْرِمِنْکُمْ۔

’’اے ایمان والو! اطاعت کرو اللّٰہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی اور ان کی جو تم میں سے حکم والے ہوں‘‘۔
(پارہ ، 5، سورۃالنساء، آیت نمبر:59)

 

دارمی باب الاقتدا ء بالعلماء میں ہے،

’’اولیِ الامر سے مراد علماء اور فقہاء ہیں‘‘۔

 

امام ابوبکر جصاص رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

’’اولیِ الامر‘‘ سے مسلمان حاکم یا فقہاء یا دونوں مراد ہیں۔
(احکام القرآن ،ج2، ص256)

 

امام رازی رحمہ اللّٰہ کے نزدیک بھی اس سے مراد علماء لینا اولیٰ ہے۔
(تفسیر طبری، ج8، ص492،تفسیر کبیر،ج10،ص149)

 

اس آیت کے تحت تفسیر جمل میں ہے،

یہ آیت شریعت کے چاروں دلائل کی قوی دلیل ہے یعنی کتابُ اللّٰہ، سنتِ رسول ﷺ، اجماع اور قیاس۔

اس سے ثابت ہوا کہ اس آیت میں ایمان والوں کو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا نیز ان علماء و فقہاء کی اطاعت کا بھی حکم دیا گیا جو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے کلام کے شارح ہیں، اسی اطاعت کا نام تقلید ہے۔

 

صحابہ کرام اور تقلید:

صحابہ کرام براہِ راست نبی کریم ﷺ سے دین کا علم حاصل کیا کرتے تھے اس لئے انہیں کسی کی تقلید کی ضرورت نہیں تھی۔ البتہ وہ صحابہ جو مدینہ طیبہ سے دور رہتے تھے وہ حضور ﷺ کی ظاہری زندگی میں بھی اپنے علاقے کے بڑے عالم صحابی سے مسائل پوچھ کر ان کی تقلید کرتے تھے۔

آقا ومولیٰ ﷺ کے ظاہری وصال کے بعد صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہ  اپنے درمیان موجود زیادہ صاحبِ علم صحابی کی تقلید کیا کرتے۔

 

159۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللّٰہ عنہ  نے حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کے بارے میں فرمایا،

لا تسالونی مادام ہذا الحبر فیکم۔

’’جب تک یہ عالم تمہارے درمیان موجود ہیں، مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو‘‘۔ (بخاری، ج6، ص2477، حدیث نمبر:6355)

 

یہی تقلیدِ شخصی ہے جو دورِ صحابہ میں بھی موجود تھی۔ فقیر نے اپنی کتاب ’’امام اعظم‘‘ میں تفصیلی گفتگو کی ہے کہ دورِ صحابہ میں فقیہ صحابہ رضی اللّٰہ عنہ اجتہاد کر کے مسائل اخذ کرتے تھے اور دوسرے لوگ ان کی تقلید کیا کرتے تھے۔

صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہ  کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے جن میں سے صرف چند صحابہ یعنی چاروں خلفاء، حضرت عبداللّٰہ بن مسعود، حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ وغیرہم رضی اللّٰہ عنہ مجتہد تھے باقی ایک لاکھ سے زائد صحابہ ان کے مقلد ہوئے۔ الحمدللّٰہ !

 

حنفی مالکی شافعی اور حنبلی صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہ ہی کے راستے پر گامزن ہو کر قرآن و حدیث سے نکالے ہوئے مسائل میں ائمہ مجتہدین کی تقلید کرتے ہیں۔

بعض جہلاء اعتراض کرتے ہیں کہ آپ امام اعظم کی بجائے کسی صحابی کی تقلید کیوں نہیں کرتے۔ جواب یہ ہے کہ تبلیغِ دین، کفار و مرتدین سے جہاد، فتوحات اور انتظامی مسائل میں مصروف ہونے کی وجہ سے صحابہ کرام نے ایسے اصول وضع نہیں کیے جو تمام جزئیات، فروعی مسائل اور تفاصیل کو محیط ہوتے۔

Share:
keyboard_arrow_up