غیر مقلدین کے چند جھوٹ اور فریب ہم نے پچھلے صفحات میں بیان کیے۔ یہ بھی آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے باطل نظریے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جھوٹی حدیث گھڑنے سے بھی حیا نہیں کرتے۔
احادیث کا مفہوم اپنی مرضی کے مطابق توڑ موڑ کر پیش کرنا ان کا معمول ہے۔ مزید ترقی یہ ہوئی کہ ان کا ایک طبقہ کہتا ہے، ’’جس طرح گائے بیل کی قربانی سات آدمی کی طرف سے جائز ہے اسی طرح بکرا بکری اور مرغا مرغی کی قربانی بھی سات آدمی کی طرف سے جائز ہے اور یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے‘‘۔ العیاذ باللّٰہ تعالیٰ (غیرمقلدوں کے فریب، ص47)
157۔ سچ فرمایا، غیب جاننے والے آقا و مولیٰ رسولِ اکرم ﷺ نے کہ:
یکون فی آخر الزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا اباؤکم فایاکم وایاہم لا یضلونکم ولا یفتنونکم۔
آخری زمانہ میں (ایک گروہ) دجالوں اور کذابوں یعنی فریب دینے والوں اور جھوٹ بولنے والوں کا ہوگا۔ وہ تمہارے سامنے ایسی احادیث بیان کریں گے جو نہ تم نے کبھی سنی ہوں گی اور نہ تمہارے باپ دادا نے۔ لہٰذا تم ایسے لوگوں سے بچو اور انہیں اپنے قریب نہ آنے دو تاکہ وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور نہ ہی فتنے میں ڈالیں۔ (صحیح مسلم،مقدمہ،باب النھی عن الروایۃ...الخ،حدیث:7،ص9)
قرآن وسنت اور تقلید:
تقلید کے لغوی معنی ہیں’’گردن میں پٹا ڈالنا‘‘ اور اصطلاحی معنی ہیں ’’دلیل جانے بغیر کسی کے قول و فعل کو صحیح سمجھتے ہوئے اس کی پیروی کرنا‘‘۔
انسان زندگی کے ہر شعبے میں کسی نہ کسی کی پیروی کرتا ہے۔پرائمری تعلیم کے حصول سے لے کر کسی بھی پیشہ یا ہنر کے درجَۂ کمال کو پہنچنے تک ہر کوئی اپنے اساتذہ یا اس ہنر کے ماہرین کی تقلید کرنے پر مجبور ہے۔ علمِ دین کا معاملہ تو اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ہر شخص یہ اہلیت نہیں رکھتا کہ وہ قرآن وحدیث سے خود مسائل اخذ کرے کیونکہ اس کے لیے صرف عربی جاننا کافی نہیں بلکہ فقیہ و مجتہد کی شرائط کا جامع ہونا ضروری ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
’’جس میں اجتہاد کی شرائط موجود نہ ہوں، اسے از خود کتابُ اللّٰہ اور سنتِ رسول ﷺ سے مسئلہ اخذ کرنا جائز نہیں‘‘۔ یہی بات غیر مقلدوں کے پیشوا ابن قیم نے اعلام الموقعین میں تحریر کی ہے۔
158۔ حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
ہم لوگ ایک سفر میں تھے کہ پتھر لگنے سے ہمارے ایک ساتھی کا سر زخمی ہوگیا۔ رات کو اس پر غسل واجب ہوا تو اس نے اپنے دیگر ساتھیوں سے پوچھا، کیا آپ لوگ مجھے تیمم کی رخصت دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا، نہیں کیونکہ آپ تو پانی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس نے غسل کیا تو اس کی موت واقع ہو گئی۔ جب ہم آقا و مولیٰ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے یہ واقعہ عرض کیا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا، قتلوہ قتلھم اللّٰہ الا سالوا اذا لم یعلموا فانما شفاء العی السوال۔ انہوں نے اسے قتل کردیا، اللّٰہ تعالیٰ انہیں قتل کرے۔جب وہ نہیں جانتے تھے تو پوچھ لیتے۔ بیشک سوال کرنا (لاعلمی کی) بیماری کے لیے شفاء ہے۔ (مشکوٰۃ ، ج1، ص115، حدیث نمبر:531)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب مجتہدین صحابہ سے فتویٰ نہ لینے کی وجہ سے عام صحابہ کرام رسول کریم ﷺ کے عتاب کے ایسے مرتکب ہوئے کہ آپ نے ان کے لیے قَتَلَھُمُ اللّٰہ فرما دیا تو ایسے جاہل مولویوں کا کیا حال ہوگا جو سیدنا امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ اور دیگر ائمہ دین کے ارشادات سے منہ موڑ کر قرآن و حدیث کے من مانی معانی و مطالب بیان کرتے ہیں، خود تو گمراہ ہیں، سادہ لوح سنیوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔

