Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 72 of 107

مزید لکھتے ہیں،

آج کل کے اکثر غیر مقلدوں میں تو سوءِ ظن (بدگمانی) کا خاص مرض ہے۔ کسی کے ساتھ بھی حسنِ ظن نہیں رکھتے۔ بڑے ہی جری ہوتے ہیں جو جی میں آتا ہے جس کو چاہتے ہیں جو چاہیں کہہ ڈالتے ہیں۔ ایک سنت کی حمایت میں دوسری سنت کا ابطال کرنے لگتے ہیں۔ (افاضات یومیہ، ج2، ص322)

 

مولوی بشیر احمد دیوبندی مدرس مدرسہ قاسم العلوم فقیر والی (پنجاب) لکھتے ہیں،

ہندوستان میں اس (غیرمقلد)فرقے کا ظہور و وجود انگریز کی نظرِ کرم اور چشمِ التفات کا رہینِ منت ہے۔ ہندوستان میں جب انگریز نے اپنے منحوس قدم جمائے تو اس نے مسلمانوں میں انتشار و خلفشار ، اختلاف و افتراق اور تشتت و لامرکزیت پیدا کرنے کے لیے’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کے شاطرانہ اصول کے تحت یہاں کے باشندگان کو مذہبی آزادی دی۔کیونکہ وہ ابلیسِ سیاست تھا۔

بنابریں وہ بخوبی جانتا تھا کہ مذہبی آزاد خیالی ہی تمام فتنوں کا منبع ، مصدر اور سرچشمہ ہے۔ اس مذہبی آزادی کے نتیجہ میں فرقۂ غیر مقلدین ظہور پذیر ہوا۔ (اہلِ حدیث اور انگریز۔ ص6)

 

دارالعلوم دیوبند کے مشہور مفتی مہدی حسن شاہجہاں پوری لکھتے ہیں،

کچھ تجربہ اس امر کا یقین دلاتا ہے کہ انسان غیر مقلد ہو کر بدتہذیب، بدزبان بے باک بہت ہو جاتا ہے اور آنحضرت ﷺ  کے عادات و اخلاق سے کوسوں دور ہو جاتا ہے۔ الا ماشاء اللّٰہ۔

نہ مسلمانوں کو گالیاں دینے سے کچھ باک ہوتا ہے نہ صحابی کو فاسق کہنے سے ننگ معلوم ہوتا ہے۔ نہ حدیث کے خلاف کرنے سے شرم معلوم ہوتی ہے نہ قرآن کی مخالفت کرنے سے۔
(غیرمقلدوں کے فریب، ص17، 58 ملخصاً)

 

غیر مقلدین، غیر مقلد علماء کی نظر میں:

غیر مقلدین کے مشہور عالم مولوی داؤد غزنوی نے اس تلخ حقیقت کا اعتراف یوں کیا ہے، ’’جماعت اہلحدیث کو حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ کی روحانی بد دعا لے کر بیٹھ گئی ہے، ہر شخص ابوحنیفہ ابوحنیفہ کہہ رہا ہے، کوئی بہت ہی عزت کرتا ہے تو امام ابو حنیفہ کہہ دیتا ہے۔ پھر ان کے بارے میں تحقیق یہ ہے کہ وہ تین حدیثیں جانتے تھے یا زیادہ سے زیادہ گیارہ۔ اگر کوئی بڑا احسان کرے تو وہ سترہ حدیثوں کا عالم گردانتا ہے۔ جو لوگ اتنے جلیل القدر امام کے بارے میں یہ نقطۂ نظر رکھتے ہوں ، ان میں اتحاد و یکجہتی کیونکر پیدا ہو سکتی ہے؟‘‘۔
(حضرت مولانا داؤد غزنوی،ص136)

 

احناف کی نماز کا مذاق اڑانے والوں کی اپنی نمازوں کا حال ان کے ہم مسلک مشہور قلم کار اور عالم اسحاق بھٹی صاحب کے قلم سے ملاحظہ کیجئے۔ وہ رقمطراز ہیں،

’’دورِ حاضر کے(غیرمقلد) عالموں کے پاس سب کچھ موجود ہے۔ زمینیں بھی، کاروبار بھی، کوٹھیاں بھی، موٹریں بھی اور بڑی بڑی ملازمتیں بھی۔ ان کے بیٹے سمندر پار یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں اور کماتے بھی ہیں۔ رہی سہی کسر جہادوں نے پوری کر دی ۔ اب یہ کروڑوں میں کھیلتے اور اربوں کے خواب دیکھتے ہیں۔ انہیں کیا ضرورت ہے اللّٰہ سے ہاتھ اٹھا کر مانگنے اور اس کے احسان مند ہونے کی۔ یہی وجہ ہے کہ اِدھر سلام پھرا، اُدھر یہ کوتل گھوڑے کی طرح اچھل کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا تورہا ایک طرف ۔ گونا گوں مصروفیتوں کی بناء پر ان بیچاروں کے لیے نماز پڑھنا مشکل ہے۔ یہ تو ان کی بہت بڑی قربانی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنی بے پناہ مصروفیت سے تھوڑا سا وقت نکال کر دوچار رکعت نماز پڑھ لیتے ہیں۔

اور نماز میں ہی ان کو کھرکنے اور جسم کے مختلف حصوں پر ہاتھ پھیرنے کو وقت ملتا ہے اور یاد آتا ہے کہ ’’کُھرَک فی الصلوٰۃ‘‘ بھی ایک مسئلہ ہے جس پر عمل ہونا چاہیے۔

پھر یہ بات بھی ان کے نزدیک متحقق ہوگئی ہے کہ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کی روایت کے راوی ضعیف ہیں۔ اس تحقیق کے بارے میں اس فقیر پُر تقصیر کی مؤدبانہ گذارش ہے کہ کیا وہ راوی ہم سے بھی ضعیف ہیں جو بات بات میں غلط بیانی کرتے، قدم قدم پر جھوٹ بولتے اور ہر معاملے میں دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں‘‘۔ (نقوشِ عظمتِ رفتہ، ص24)

Share:
keyboard_arrow_up