Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 71 of 107

امام ابن حجر نے یہ بھی لکھا،

ابن تیمیہ کے اعتراضات صرف متاخرین صوفیہ ہی پر نہیں بلکہ وہ تو اس قدر حد سے بڑھ گیا کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ جیسی مقدس ذاتوں کو بھی اپنے اعتراضات کا نشانہ بنا ڈالا۔

خلاصہ یہ کہ ابن تیمیہ کی بکواسوں کا کوئی وزن نہیں بلکہ وہ اس قابل ہیں کہ گڑھوں اور کنوؤں میں پھینک دی جائیں۔ اور ابن تیمیہ کے بارے میں یہی عقیدہ رکھا جائے کہ وہ بدمذہب، گمراہ ، دوسروں کو گمراہ کرنے والا جاہل اورحد سے بڑھنے والا ہے۔خدا تعالیٰ اس سے انتقام لے اور ہم سب کو اس کی راہ اور اس کے عقیدوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔آمین (فتاویٰ حدیثیہ ،ص116)

 

مفتی جلال الدین امجدی ایک مرتبہ میں دی ہوئی تین طلاقوں کے تین ہونے پر کئی احادیث پیش کر کے فرماتے ہیں، شارح مسلم امام نووی شافعی اس حدیث شریف کی شرح میں لکھتے ہیں، جس نے اپنی بیوی سے کہا، تجھے تین طلاق۔ تو امام شافعی، امام مالک، امام اعظم ابوحنیفہ ، امام احمد بن حنبل اور سلف و خلف کے جمہور عالموں نے فرمایا کہ تینوں طلاقیں پڑ جائیں گی۔

لیکن غیر مقلدوں کے نزدیک قرآن مجید کی تفسیر غلط، بیہقی، ابن ماجہ اور ابوداؤد شریف کی اوپر والی ساری حدیثیں غلط، چاروں ائمہ مجتہدین اور سلف و خلف کے جمہور علمائے دین کا مذہب غلط، حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ کا فیصلہ کہ ایک مجلس کی دی ہوئی تین طلاقیں سب پڑ جائیں گی جس پر بہت سے بڑے بڑے محدثین گواہ ہیں وہ بھی غلط، اس بارے میں نواسۂ رسول حضرت امام حسن رضی اللّٰہ عنہ کی روایت کردہ حدیث غلط، یہاں تک کہ صحابہ کرام کی موجودگی میں حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کا یہ قانون بنانا کہ ایک دم تین طلاقیں تین ہی ہوں گی وہ بھی غلط، اور صحابہ کرام کا اس قانون کو مان لینا اور اس پر عمل درآمد ہونا سب غلط۔

البتہ ابن تیمیہ جو کئی صدی بعد پیدا ہوا صرف وہ صحیح ہے۔ یعنی غیر مقلدوں کے نزدیک حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام وغیرہ نے نبوت اور شریعت کے مزاج کو نہیں سمجھا، صرف ابن تیمیہ نے سمجھا۔ نعوذباللّٰہ من ذلک۔

 

غیر مقلدین کو محمد بن عبدالوہاب نجدی کی پیروی ہی کے سبب وہابی کہا جاتا ہے۔ لیکن اس نام کو نا پسند کرتے ہوئے مشہور غیر مقلد مولوی محمد حسین بٹالوی نے انگریز گورنمنٹ سے بڑی کوششوں کے بعد وہابی نام کی جگہ اہلِ حدیث منظور کرایا۔
(مقدمہ حیات سید احمد شہید ،ص26)

 

مگر اب نجدی ریالوں کی چمک دمک نے غیر مقلدوں کو پورے طور پر اپنی طرف کھینچ لیا اور وہ بڑے فخر سے اپنا تعلق وہابیت اور محمد بن عبدالوہاب نجدی سے جوڑ کر خوب خوب فائدے اٹھا رہے ہیں۔

 

غیرمقلدین، علماءِ دیوبند کی نظر میں:

اب ملاحظہ کیجئے کہ دیوبندی علماء کی نظر میں غیر مقلدین کیا ہیں؟ مفتی محمد شفیع دیوبندی لکھتے ہیں،

مولانا اشرف علی تھانوی ، محمد حسین بٹالوی کے بارے میں کہتے ہیں کہ مولانا موصوف غیر مقلد تھے مگر منصف مزاج۔ میں نے خود ان کے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں ان کا یہ مضمون دیکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پچیس سال کے تجربے سے معلوم ہوا کہ غیر مقلدی بے دینی کا دروازہ ہے۔ (مجالس حکیم الامت، ص242)

 

تھانوی صاحب نے اور کہا، غیر مقلد ہونا تو بہت آسان ہے۔ البتہ مقلد ہونا مشکل ہے۔ کیونکہ غیر مقلدی میں تو یہ ہے کہ جو جی میں آیا کر لیا۔ جسے چاہا بدعت کہہ دیا۔ جسے چاہا سنت کہہ دیا۔ کوئی معیار ہی نہیں۔ مگر مقلد ایسا نہیں کر سکتا۔ اس کو قدم قدم پر دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے۔ بعضے آزاد غیر مقلدوں کی ایسی مثال ہے کہ جیسے سانڈ ہوتے ہیں، اِس کھیت میں منہ مارا، اُس کھیت میں منہ مارا۔ نہ کوئی کھونٹا ہے نہ تھان ہے۔
(افاضات یومیہ ، ج4، ص294)

Share:
keyboard_arrow_up