اہلسنت کے عقیدہ کی تائید میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
152۔ قال رسول اللّٰہ ﷺ اکثروا الصلوٰۃ علی یوم الجمعۃ فانہ یوم مشہود تشہدہ الملائکۃ لیس من عبد یصلی علی الا بلغنی صوتہ حیث کان قلنا وبعد وفاتک قال وبعد وفاتی ان اللّٰہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء۔
آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا، جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ جو شخص بھی مجھ پر درود پڑھتا ہے اس کی آواز مجھ تک پہنچتی ہے خواہ وہ کہیں بھی ہو۔ ہم نے عرض کی، کیا آپ کے وصال کے بعد بھی؟ فرمایا، میرے وصال کے بعد بھی۔ بیشک اللّٰہ نے انبیاء کے اجسام کو کھانا زمین پر حرام کر دیا ہے۔ (جلاء الافہام لابن قیم، ج1، ص80)
153 ۔ ان اللّٰہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اللّٰہ حی یرزق۔
’’بیشک اللّٰہ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام فرما دیا ہے۔ پس اللّٰہ کے نبی (بعد وصال)زندہ ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے‘‘۔ (ابن ماجہ، ج3، ص386، حدیث نمبر:1075)
154۔ صلوا علی فان صلوتکم تبلغنی حیث کنتم۔
’’ مجھ پر درود پڑھا کرو کیونکہ تم جہاں بھی ہو ،تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ، ج1، ص202، حدیث نمبر:986)
155۔ ما من احد یسلم علی الا رد اللّٰہ علی روحی حتی ارد علیہ السلام۔
’’جو شخص بھی مجھ پر سلام بھیجتا ہے اللّٰہ میری روح کی توجہ واپس فرما دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں‘‘۔
(مشکوٰۃ، ج1، ص161، حدیث نمبر:733، وسنن ابی داؤد، ج5، ص417، حدیث نمبر:1745)
غرض کہ مولوی اسماعیل دہلوی نے مسلمانوں کو مشرک ٹھہرانے میں شیخ نجدی کی پوری پیروی کی۔ البتہ وہ حنبلی ہونے کا دعویٰ کرتا تھا مگر دہلوی نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن و حدیث ہر شخص سمجھ سکتا ہے لہٰذا تقلید کی ضرورت نہیں کہ وہ بدعت و گمراہی ہے۔
اس طرح بقول اعلیٰ حضرت امام احمد رضامحدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ ۱۲۳۳ھ میں وہابی غیر مقلد، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔
(اظہار الحق الجلی، ص9)
156۔ امام بخاری رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
وکان ابن عمر یراہم شرار خلق اللہ وقال انہم انطلقوا الیٰ ایات نزلت فی الکفار فجعلوہا علی المؤمنین۔
اور حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ خارجیوں کو بدترین مخلوق سمجھتے تھے، آپ نے فرمایاکہ انہوں نے جو آیتیں کافروں کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، انہیں مسلمانوں پر چسپاں کر دیا۔
(بخاری ، ج6،حدیث:2539)
یہی علامت دور حاضر کے غیر مقلدین میں بدرجۂ اتم موجود ہے۔وہ مسلمانوں کو بات بات پر مشرک قرار دیتے ہیں اور بت پرستوں سے متعلق آیات مسلمانوں پر چسپاں کرتے ہیں۔ یہ کام انہوں نے ابن تیمیہ اور شیخ نجدی سے سیکھا ہے۔
غیرمقلدوں کا امام ابن تیمیہ ۶۶۱ھ میں پیدا ہوا اور ۷۲۸ھ میں فوت ہوا۔ اس نے بہت سے مسائل میں علمائے حق کی مخالفت کی۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ کی زیارت کے لیے مدینہ طیبہ کے سفر کو گناہ قرار دیا۔ اس کا عقیدہ تھا کہ رسول اللّٰہ ﷺ کا کوئی مرتبہ نہیں۔ العیاذ باللّٰہ۔
امام ابن حجر مکی شافعی رحمہ اللّٰہ نے ابن تیمیہ کے چند گمراہ عقائد لکھے ہیں،
’’حالتِ حیض میں اور جس طہر میں ہمبستری کی ہے طلاق نہیں ہوتی۔ اگر قصداً نماز چھوڑی جائے تو اس کی قضا واجب نہیں۔ حالتِ حیض میں بیت اللّٰہ کا طواف جائز ہے اور کوئی کفارہ نہیں۔ تین طلاق سے ایک ہی طلاق پڑتی ہے۔ تیل وغیرہ پتلی چیزیں چوہا وغیرہ کے مرنے سے نجس نہیں ہوتیں۔
ہمبستری کے بعد غسل کرنے سے پہلے رات میں نفل پڑھنا جائز ہے اگر چہ شہر ہی میں ہو۔ جو شخص اجماعِ امت کی مخالفت کرے اسے کافر و فاسق نہیں قرار دیا جائے گا۔
خدا تعالیٰ کی ذات میں تغیر و تبدل ہوتا ہے۔ وہ(ابن تیمیہ )اللّٰہ تعالیٰ کے جسم ہونے اور اس کے لیے جہت اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا قائل ہے۔ اور کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ بالکل عرش کے برابر ہے نہ اس سے چھوٹا ہے نہ بڑا۔ اور کہتا ہے کہ جہنم فنا ہو جائے گی۔
اور وہ یہ بھی کہتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام معصوم نہیں ہیں۔ اور رسول اللّٰہ ﷺ کا کوئی مرتبہ نہیں ہے۔ ان کو وسیلہ نہ بنایا جائے اور حضور ﷺ کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا گناہ ہے۔ ایسے سفر میں نماز کی قصر جائز نہیں۔ جو شخص ایسا کرے گا وہ حضور ﷺ کی شفاعت سے محروم رہے گا۔ نعوذ باللّٰہ
(فتاویٰ حدیثیہ ،ص116)

