Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 69 of 107

شیخ ابن عبدالوہاب نجدی کے بعض کفریہ عقائد ملاحظہ ہوں۔

شیخ نجدی سرکارِ دوعالم ﷺ کو ڈاکیہ یا ایلچی کہا کرتا تھا۔ اس کے سامنے اس کے متبعین کہتے، میری لاٹھی محمد ﷺ  سے بہتر ہے کیونکہ یہ سانپ وغیرہ کو مارنے میں کام آ سکتی ہے جبکہ محمد ﷺ  فوت ہو چکے اور اب ان سے کوئی نفع باقی نہیں رہا۔ العیاذ باللّٰہ

 

شیخ نجدی حضورﷺ  پر درود شریف پڑھنے کو نا پسند کرتا تھا اور درود شریف سننے سے اسے تکلیف ہوتی تھی۔ اس نے ایک صالح نابینا مؤذن کو درود شریف پڑھنے کے جرم میں قتل کرادیا۔ اس نے تفسیر، حدیث، فقہ اور درود شریف کی کتابیں جلوا دیں۔

شیخ نجدی کہتا تھا، مسجد کے میناروں میں حضور ﷺ پر درود شریف پڑھنے کا گناہ کسی فاحشہ زانیہ کے کوٹھے پر ساز بجانے سے زیادہ ہے۔ معاذ اللّٰہ (تاریخ نجد وحجاز،ص142)

 

ہندوستان میں فتنۂ وہابیت:

ہندوستان میں عام مسلمان اور بادشاہ ہمیشہ سنی حنفی مقلد رہے۔ چونکہ اس ملک میں شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی کے خاندان کا کافی اثر تھا اور مسلمان اس سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ اس لیے مولوی اسماعیل دہلوی جو اسی خاندان کے ایک فرد تھے، انہوں نے سوچا کہ ابن عبدالوہاب نجدی کی پالیسی پر عمل کر کے ہم بھی اپنے ماننے والوں کا ایک لشکر تیار کر سکتے ہیں جس سے ہندوستان کے تاج و تخت پر ہمارا قبضہ ہو جائے گا۔

اس خیال کے پیشِ نظر مولوی اسماعیل دہلوی نے شیخ نجدی کی کتاب التوحید عربی کا اردو میں چربہ اتارا اور اس کا نام تقویۃ الایمان رکھا۔ اس کے علاوہ اور بھی کچھ کتابیں لکھیں جن میں من گھڑت توحید تحریر کی۔ حضورﷺ اور دوسرے انبیاء و اولیاء کی شان میں گستاخی کی۔ (تقویۃ الایمان،ص، 38،39)

 

رسول ﷺ کے لیے قوم کے چوہدری کا درجہ بتایا۔ (تقویۃ الایمان،ص، 44)

نماز میں حضور ﷺ کے خیال کو گدھے اور بیل کے خیال میں ڈوب جانے سے بدتر قرار دیا۔
(صراط مستقیم فارسی، ص86)

نماز میں حضور ﷺکی طرف خیال لے جانے والے کو مشرک ٹھہرایا۔ (صراط مستقیم فارسی، ص86)

 

جو حضور ﷺ کو قیامت کے دن اپنا وکیل اور سفارشی سمجھے، اسے ابوجہل کے برابر مشرک بتایا۔
(تقویۃ الایمان،ص، 6)

علی بخش، حسین بخش، پیربخش اور غلام محی الدین و غلام معین الدین نام رکھنے کو شرک ٹھہرایا۔ (تقویۃ الایمان،ص، 3)

 

کسی نبی یا ولی کے مزارات کی زیارت کے لیے سفر کرنا ، ان کے مزار پر شامیانہ کھڑا کرنا، روشنی کرنا، فرش بچھانا، جھاڑو دینا، لوگوں کو پانی پلانا اور ان کے لیے وضو و غسل کا انتظام کرنا، ان ساری چیزوں کو شرک قرار دیا۔ (تقویۃ الایمان،ص، 7،8)

 

اسی تقویۃ الایمان کے صفحہ 10پر لکھا، ’’یقین جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا، وہ اللّٰہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے‘‘۔ (تقویۃ الایمان،ص، 10) (العیاذ باللّٰہ)

ہم کہتے ہیں کہ حضور سید عالم ﷺ خدائے تعالیٰ کی ساری مخلوقات میں سب سے بڑے ہیں۔ جو حضور ﷺ کو سب سے بڑا مخلوق نہ مانے وہ مسلمان نہیں۔ اور دوسرے انبیاء و اولیاء وغیرہ حضور ﷺ سے چھوٹے مخلوق ہیں۔

تو تقویۃ الایمان جو انبیاء اور اولیاء کی شان گھٹانے کے لیے لکھی گئی ، اس کی عبارت کا مطلب یہ ہوا کہ انبیاء اور اولیاء میں سے ہر ایک اللّٰہ تعالیٰ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے یعنی چمار کی بھی کچھ نہ کچھ تھوڑی بہت عزت اللّٰہ کی شان کے آگے ہے لیکن حضور سید عالم ﷺ اور دوسرے انبیاء واولیاء کی اللّٰہ کی شان کے آگے اتنی بھی عزت و وقعت نہیں جتنی کہ ایک چمار کی عزت و وقعت ہے۔ العیاذباللّٰہ   

اور اسی کتاب کے صفحہ 38 پر تو صاف لفظوں میں لکھ دیا کہ سب انبیاء اور اولیاء اس کے روبرو ایک ذرۂ نا چیز سے بھی کمتر ہیں۔ (العیاذ باللہ تعالیٰ) (تقویۃ الایمان،ص، 38)

 

اور اسی کتاب کے صفحہ 42 پر ایک حدیث لکھنے کے بعد فتنہ و فساد کی  تحریر کی اور حضور ﷺ کی طرف سے افتراء کر کے یہ لکھ دیا کہ’’ میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں‘‘۔
(تقویۃ الایمان،ص، 42)

تقویۃ الایمان کی اسی تحریر کی بنیاد پر حضور ﷺ کے بارے میں غیر مقلدین یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ معاذ اللّٰہ وہ مر کر مٹی میں مل گئے۔ ان کے یہ سب عقیدے حضور ﷺ  اور صحابہ کرام کے عقیدے کے خلاف ہیں اور یہی ان کے جہنمی فرقہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہے۔ 

Share:
keyboard_arrow_up