اس کی صورت یہ ہوئی کہ محمد بن عبدالوہاب نے مسلمانوں کی دو قسمیں ٹھہرائیں۔ ایک موحد مسلمان اور دوسرے مشرک مسلمان۔ جو اس کی من گھڑت توحید کو مانتا اسے وہ موحد مسلمان قرار دیتا اور باقی مسلمانوں کو مشرک ٹھہرا کر ان کی جان و مال کے حلال ہونے کا فتویٰ دیتا، انہیں قتل کرتا اور ان کے گھروں کو لوٹتا۔
اس لیے شروع میں زیادہ تر لوٹ مار کے شوقین اور لالچی اس کی جماعت میں شامل ہوئے۔ پھر آہستہ آہستہ دوسرے بہت سے لوگ اس کے ساتھ ہو گئے جن کے ہاتھوں ہزاروں بے گناہ مسلمان قتل ہوئے اور لاکھوں گھر تباہ و برباد ہو گئے۔
حضرت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں،
عبدالوہاب کے ماننے والے نجد سے نکلے اور مکہ معظمہ و مدینہ منورہ پر زبردستی قبضہ کر لیا۔ وہ لوگ اپنا مذہب حنبلی بتاتے ہیں لیکن ان کا عقیدہ یہ ہے کہ صرف وہی لوگ مسلمان ہیں اور جو ان کے اعتقاد کی مخالفت کریں وہ کافر و مشرک ہیں۔ اسی لیے ان لوگوں نے اہلسنت و جماعت اور ان کے عالموں کے قتل کو جائز ٹھہرایا۔ (رد المحتار، ج16، ص378)
مولانا ابو یوسف محمد شریف محدث کوٹلوی رحمہ اللّٰہ رقمطراز ہیں،
151۔ ان النبی ﷺ قال لعیینۃ بن حصین ای الرجال خیر؟ قال اہل نجد۔ قال کذبت بل ہم اہل الیمن
حضور ﷺ نے عیینہ بن حصین رضی اللّٰہ عنہ سے دریافت فرمایا، کہ کون لوگ بہتر ہیں؟ اس نے عرض کیا، اہلِ نجد۔ آپ نے فرمایا، تم نے جھوٹ کہا، وہ اہلِ یمن ہیں۔ (فتح الباری، ج8، ص100)
مزید لکھتے ہیں، آج بھی جو لوگ نجدیوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں ہم انہیں بھی کہیں گے، تم جھوٹ کہتے ہو کیونکہ جنہیں رسولِ خدا ﷺ فرمائیں کہ بہتر نہیں، وہ لوگ کس طرح بہتر ہو سکتے ہیں۔ (دلائل المسائل،ص301)
دیوبندی مسلک کے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی سابق صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند لکھتے ہیں،
محمد بن عبدالوہاب نجدی تیرھویں صدی کی ابتدا ء میں نجد عرب سے ظاہر ہوا اور چونکہ یہ خیالاتِ باطلہ اور عقائدِ فاسدہ رکھتا تھا اس لیے اس نے اہلسنت و جماعت سے قتل و قتال کیا، ان کو بالجبر اپنے خیالات کی تکلیف دیتا رہا۔
ان کے اموال کو غنیمت کا مال اور حلال سمجھتا رہا، ان کے قتل کرنے کو باعثِ ثواب و رحمت شمار کرتا رہا۔ اہلِ حرمین کو خصوصاً اور اہلِ حجاز کو عموماً اس نے تکالیفِ شاقہ پہنچائیں۔
سلف صالحین اور اتباع کی شان میں نہایت گستاخی اور بے ادبی کے الفاظ استعمال کیے۔ بہت سے لوگوں کو بوجہ اس کی تکالیفِ شدیدہ کے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ چھوڑنا پڑا اور ہزاروں آدمی اس کے اور اس کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے۔اور الحاصل وہ ایک ظالم اور باغی، خونخوار اور فاسق شخص تھا۔
(شہاب ثاقب، ص42)
اور لکھتے ہیں،
محمد بن عبدالوہاب کا عقیدہ تھا کہ جملہ اہلِ عالم اور تمام مسلمانانِ دیار مشرک و کافر ہیں۔ اور ان سے قتل و قتال کرنا اور ان کے اموال کو ان سے چھین لینا حلال اور جائز بلکہ واجب ہے۔ چنانچہ نواب صدیق حسن خاں(غیرمقلد) نے خود اس کے ترجمہ میں ان دونوں باتوں کی تصریح کی ہے۔
(شہاب ثاقب، ص43)
اور دیوبندی مسلک کے ایک دوسرے مشہور مولانا خلیل احمد انبیٹھی لکھتے ہیں، محمد بن عبدالوہاب کے چیلے امت کی تکفیر کیا کرتے تھے۔ (المہند، ص42، 43)
دیوبند کے مشہور محدث انورشاہ کشمیری نے لکھا ہے،
محمد بن عبدالوہاب نجدی نہایت بیوقوف اور کم علم شخص تھا اور وہ مسلمانوں پر کفر کا حکم لگانے میں بہت تیز تھا۔
اور مولانا محمد علی جوہر لکھتے ہیں کہ نجد اور نجدیوں کا یہی کارنامہ ہے کہ مسلمانوں کے خون میں ان کے ہاتھ رنگے ہیں۔
(مقالات محمد علی ،حصہ اول، ص،37)

