سچ فرمایا ربِ ذوالجلال نے، آپ بھی نورِقرآن سے اپنے قلوب کو منور فرمائیے۔
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۚ-وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَؕ(۹) فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ-فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ﳔ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۱۰)
’’فریب دیا چاہتے ہیں اللّٰہ اور ایمان والوں کو، اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو، اور اُنہیں شعور نہیں۔ اُن کے دلوں میں بیماری ہے تو اللّٰہ نے اُن کی بیماری اور بڑھائی اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے، بدلہ اُن کے جھوٹ کا‘‘۔
(پارہ نمبر1، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر:9،10)
غیرمقلدوں کی تاریخ:
فقیہِ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللّٰہ کی کتاب ’’غیر مقلدوں کے فریب‘‘ سے چند اقباسات پیشِ خدمت ہیں۔
148۔ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضور سید عالم ﷺ نے شام اور یمن کے لیے اس طرح دعا فرمائی۔
اللہم بارک لنا فی شامنا اللہم بارک لنا فی یمننا قالوا وفی نجدنا۔ قال اللہم بارک لنا فی شامنا اللہم بارک لنا فی یمننا قالوایا رسول اللّٰہ وفی نجدنا فاظنہ قال فی الثالثۃ ہناک الزلازل والفتن وبہا یطلع قرن الشیطان۔
اے اللّٰہ! ہمارے لیے شام اور یمن میں برکت نازل فرما۔(دعا کے وقت نجد کے کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے)انہوں نے عرض کیا، اور ہمارے نجد میں بھی(برکت کی دعا فرمائیں)۔اس پر حضور ﷺ نے پھر وہی پہلی دعا کی۔ اے اللّٰہ! ہمارے لیے شام اور یمن میں برکت نازل فرما۔ توپھر دوبارہ نجد کے لوگوں نے عرض کیا، اور ہمارے نجد میں یارسول اللّٰہ ﷺ! راوی کا بیان ہے کہ تیسری مرتبہ میں حضور ﷺ نے فرمایا،وہ زلزلوں اور فتنوں کی جگہ ہے اور وہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا‘‘۔ (بخاری، ج1، ص351، حدیث نمبر:990)
149۔ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ ذوالخویصرہ جو قبیلہ بنو تمیم کا رہنے والا تھا جب اس نے حضور سید عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اس کی گردن مارنے کی اجازت چاہی تو حضور ﷺ نے فرمایا، اسے چھوڑ دو، اس کے بہت سے ساتھی ہیں جن کی نمازوں اور روزوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر سمجھو گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ (ان سب ظاہری خوبیوں کے باوجود) وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
(بخاری، ج3، ص1321، حدیث نمبر:3414)
150۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ذوالخویصرہ کی گستاخی پر حضور ﷺ نے اس کے متعلق ارشاد فرمایا،
اس کی نسل سے ایک جماعت پیدا ہو گی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پوجنے والوں کو چھوڑ دیں گے۔
(مشکاۃ، ج3، ص282، حدیث نمبر:5894)
اوپر کی حدیثوں میں حضور سیدِ عالم ﷺ نے بہت پہلے جو نجد سے فتنوں کے اٹھنے اور گستاخِ رسول ذوالخویصرہ کی نسل سے ایک ایسی جماعت کے پیدا ہونے کی خبر دی تھی کہ جو مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ تو حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق اسی کے خاندان سے محمد بن عبدالوہاب نجدی پیدا ہوا جس کی ذات سے نجدی فتنہ ظاہر ہوا اور حضور ﷺ کی پیشین گوئی حرف بحرف صحیح ہوئی کہ اس نے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا اور بت پرستوں کو چھوڑ دیا۔
[فقیر کہتا ہے، اگر نجد کے علاقے سے ایک سے زائد فرقے نکلتے تو لوگوں میں اختلاف ہو جاتا کہ مذکورہ حدیثوں کا مصداق کون سا فرقہ ہے؟ لیکن خدا کی قدرت دیکھئے کہ نجد کے علاقے سے صرف ابن عبدالوہاب نجدی کا فرقہ ظاہر ہوا۔]

