(11)۔۔ اب دل تھام کر ایک بھیانک قسم کا جھوٹ اور بدترین بد دیانتی ملاحظہ کیجیے جس کا ارتکاب غیر مقلد مولوی نور حسین گرجاکھی نے کیا ہے۔ انہوں نے تلخیص الحبیر والی من گھڑت روایت کو صحیح حدیث ثابت کرنے کے لیے اس سے کذاب راویوں والی سند ہٹا کر وہاں بخاری و مسلم کی سند لگا دی۔اس طرح موصوف جعلسازی اور تحریف میں یہودیوں سے بھی آگے نکل گئے۔ نعوذباللّٰہ من ذلک۔
مولوی نور حسین گرجاکھی نے وہی موضوع روایت نقل کر کے لکھا، ’’سبحان اللّٰہ ! یہ کیسی پیاری اور عمدہ حدیث (جس کو چھیالیس) ائمہ نے نقل کیا ہے اور اس کا اسناد کتنا عمدہ ہے۔
(۱) امام مالک تو وہ تمام عالموں اور محدثوں کے پیشوا ہیں اور وہ اس کو
(۲) ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں جو اہلِ مدینہ کے بڑے مشہور عالم اور امام تھے اور امام زہری
(۳) سالم بن عبداللّٰہ سے روایت کرتے ہیں جو بڑے تابعی اور فقیہ ہیں اور سالم
(۴) حضرت عبداللّٰہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں جو بڑے قدیم الاسلام، متبع سنت اور عالم اور بڑے درجے والے ہیں جو کَانَ (کان یرفع یدیہ) سے حدیث نقل کر رہے ہیں اور آخر میں (فما زالت تلک صلاتہ حتی لقی اللّٰہ تعالیٰ) لا کر ثابت کرتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ اپنی عمر کی آخری نماز تک رکوع میں جانے اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت رفع یدین کرتے رہے‘‘۔ (قرۃ العینین فی اثبات رفع الیدین،ص8، 9)
یہی بات مولوی خالد گرجاکھی نے بھی لکھی ہے۔ ہم اس پر مزید تبصرہ کیے بغیر صرف غیب بتانے والے آقا و مولیٰ ﷺ کی یہ حدیث پاک سنائیں گے،
147۔ من کذب علیّ متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار۔
جو جان بوجھ کرمجھ پر جھوٹ باندھے ، وہ اپنا ٹھکاناجہنم کی آگ میں بنا لے۔
(بخاری، ج1، ص53، حدیث نمبر:107)
(12)۔۔ اسی موضوع روایت کے متعلق غیر مقلد مولوی یوسف جے پوری کا جھوٹ بھی ملاحظہ فرما لیجیے۔ وہ فقہ حنفی کی اہم کتاب ہدایہ کے حوالے سے لکھتا ہے،
’’بیہقی کی روایت میں ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے جس کے آخر میں ہے کہ یہی آپ کی نماز رہی یہاں تک کہ آپ اللّٰہ سے ملاقی ہوئے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ (ہدایہ،ج۱،ص۳۸۶) (حقیقت الفقہ،ص194)
اس حوالے کی تلاش میں ہم نے ہدایہ کی پہلی جلد شروع سے آخر تک دیکھ لی مگر وہاں ایسی کسی عبارت کا نام و نشان تک نہیں۔افسوس صد افسوس! اہلِ حدیث کہلوانے والوں کو ایک جھوٹی روایت کو صحیح حدیث ثابت کرنے کے لیے کس قدر پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں۔
مولوی یوسف جے پوری کا ایک اور جھوٹ دیکھئے۔لکھا ہے،
’’رفع الیدین نہ کرنے کی حدیث ضعیف ہے۔ شرح وقایہ ص۱۰۲‘‘۔
(حقیقت الفقہ، ص194)
ہدایہ کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے،’’ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی حدیث باتفاق ائمہ محدثین ضعیف ہے‘‘۔ یہ حوالے بھی صریحاً جھوٹ ہیں۔ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔
مفتی جلال الدین امجدی رحمہ اللّٰہ نے اپنی کتاب ’’غیر مقلدوں کے فریب‘‘ میں مولوی یوسف جے پوری کی کتاب حقیقت الفقہ سے بطور نمونہ ایسے چالیس جھوٹ پیش کیے ہیں جن میں ائمہ احناف کی معتبر کتب کی طرف جلد و صفحہ نمبر لکھ کر من گھڑت عبارات منسوب کی گئی ہیں۔ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس فرقہ کی بنیاد ہی جھوٹ اور دھوکے پر ہے۔
صادق سیالکوٹی ہوں یا زبیر علیزئی، مولوی گرجاکھی ہوں یا مولوی یوسف جے پوری، سبھی جھوٹ بولنے اور دھوکا دینے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر نظر آتے ہیں۔
قارئین کرام !اب آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے کہ اس فرقہ کا طریقۂ وارادت یہی ہے کہ جھوٹ اور فریب کے ذریعے ائمہ احناف کی طرف من گھڑت عبارات منسوب کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا جائے۔ انہوں نے سوچا ہوگا کہ لوگ اصل کتب کو دیکھیں گے نہیں اور اس طرح حنفی مذہب اور سُنی علماء سے بدظن ہو جائیں گے۔ کاش کہ انہوں نے خوفِ خدا کا پاس رکھا ہوتا اور محبوبِ کبریاء ﷺ سے شرم کی ہوتی!

