علیزئی نے حاشیہ میں اس علمی نکتہ کی تائید کی ہے۔ جواب میں عرض ہے کہ ماضی استمراری محض مطلق فعل پر دلیل ہے۔ اسے دوام کی دلیل بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس فعل پر علیحدہ سے دوام کی کوئی دلیل ہو۔ شیخ الحدیث علامہ مفتی عبدالرزاق بھترالوی اس کے متعلق فرماتے ہیں،
’’آئیے علامہ صاحب کے علمی کمال کو دیکھئے، آپ کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کَانَ جب مضارع پر داخل ہو تو ماضی استمراری بن جاتا ہے۔
ماضی استمراری زمانہ ماضی میں کسی کام کے جاری رکھنے پر دلالت کرتی ہے، دوام پر نہیں ۔ جیسے میں کہوں کنت اتعلم، میں تعلیم حاصل کرتا رہا۔ میں طالب علم رہا ۔ کیا اس کا یہ معنیٰ ہے کہ میں عمر بھر دینی مدارس میں متعلم ہی رہا ، جب کہ تعلیم بحیثیت متعلم ہونے کے آٹھ سالوں پر مشتمل ہے۔
علامہ صاحب کے متعلق میں کہوں،
’’ کان یصنف صلوٰۃ الرسول‘‘۔ وہ اپنی کتاب صلوٰۃ الرسول تصنیف کرتے رہے ۔ کیا اس کا یہ معنی ہے کہ وہ عمر بھر یہی کرتے رہے۔ نبی کریم ﷺ کی نماز کا بھی یہی مقصد ہے کہ آپ اس طرح نماز پڑھتے رہے ۔ آپ نماز میں ہاتھ اٹھاتے رہے ۔ عمر بھر کی قید جناب کی اپنی ہے۔ کوئی صاحبِ علم اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ۔
خصوصاً اگر ماضی استمراری کے متعلق یہ قانون ذہن میں ہو کہ ماضی استمراری کا ترجمہ کرتے وقت ’’ تا تھا ‘‘ یا ‘‘ رہا تھا ‘‘ آتا ہے تو خود ہی واضح ہو جائے گا کہ حضور ایسا کرتے تھے ، کرتے رہے تھے ۔ جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔ (نماز حبیبِ کبریاء، ص173)
اگر اب بھی کوئی نہ مانے تو مزید سمجھانے کے لیے عرض ہے، بخاری و مسلم میں ہے، کان یصلی وھو حامل امامۃ۔ یعنی حضورﷺ اپنی نواسی حضرت امامہ کو اٹھا کر نماز پڑھتے تھے۔ اگر کَانَ استمرار و دوام کی دلیل ہے تو اس حدیث کا کیا مطلب ہو گا؟ نیز کتنے اہلحدیث حضرات اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے نمازیں ادا کرتے ہیں؟؟؟
امام بخاری کی ایک روایت ملاحظہ فرمائیے۔
قال الحسن کان القوم یسجدون علی العمامۃ والقلنسوہ ویداہ فی کمہ
(بخاری، ج1، ص150، باب السجود علی الثوب)
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں، صحابہ پگڑی اور ٹوپی پر سجدہ کرتے تھے اور ان کے ہاتھ ان کی آستین میں ہوتے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام عمامہ اور ٹوپی پہن کر نماز پڑھتے تھے۔ نیز اس میں کَانَ بھی موجود ہے جو استمرار کی دلیل ہے۔ بخاری کی اس کَانَ والی حدیث پر ’’اہلحدیث‘‘ ہونے کے دعویدار غیر مقلدین عمل نہیں کرتے اور اکثر وہ آپ کو ننگے سر نماز پڑھتے نظر آئیں گے۔
دوسرا جھوٹ جو مذکورہ عبارت میں کہا گیا، وہ اسی موضوع و من گھڑت روایت کا حوالہ ہے جس کا باطل و مردود ہونا ثابت کیا جا چکا۔ اس روایت کا حوالہ تلخیص الحبیر کتاب سے ہے۔ غیر مقلد اکثر اس کتاب کے حوالے دیا کرتے ہیں جبکہ اس کتاب کا علمی مقام یہ ہے کہ خود اس کتاب کے مصنف اپنی اس کتاب سے راضی نہیں تھے۔
چنانچہ ہدی الساری مقدمہ فتح الباری کے پہلے صفحہ پر تحریر ہے،
’’امام سخاوی نے اپنی کتاب ’’الضوء الامع‘‘ میں حافظ ابن حجر کے ترجمہ میں یہ الفاظ لکھے ہیں،
وسمعتہ یقول لست راضیا عن شیٔ من تصانیفی لانی عملتہا فی ابتداء الامر ثم لم یتہیا لی من تحریرہا سوی شرح البخاری ومقدمتہ ومشتبہ و التہذیب ولسان المیزان الخ۔
میں نے امام ابن حجر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں شرح بخاری، مقدمہ، مشتبہ، تہذیب التہذیب اور لسان المیزان کے سوا اپنی کسی تصنیف سے راضی نہیں ہوں کیونکہ وہ میں نے اپنے ابتدائی دور میں لکھیں اور پھر مجھے ان پر نظر ثانی کر کے انہیں دوبارہ لکھنے کا موقع نہیں ملا‘‘۔ (مقدمہ فتح الباری، ج1، ص1)
پس ثابت ہوا کہ مصنف کے نزدیک بھی تلخیص الحبیر کوئی مستند کتاب نہیں اس لیے اس کا حوالہ صحیح دلیل نہیں ہو سکتا۔
ثانیاً عدل کا تقاضا تو یہ ہے کہ غیرمقلد جیسے ہم سے بخاری و مسلم کے حوالے مانگتے ہیں ایسے ہی وہ خود بھی صرف صحیحین ہی سے حوالہ دیا کریں۔

