Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 64 of 107

(8)۔۔ حکیم صاحب نے غیرمقلد علامہ مجد الدین فیروز آبادی کی کتاب سفر السعادت کے حوالے سے لکھا ہے،

’’ کثرت ایں معنی بہ تواتر ماندہ است وچہار صد اثر وخبر دریں باب صحیح شدہ ‘‘۔

کثرت روایات کی وجہ سے ( تین مواقع پر ثابت شدہ رفع الیدین) متواتر حدیث کے مشابہ ہے۔ اس مسئلہ میں چار سو حدیثیں اور آثار آئے ہیں۔ (صلوٰۃ الرسول، ص198)

 

اس کے جواب میں مفتی عبدالرزاق بھترالوی رقمطراز ہیں،

’’غیر مقلدین کی ٹیڑھی سوچ کا اندازہ تو کریں ۔ کبھی یہ کہنا ہم تو صرف صحاح ستہ (بلکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہی) سے حدیث مانیں گے اور کبھی اپنے دلائل میں فیروز آبادی کی ’’سفرالسعادۃ‘‘ کو پیش کرنا۔ قارئین کرام! خدارا انصاف تو کریں ، کیا یہی علم ہے؟ کیا یہی عقل ودانش ہے ؟

 

علامہ ابن ہمام صاحبِ فتح القدیر، علامہ بدر الدین عینی، محدث علی قاری جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال کو بغیر تحقیق کے چشم زدن میں رد کر دینا لیکن اپنے مطلب کی بات اپنے علامہ کی تسلیم کر لینا بلکہ دوسروں کو بھی منوانے کی کوشش کرنا یہ جہالت و حماقت نہیں تو اور کیا ہے ۔

صادق سیالکوٹی غیر مقلد کی ’’سفرالسعادۃ‘‘ سے نقل کردہ اس عبارت کا حال دیکھئے اور اندازہ کیجئے کہ مبالغہ کہاں تک کیا گیا ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں مل سکتا ۔

’’اس مسئلہ میں چار سو حدیثیں اور آثار آئے ہیں‘‘۔

دو روایتوں کو چار سو بنانا یہ صرف تمہاری ہی شان ہو سکتی ہے۔ اگر خدا کا خوف نہ ہوتا، جھوٹ لعنت نہ ہوتا ، جھوٹ ایمان کی قینچی نہ ہوتا، جھوٹ گناہ کبیرہ نہ ہوتا، جھوٹ کو جائز سمجھ کر بولنا کفر نہ ہوتا، تو راقم بھی عربی یا فارسی میں یہ عبارت پیش کر دیتا کہ رفع یدین کی ممانعت میں چار لاکھ حدیثیں آئی ہیں۔ صرف زبانی دعویٰ تو کافی نہیں۔ ذرا وہ چار سو روایات ثابت کر کے تو دکھائیں ؟ تمہاری کتاب کو پڑھنے والے جہلاء تو تمہارے دامِ فریب میں آسکتے ہیں، اہلِ علم پر دھوکے کا جال کام نہیں کرسکتا ۔ (نماز حبیبِ کبریاء،ص164)

 

(9)۔۔ ایک غیرمقلد مولوی خالد گرجا کھی نے اثباتِ رفع الیدین پر کتاب لکھی اور اس میں بخاری و مسلم کی احادیث کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھا،

’’اب اگر آپ نے دلائل پیش کرنے ہوں تو صحاح ستہ یا بقول بعض بشمولیت مسند احمد، صحاح سبعہ سے پیش کریں‘‘۔
(اثبات رفع الیدین، ص 237)

آپ مذکورہ کتاب پڑھیں گے تو سر پکڑ لیں گے کہ صحاح ستہ کے حوالے مانگنے والے نے خود کن کتابوں سے حوالے پیش کیے ہیں۔ جو راوی ترکِ رفع یدین کی روایات میں ان کے نزدیک ضعیف و کذاب تھے، وہی رفع یدین کے اثبات کی روایات میں قوی اور ثقہ ہوگئے۔ تلخیص الحبیروالی مذکورہ بالا موضوع روایت گرجاکھی نے صحیح ثابت کرنے کی ناپاک سعی کی نیز کئی موضوع روایات کا اضافہ بھی کیا۔

مثلاً صفحہ 209 پر عنوان قائم کیا، ’’فرشتوں کا رفع الیدین کرنا‘‘۔اس کے تحت لکھا،

’’ حضرت علی کہتے ہیں کہ جب سورہ کوثر اتری تو آپ نے جبرئیل سے پوچھا کہ وانحر سے کیا مراد ہے؟

انہوں نے کہا، اللّٰہ تعالیٰ تمہیں حکم فرماتے ہیں کہ جب تو نماز شروع کرے تو رفع الیدین کر اور جب رکوع کرے تو بھی اور جب رکوع سے اٹھے تو بھی۔ یہی ہماری نماز ہے اور ساتوں آسمانوں کے فرشتوں کی بھی یہی نماز ہے‘‘۔ (اثبات رفع الیدین، ص 209)

 

محدثین کے نزدیک یہ روایت جھوٹی ہے۔ امام ذہبی نے اس کے راوی اسرائیل بن حاتم کا من گھڑت حدیثیں بیان کرنے کا ذکر کر کے مذکورہ روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ (میزان الاعتدال، ج1، ص364)

 

علماءِ حق کی گرفت پر اس روایت کے جھوٹ ہونے کا اقرار غیر مقلدوں کو بھی کرنا پڑا۔ چنانچہ صلوٰۃ الرسول کے پہلے ایڈیشنوں میں یہ روایت درج تھی۔ نظرِثانی شدہ ایڈیشن میں اسے نکال دیا گیا جبکہ دیگر غیر مقلد اب بھی اس پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

 

(10)۔۔ حکیم سیالکوٹی صاحب رفع یدین کی حدیث کو نقل کرنے کے بعد ایک علمی نکتہ بیان کرتے ہیں :

’’ کان یصلی ‘‘ استمرار کے لئے آتا ہے جس کے معنی ہیں کہ حضور ہمیشہ کرتے تھے۔ ’’ کان یرفع ‘‘ کے الفاظ میں بھی استمرار یعنی ہمیشگی پائی جاتی ہے کہ حضورﷺ ساری عمر رفع الیدین کرتے رہے ۔ زاد المعاد اور تلخیص میں ہے ’’فما زالت تلک صلوتہ حتی لقی اﷲ تعالیٰ ‘‘ کہ حضور ﷺ تا وفات رفع الیدین کرتے رہے ۔
(صلوٰۃ الرسول، ص202)

Share:
keyboard_arrow_up