Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 63 of 107

مشہور غیر مقلد عالم نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں،

’’علمائے حقانی پر پوشیدہ نہیں کہ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنے میں جھگڑنا تعصب اور جہالت سے خالی نہیں کیونکہ مختلف اوقات میں رفع یدین کرنا اور نہ کرنا دونوں ثابت ہیں اور دونوں طرف دلائل موجود ہیں۔ (بعض دلائل کا ذکر کر کے کہتے ہیں) قصہ مختصر یہ کہ رفع یدین کا ثبوت اور عدم ثبوت دونوں مروی ہیں‘‘۔ (فتاویٰ نذیریہ، ج1، ص441، 443)

 

غیر مقلد محقق عطاء اللّٰہ حنیف سنن نسائی کی ایک حدیث کے تحت رقمطراز ہیں،’’ اس حدیث سے فی الحقیقت یہی بات ثابت اور واضح ہے کہ حضور ﷺ ہمیشہ رفع یدین کیے بغیر نماز پڑھتے تھے۔ لیکن ہم (غیرمقلدین) بہرحال اس کی یہی تاویل کریں گے کہ آپ کبھی کبھی رفع یدین کیے بغیر نماز پڑھتے تھے تاکہ دونوں طرح کی احادیث میں تعارض نہ رہے۔

لہٰذا صحیح یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے رکوع کے لیے جاتے اور اٹھتے ہوئے رفع یدین نہیں فرمایا تاکہ معلوم ہو جائے کہ رفع یدین کرنا اور نہ کرنا دونوں سنت ہیں یا یہ بتانے کے لیے کہ رفع یدین نہ کرنا بھی جائز ہے۔

اور انصاف کی بات یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث اور ان کے عمل کی وجہ سے رفع یدین والی روایات کو رد نہیں کیا جا سکتا اور یہ بھی انصاف ہی کی بات ہے کہ رفع یدین نہ کرنے والی روایات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ رفع یدین نہ کرنا کہیں ثابت نہیں‘‘۔
(التعلیقات السلفیہ علی النسائی، ص123،126)

 

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ زبیر علیزئی نے عطاء اللّٰہ حنیف کا ذکر اپنے اساتذہ میں کیا ہے۔ علیزئی کسی اور کی مانے یا نہ مانے،کم از کم اپنے استاد کی تو ضرور مان لے۔

مشہور غیر مقلد محقق احمد شاکر اور غیرمقلد محدث ناصر الدین البانی دونوں کا حدیثِ ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کو صحیح قرار دینا پہلے مذکور ہو چکاہے۔ پس غیر مقلدین کے اکابرین کی کتب سے ثابت ہو گیا کہ رسول کریم ﷺ سے رفع یدین ترک کرنا ثابت و صحیح ہے۔

(7)۔۔ غیر مقلدین کہتے ہیں، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد تینوں کے نزدیک رفع الیدین کرنا سنت ہے گویا مذاہبِ اربعہ میں سے تین مذہب رفع الیدین کے حامی ہیں۔ (صلوٰۃ الرسول، ص197)

 

یہ بات قطعاً غلط اور جھوٹ ہے۔ امام مالک کے نزدیک رفع یدین نہیں ہے۔ اس حوالے سے تفصیلی گفتگو ’’امام مالک اور المدونۃ الکبریٰ‘‘ کے عنوان کے تحت ہو چکی ہے۔ وہاں دلائل ملاحظہ فرمائیں۔

اس عبارت میں حکیم صاحب نے یہ تسلیم کرکے کہ ’’مذاہب چار ہیں‘‘، غیرمقلدوں کے لامذہب ہونے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

تبع تابعین کے زمانہ سے اب تک ساری امت ائمہ اربعہ کی تقلید کر رہی ہے اور اجماعِ امت پر عمل کرنا قرآن و حدیث سے ثابت اور ضروری ہے۔

فرمانِ الٰہی ہے،

’’اور جو رسول کے خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے، ہم اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اُسے دوزخ میں داخل کریں گے۔ اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی ‘‘ ۔ (پارہ نمبر4، سورۃ النساء، آیت نمبر:197)

اس سے معلوم ہوا کہ جو راستہ مسلمانوں کا ہو، اس کو اختیار کرنا فرض ہے اور تقلید پر مسلمانوں کا اجماع ہے لہٰذا تقلید اختیار کرنا لازم ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up