Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 62 of 107

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے رفع یدین کا ترک کرنا بھی سندِ صحیح سے ثابت ہے۔ جیسا کہ اوپر حدیث نمبر115تا 118 میں مذکور ہوا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ اور ترکِ رفع یدین کے عنوان کے تحت حدیث نمبر 120 ملاحظہ کیجیے جو صحیح بخاری جلد اول ’’باب یھوی بالتکبیر حین یسجد‘‘ میں موجود ہے اور وہی حدیث سنن نسائی میں ’’باب التکبیر للرکوع ‘‘ میں موجود ہے۔ لیکن ان دونوں حدیثوں میں رکوع کی رفع یدین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ہم غیر مقلدین کو دعوت دیتے ہیں کہ ان کا کوئی بھی محقق حتٰی فارق الدنیا والی اس حدیث میں اختلافی رفع یدین کا ایک لفظ دکھا دے یا رفع یدین کے اثبات والی کسی صحیح حدیث میں حتٰی فارق الدنیا والا جملہ دکھا دے۔

فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودہا الناس والحجارۃ اعدت للکفرین۔

’’پھر اگر نہ کرسکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہرگز نہ کرسکو گے تو ڈرو اُس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، تیار رکھی ہے کافروں کے لیے‘‘۔ (پارہ نمبر1، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر:24)

 

(5)۔۔ غیرمقلد علیزئی نے شاہد نمبر ۳ میں لکھا کہ ۹ہجری کے بعد ترکِ رفع یدین کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

شاہد نمبر ۴ میں لکھا،  وائل بن حجر رضی اللّٰہ عنہ ۱۰ ہجری کو دوبارہ تشریف لائے اور اسی رفع یدین کا مشاہدہ کیا۔
(صلوٰۃ الرسول، ص196)

 

حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ کی دوسری بار موسم سرما میں بارگاہِ نبوی میں حاضری کا ذکر سنن ابو داؤد میں تین احادیث میں ہے جن میں سے کسی میں بھی نماز میں رکوع کے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں ہے۔ اسی کتاب میں حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ کی احادیث کے تحت حدیث 64 تا 66 ملاحظہ فرمائیں۔

حدیث 66 میں واضح طور پر مذکور ہے کہ: صحابہ کرام کا موسمِ سرما میں کپڑوں کے اندر ہاتھوں کو حرکت دینا صرف تکبیرِ اولیٰ کے وقت تھا۔ یعنی اس وقت رکوع اور سجدوں کارفع یدین منسوخ ہو چکا تھا۔

یہ ذہن نشین رہے کہ حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ کی پہلی بار آمد کے وقت سجدوں کا رفع یدین بھی جاری تھا جس کا ذکر حضرت وائل کی حدیث میں ابوداؤد شریف کے حوالے سے اس کتاب کے آغاز میں نمبر8 پر مذکور ہے۔

اگر علیزئی کے بقول ۹ھ کے بعد رفع یدین کے ترک کا کوئی ثبوت نہیں تو پھر غیر مقلدین کو چاہیے کہ وہ سجدوں کا رفع یدین بھی کیا کریں یا اس کے ترک پر کوئی صحیح صریح حدیث پیش کریں جس میں یہ واضح ہو کہ ۹ھ کے بعد سجدوں کا رفع یدین ترک کردیا گیا۔

 

(6)۔ غیر مقلد علیزئی نے شاہد نمبر 5کے تحت لکھا، رسول اللّٰہ ﷺ سے ساری زندگی میں ایک دن بھی کسی ایک نماز یا کسی ایک رکعت میں ترکِ رفع یدین ثابت نہیں ہے۔

اس قدر ڈھٹائی سے اتنا بڑا جھوٹ بول کرعلیزئی نے اپنے تمام اکابرین کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔

اس کتاب ہی میں ایک سو سے زائد احادیث بیان ہوئی ہیں جن میں رسول کریم ﷺ، صحابہ کرام و تابعین سے ترکِ رفع یدین مذکور ہے۔

حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ  سے مروی تقریباً چالیس احادیث میں آقا ومولیٰ ﷺ سے رفع یدین ترک کرنا ثابت کیا ہے۔ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ سے مروی تقریباً چالیس احادیث میں آقا و مولیٰ ﷺ  سے رفع یدین ترک کرنا ثابت کیا ہے۔ نیز غیر مقلدوں کے محقق علماء کی کتب سے دس گواہیاں پیش کر دی ہیں کہ حدیث ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ صحیح و ثابت ہے۔

 

علیزئی کی ہدایت کے لیے اسی کا ترجمہ کردہ امام بخاری کا ارشاد پیش کیے دیتے ہیں،

یعنی أن الانسان ینبغی أن یلقی رأیہ لحدیث النبی ﷺ حیث ثبت الحدیث ولا یعتل بعلل لاتصح۔

یعنی انسان کو نبی ﷺ کی حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے کو پھینک دینا چاہیے جب حدیث صحیح ثابت ہو جائے۔ اور حدیث کو غلط علتوں (اور ہتھکنڈوں ) سے رد نہیں کرنا چاہیے۔
(جزء رفع الیدین ،ص69)

Share:
keyboard_arrow_up