ایک اور راوی ہے عصمہ بن محمد انصاری، اس کے متعلق ابو حاتم نے کہا ہے،
لیس بقوی ۔’’ یہ راوی قوی نہیں‘‘ ۔
یحییٰ (بن معین) نے کہا ہے،
کذاب یضع الحدیث ۔
’’یہ شخص جھوٹا ہے۔ موضوع حدیثیں بیان کرتا ہے۔“
عقیلی نے کہا،
یحدث بالبواطیل عن الثقات۔
’’باطل حدیثیں بیان کرتا ہے اور ان کو ثقہ راویوں کی طرف منسوب کرتا ہے‘‘ ۔
دار قطنی نے اور اسی طرح کچھ حضرات نے کہا،
متروک۔
’’یہ راوی متروک (چھوڑا ہوا ،غیر معتبر)ہے ‘‘۔ (لسان المیزان، ج5، ص119)
اب آپ خود ہی انصاف سے بتائیں جس حدیث کے راویوں کا یہ حال ہو،کیا وہ دلیل بنانے کے قابل ہے ؟
(نماز حبیب کبریا، ص157، 159)
(3)۔۔ مذکورہ من گھڑت روایت کے حاشیے میں غیر مقلد زبیر علیزئی لکھتا ہے،
اس روایت کے بہت سے صحیح شواہد موجود ہیں۔ پھر اس نے لکھا،
’’المعجم لابن الاعرابی میں ایک روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جناب ابوہریرہ نے رسول اللّٰہ ﷺ کی نماز پڑھ کر بتائی جس میں رکوع سے پہلے کا رفع یدین مذکور ہے اور آخر میں اللّٰہ کی قسم اٹھا کر کہا کہ رسول اللّٰہ کی یہی نماز تھی حتی کہ آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔
اس کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں سوائے محمد بن عصمہ الرملی القاضی کے، اس کے حالات مجھے نہیں ملے‘‘۔
(صلوۃالرسول، ص334)
آپ خود ہی انصاف کیجیے کہ اس’’ صحیح حدیث‘‘ کا ایک راوی ایسا ہے جس کے بارے میں یہ علم ہی نہیں کہ اس کا حافظہ کیسا تھا؟ اس کا کردار کیسا تھا؟ غالب امکان یہی ہے کہ کذاب اور وضاع ہوگا جس نے یہ حدیث گھڑ کر دوسرے راویوں کی طرف منسوب کردی اسی لیے اس کی توثیق غیر مقلد محقق، دنیا کی کسی کتاب سے ثابت نہیں کرسکا۔
کیا عدل اور انصاف اسی کا نام ہے کہ بخاری و مسلم کے راویوں حضرت ابراہیم نخعی جیسے جلیل القدر تابعی کی مرسل احادیث کو اور تدلیس کی وجہ سے محدثِ کبیر امام سفیان ثوری کی احادیث کو غیرمقلد علیزئی ’’باطل و مردود‘‘ قرار دے دے اور ایک نامعلوم راوی کی روایت جو کہ معروف کتبِ حدیث میں بھی نہیں، اسی غیر مقلد علیزئی کے نزدیک’’صحیح‘‘قرار پائے؟؟؟
کیا ”اہلحدیث“محقق کی یہی علمی دیانت ہے کہ من گھڑت روایت کی توثیق کے لیے ایک اور من گھڑت روایت۔
اعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم۔
اب مذکورہ من گھڑت روایت کے متن کو دیکھیے۔
فابتدأ فکبر ورفع یدیہ ثم رکع فکبر ورفع یدیہ ثم سجد ثم کبر ثم سجد وکبر ۔
پس انہوں نے نماز کی ابتدا کی۔ اللّٰہ اکبر کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ پھر رکوع کیا۔ پس آپ نے اللّٰہ اکبر کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ پھر سجدہ کیا پھر اللّٰہ اکبر کہا۔ پھر سجدہ کیا اور اللّٰہ اکبر کہا۔ (نور العینین، ص336)
ہم نے متن اور ترجمہ اسی کی کتاب سے نقل کیا ہے۔ متن میں رکوع سے پہلے تکبیر اور رفع یدین کا ذکر نہیں ہے جبکہ غیر مقلدین اس کے قائل ہیں۔
دوم یہ کہ رکوع کے بعد اللّٰہ اکبر کہنے اور رفع یدین کا ذکر ہے جبکہ تمام مسلمان رکوع کے بعد سمع اللّٰہ لمن حمدہ اور ربنا لک الحمد کہتے ہیں اور خود غیر مقلدین بھی اللّٰہ اکبر کے بجائے یہی کہتے ہیں۔ یہ روایت متن کے لحاظ سے بھی امت کے عملی تواتر کے خلاف ہے اور باطل ومردود ہے۔
(4)۔۔ غیرمقلد علیزئی اسی من گھڑت روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے شاہد نمبر ۲ کے تحت لکھتا ہے،
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے رفع یدین باسندِ صحیح ثابت ہے۔ حضرت ابوہریرہ سےیہ ثابت ہے کہ آپ اپنی نمازکو رسول اللّٰہﷺ کے مشابہ قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ:
’’ ما زالت ہذہ صلاتہ حتی فارق الدنیا‘‘۔
آپ کی یہی نماز تھی حتی کہ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔
(نسائی شریف واصلہ فی صحیح البخاری وغیرہ)
(نسائی، ج4، ص371، حدیث نمبر:114) (صلوٰۃ الرسول،ص196)

