ملاحظہ کیا آپ نے! امام محمد فرمارہے ہیں کہ ان کے نزدیک سنتِ صحیحہ ثابتہ صرف نماز کے شروع میں ایک بار کانوں کے برابر رفع یدین کرنا ہے۔
جبکہ نام نہاد اہلحدیث عالم کس قدر ڈھٹائی سے جھوٹ بول کر مسلمانوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔ ایسی بد دیانتی عالم تو کیا، کسی جاہل کو بھی زیب نہیں دیتی۔
اب عدل وانصاف اور شرم و حیا کا تقاضا یہ ہے کہ غیر مقلدین، حضرت امام ابوحنیفہ کے مایہ ناز شاگرد اور سرتاجِ احناف حضرت امام محمد کے نعرۂ حق، ’’ترکِ رفع یدین برحق‘‘کو دل سے مان لیں۔
(2)۔۔ غیر مقلد کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا تاحیات رفع یدین کرنا ثابت ہے ۔ اس دعویٰ پر انہوں نے یہ حدیث پیش کی ہے:
عن ابن عمر ان رسول اﷲ ﷺ کان اذا افتتح الصلوۃ رفع یدیہ واذا رکع واذا رفع رأسہ من الرکوع وکان لا یفعل ذلک فی السجود فما زالت تلک صلوتہ حتی لقی اﷲ تعالیٰ ۔( تلخیص الحبیرللعسقلانی)
رسول ﷲ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے، اور جب رکوع کرتے اور جب اٹھاتے سر اپنا رکوع سے، اور سجدوں میں رفع الیدین نہ کرتے۔ اللّٰہ تعالیٰ سے ملتے دَم تک آپ کی نماز اسی طرح رہی۔ ( یعنی وفات تک حضور ﷺ رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے رہے )۔
(صلوٰۃ الرسول، ص195)
اس کے جواب میں علامہ مفتی عبدالرزاق بھترالوی رقمطراز ہیں:
”سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم جب کوئی حدیث پیش کریں تو اس کے جواب میں تم یہ کہتے ہو کہ حدیث صرف صحاح ستہ سے دکھائیں ۔“ وہ کون سا صحیفۂ آسمانی ہے جس نے صحاح ستہ میں صحیح حدیثوں کے بند ہونے کا حکم دیا ہے ۔
لیکن افسوس کہ جب تمہیں اپنا دعویٰ ثابت کرنے میں مشکل پیش آئے تو کبھی اسماء الرجال کی کتابوں کا سہارا لیتے ہو، وہ بھی صرف وہاں تک جہاں تک تم اپنی بات پر ثبوت پیش کر سکو، اور کبھی بیہقی کی حدیث کا سہارا لیتے نظر آتے ہو ۔ذرا بتاؤ تو سہی کہ کس منہ سے یہ حدیث پیش کر رہے ہو ؟ کیا تمہارا یہ حدیث پیش کرنا تمہارے اپنے دعویٰ کے مطابق ہے ؟
دوسری بات یہ ہے کہ ہم تمہاری طرح ضدی نہیں، ہم یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ صحاح ستہ سے ہی حدیث پیش کرو، ہم صرف عالمانہ گفتگو کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ تم نے بیہقی سے حدیث پیش کی ۔ بیہقی کی ہر حدیث پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی ہم ہر حدیث کو بلا چون و چرا مان لیں گے۔
ہم صرف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حدیث صحیح یا حسن پیش کرو، ضعیف نہ پیش کرو۔ ضعیف حدیث سے احکام ثابت نہیں ہوتے ۔ موضوع حدیث نہ پیش کرو ۔ موضوع حدیث دراصل حدیث ہی نہیں ہوتی، وہ تو صرف من گھڑت قول ہوتا ہے ۔
اب ذرا اپنی پیش کردہ حدیث کا حال دیکھیں! علامہ نیموی فرماتے ہیں، ’’
وہو حدیث ضعیف بل موضوع ‘‘۔
یہ حدیث ضعیف ہے بلکہ موضوع ہے ۔ (آثار سنن، ص 201)
حدیث کی وجہِ ضعف کیا ہے ؟
اس کو سمجھنے سے پہلے یہ ذہن میں رکھیں کہ اس حدیث کی سند کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے ایک سند یہ ہے :
عن الحسن بن عبد اﷲ حمدان الرقی ثنا عصمتہ بن محمد الانصاری ثنا موسی بن عقبۃ عن نافع عن ابن عمر ۔
آگے بیان کیا گیا :
ورواہ عن ابی عبد اﷲ الحافظ عن جعفر عن محمد بن نصر عن عبد الرحمن ابن قریش بن خزیمۃ الہروی عن عبد اﷲ بن احمد الامجی عن الحسن... الخ ۔
یعنی حقیقت میں ایک ہی سند ہے کہ ابتداء ابوعبد ﷲ حافظ سے ہو رہی ہے اور انتہاء حضرت ابن عمر رضی ﷲ عنہما پر ہو رہی ہے ۔اس سند میں ایک راوی ہے عبد الرحمن بن قریش،
اس کے متعلق ذہبی نے میزان میں ذکر کیا ہے :
’’ عبد الرحمن بن قریش بن خزیمۃ ہروی سکن بغداد اتہمہ السلیمانی بوضع الحدیث‘‘۔
عبد الرحمٰن بن قریش بن خزیمہ ہروی بغداد میں رہا ہے، اس کو محدث سلیمانی نے موضوع حدیث بیان کرنے کی تہمت لگائی ۔
(میزان الاعتدال، ج4، ص308، لسان المیزان، ج5، ص119)

