عورت کا نماز میں بیٹھنا:
144۔ عن ابن جریج قال قلت لعطاء تجلس المرأۃ فی مثنا علی شقہا الأیسر قال نعم قلت ھو أحب الیک من الأیمن قال نعم تجتمع جالسۃ ما استطاعت۔
ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا، کیا عورت اپنی سرین کی بائیں جانب پر بیٹھ سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا، ہاں۔ میں نے پوچھا، کیا وہ آپ کو دائیں جانب سے زیادہ پسندیدہ ہے؟فرمایا، ہاں۔ عورت جتنا ممکن ہو، سمٹ کربیٹھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص271، حدیث نمبر2807)
145۔ عن ابراہیم عن خالد بن اللجلاج قال کن النساء یؤمرن أن یتربعن اذا جلسن فی الصلاۃ ولا یجلسن جلوس الرجال علی أوراکہن یتقی ذلک علی المرأۃ مخافۃ أن یکون منہا الشیٔ۔
حضرت خالد بن لجلاج فرماتے ہیں، عورتوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ نماز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر (ایک جانب ہوکر)بیٹھیں اور مردوں کی طرح سرین کو پاؤں پر رکھ کر نہ بیٹھیں۔ عورت کو مردوں کی طرح بیٹھنے سے روکنے کی وجہ یہ تھی کہ عورت کا کوئی مقام ظاہر نہ ہو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص270، حدیث نمبر2799)
146۔ عن منصور عن ابراہیم قال تجلس المرأۃ من جانب فی الصلاۃ۔
(صحیح بخاری کے راوی )حضرت ابراہیم نخعی فرماتے ہیں،عورت نماز میں ایک جانب ہو کر بیٹھے۔ یعنی قعدہ میں پاؤں کو ایک طرف نکال کر زمین سے سُرین ملا کر بیٹھے کہ اس میں زیادہ پردہ ہے۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص271، حدیث نمبر2808)
غیر مقلدین کے جھوٹ اور فریب:
(1)۔۔ کتاب’’صلوٰۃ الرسول ‘‘ کے مصنف غیر مقلد حکیم صادق سیالکوٹی لکھتے ہیں، سرتاجِ احناف حضرت امام محمد کا نعرۂ حق، رفع الیدین برحق: حضرت امام محمد جو احناف کے مسلمہ امام ہیں۔ سارا ذخیرہ حنفی مذہب کا ان ہی کی محنتِ شاقہ اور مساعی کا نتیجہ ہے، آپ حضرت امام ابوحنیفہ کے قابلِ فخر شاگرد ہیں۔
آپ اپنی مشہور کتاب موطا امام محمد میں رفع الیدین کی صحیح حدیث لائے ہیں۔ پھر حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث لکھ کر لکھا ہے، ’’دیکھا آپ نے کہ حضرت امام ابوحنیفہ کے مایہ ناز شاگرد حضرت امام محمد نے حضور ﷺ کی صحیح حدیث اپنی کتاب موطا میں لاکر تسلیم کر لیا کہ رفع الیدین ان کے نزدیک سنتِ صحیحہ ثابتہ ہے۔ اب تو برادرانِ احناف کو بھی یہ سنت اپنا لینی چاہیے‘‘۔ (صلوٰۃ الرسول، ص203، 204)
غیر مقلدین کے اس فریب اور دھوکے کی حقیقت کیا ہے؟نیز سرتاجِ احناف امام محمد رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کا نعرۂ حق کیا ہے؟ملاحظہ فرمائیے۔
امام محمد بن حسن شیبانی نے موطا کے باب افتتاح الصلوٰۃ میں محدثین کرام کے طریق پر پہلے رفع یدین کے اثبات پر دو حدیثیں روایت کیں پھر دس احادیث روایت کیں جن میں اختلافی رفع یدین کا ذکر نہیں یا اس کی ممانعت ہے۔
پھر امام محمدنے رفع یدین کے اثبات والی حدیثوں کو منسوخ بتانے کے لیے اپنی تحقیق کا خلاصہ یہ تحریر فرمایا۔
قال محمد السنۃ ان یکبر الرجل فی صلاتہ کلما خفض وکلما رفع واذا انحط للسجود کبر واذا انحط للسجود الثانی کبر۔
امام محمد رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، ’’ سنت یہ ہے کہ آدمی نماز میں(رکوع کے لیے) جھکے اور (سجود و قعدہ سے) اٹھے تو تکبیر کہے۔ اور جب سجدہ کرے تو تکبیر کہے اور جب دوسرے سجدے کے لیے جھکے تو بھی تکبیر کہے۔
فاما رفع الیدین فی الصلوۃ فانہ یرفع الیدین حذو الاذنین فی ابتداء الصلوۃ مرۃ واحدۃ ثم لا یرفع فی شیٔ من الصلوۃ بعد ذلک۔ وہذا کلہ قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ وفی ذلک اٰثار کثیرۃ۔
نماز میں رفع یدین کا مسئلہ یوں ہے کہ صرف نماز کے شروع میں ایک ہی بار کانوں کے برابر دونوں ہاتھ اٹھائے جائیں اور پھر پوری نماز میں کسی بھی جگہ رفع یدین نہ کیا جائے۔ یہ سب امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کا قول ہے اور اس کی تائید میں بکثرت احادیث وارد ہیں‘‘۔ (موطا امام محمد، ج1، ص179، حدیث نمبر:104)

