عورتوں کی نماز:
غیر مقلدمصنف لکھتا ہے،بخاری و مسلم میں حضور انور ﷺ فرماتے ہیں،
لا یبسط احدکم ذراعیہ انبساط الکلب۔
یعنی نہ بچھائے کوئی تمہارا (مرد ہو یا عورت ) دونوں بازو اپنے (سجدے میں ) جس طرح کتا بچھاتا ہے۔
حضور ﷺ کے اس فرمان سے صاف عیاں ہے کہ نمازی (مرد یا عورت) کو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر دونوں کہنیاں یعنی بازو زمین سے اٹھا کر رکھنے چاہئیں۔اور پیٹ بھی رانوں سے جدا رہے اور سینہ زمین سے اونچا ہو۔ (صلوٰۃ الرسول، ص216)
واضح رہے کہ بریکٹ میں لکھے گئے الفاظ حدیث مبارکہ کے نہیں بلکہ غیرمقلد ذہن کی اپنی اختراع ہیں۔ چونکہ غیر مقلدوں کا مذہب ہی اہلسنت احناف کی مخالفت کرنا ہے اس لیے اس حدیث کو انہوں نے مرد و عورت کے ایک جیسے طریقۂ نماز کی دلیل بنا لیا۔
حالانکہ کتبِ حدیث میں مرد و عورت کے جدا جدا طریقۂ نماز پر متعدد صحیح احادیث موجود ہیں۔
غیرمقلد عالم نواب وحید الزماں نے اپنی کتاب میں حنفی مذہب ہی کے مطابق عورتوں کی نماز کا طریقہ لکھا ہے۔ (کنزالحقائق، ص22)
امام بخاری و امام مسلم کے استاد امام ابن ابی شیبہ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کتاب المصنف (مطبوعہ بیروت) میں عورتوں کی نماز کے حوالے سے مندرجہ ذیل ابواب قائم کیے اور ان میں کئی احادیث روایت کیں۔
باب فی المرأۃ اذا افتتحت الصلاۃ الی أین ترفع یدیہا…
(مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص239)
باب المرأۃ کیف تکون فی سجودہا… (مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص269)
باب فی المرأۃ کیف تجلس فی الصلاۃ… (مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص270)
ان ابواب سے عورتوں کی نماز سے متعلق چند احادیث پیشِ خدمت ہیں۔
136۔ حدثنا ہشیم قال أنا شیخ لنا قال سمعت عطاء سئل عن المرأۃ کیف ترفع یدیہا فی الصلاۃ قال حذو ثدییہا۔
حضرت عطاء سے جب سوال ہوا کہ عورت نماز میں اپنے ہاتھوں کو کہاں تک اٹھائے؟ تومیں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا، چھاتی یعنی سینہ کے برابر۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص239،حدیث نمبر:2486)
137۔ عن حماد أنہ کان یقول فی المرأۃ اذا افتتحت الصلاۃ ترفع یدیہا الی ثدییہا۔
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ عورت جب نماز شروع کرے تو اپنے ہاتھوں کو چھاتیوں تک اٹھائے۔
عورت کا سجدہ کرنا:
138۔ عن الحارث عن علی قال اذا سجدت المرأۃ فلتحتفر ولتضم فخذیہا۔
حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ عورت جب سجدہ کرے تو سمٹ جائے اور اپنی رانوں کو ملا لے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص269، حدیث نمبر:2793)
139۔ عن بکیر بن عبداللّٰہ عن ابن عباس انہ سئل عن صلاۃ المرأۃ فقال تجتمع وتحتفر۔
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ سے عورت کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا، اکٹھی ہوکر اور سکڑ کر نماز ادا کرے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص270، حدیث نمبر2794)
140۔ عن لیث عن مجاہد انہ کان یکرہ أن یضع الرجل بطنہ علی فخذیہ اذا سجد کما تضع المرأۃ۔
حضرت لیث کہتے ہیں کہ حضرت مجاہد ناپسند فرماتے تھے کہ مرد سجدہ کرتے ہوئے عورت کی طرح اپنے پیٹ کو اپنی رانوں پررکھ دے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص270، حدیث نمبر2796)
141۔ عن ہشام عن الحسن قال المرأۃ تضطم فی السجود۔
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ عورت سجدوں کی حالت میں سکڑ کر رہے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص270، حدیث نمبر2797)
142۔ عن ابراہیم قال اذا سجدت المرأۃ فلتلزق بطنہا بفخذیہا ولا ترفع عجیزتہا ولا تجا فی کما یجا فی الرجل۔
حضرت ابراہیم نخعی فرماتے ہیں، عورت جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملائے اور اپنی پشت کو نہ اٹھائے اور اپنے اعضاء کو ایک دوسرے سے اس طرح دور نہ کرے جس طرح مرد، دُور رکھتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج1، ص270، حدیث نمبر2798)
143۔ ان النبی ﷺ مر علی امرء تین تصلیان فقال اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی الارض فان المرء ۃ لیست فی ذلک کالرجل۔
نبی کریم ﷺ دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا، جب تم سجدہ کرنے لگوتو اپنے جسم کا بعض حصہ (یعنی پیٹ رانوں کے ساتھ اور بازو) زمین کے ساتھ لگا لیا کرو۔ کیونکہ عورت (کے سجدے) کا طریقہ مرد کی طرح نہیں ہے۔ (سنن کبری للبیہقی، ج2، ص223، حدیث نمبر:3325)

